تحریر : نیاز احمد کھوسہ ایڈوکیٹ
دوہزار آٹھ میں میری پوسٹنگ ضلع ایسٹ میں تھی اُس وقت ایک فیملی مزار قائد پر
گھومنے آئی تھی اور مزار قائد گھومتے گھومتے اُن کی ایک 18 سال کی نوجوان لڑکی رضیہ
قبرا غائب ہوگئی تھی۔ مزار قائد سے لڑکی کی گمشدگی کی وجہ سے میڈیا میں بڑا شور
مچا اور کیس ہائیپروفائل ہوگیا اس وقت کے آئی جی جناب اظھر فاروقی صاحب کے طرف سے مجھے حکم ہوا کہ میں کیس کو خود دیکھوں
تیسرے دن لڑکی مزار قائد سے نکلی اور گیٹ کے پاس کھڑی رینجرز کی
موبائل کو بتایا کہ مجھے اغوا کرکے تین دن تک ریپ کیا جاتا رہا ہے ۔ رینجرز نے
فورن لڑکی تھانہ برگیڈ کے حوالے کردی ۔ میں بھی تھانہ برگیڈ چلا گیا ۔ لڑکی کا بیان
بڑا ہوش رُبا تھا ۔
لڑکی نے بتایا کہ مزار قائد گھومنے کے دوران ایک لڑکے پاس جگ اور
گلاس تھا اور میرے قریب آکر گلاس میں جگ سے شربت ڈالا اور مجھے دیا اور مجھے پیاس
بھی لگی تھی میں فورن پورا گلاس پی گئی اُسی لمہے میرا سر چکرانے لگا مجھے اتنا یاد
ہے کہ لڑکا مجھے ایک چوکیدار کے چھوٹے کمرے میں لے آیا ۔
میں نے اپنی نگرانی میں لڑکی کا میڈیکل کروایا اور لڑکی اور لڑکی کے
کپڑوں سے ڈی این اے کے سیمپل لیئے گئے۔ لڑکی کی نشان دہی پر چوکیدار کیلئے بنے ایک
چھوٹے کمرے کو چیک کیا گیا تو وہاں زمین پر ایک چٹائی اور کچھ صفائی کے کپڑے ملے ۔
چٹائی اور صفائی کے کپڑوں پر بھی انسانی صواب کے بہت سے نشانات تھے جن کو بھی ڈی این
اے کیلئے بھیج دیا گیا ۔
کچھ ماہ بعد ڈی این اے رپورٹ موصول ہوگئی جس نے ہمارے ہوش اُڑا دیئے
- چوکیدار کا کمرہ شاید ہمیشہ غلط کام کیلئے استعمال ہوتا رہتا تھا چٹائی سے تقریبا
6 ہزار کے قریب ڈی این اے حاصل کیئے گئے تھے ۔ 6 ہزار ڈی این اے کی رپورٹس کو ہم حکومت کے مشورہ سے پی گئے تھے کہ پورے دنیا
میں بدنامی ہوگی ۔
لڑکی کی اور لڑکی کی کپڑوں کی ڈی این اے رپورٹ بھی آگئی تھی۔ کیس میں
جو پیش رفت ہو رہی تھی نئے آنے والے آئی جی جناب شعیب سڈل صاحب اور بابر خٹک صاحب
اور کراچی پولیس چیف کو میں بتاتا جارہا تھا ۔
پہلے مرحلے میں مزار قائد پر کام کرنے سارے عملے کی لسٹ بڑی احتیاط
سے مرتب کی گئی اور میں نے اپنی ذاتی اسٹاف کو تعنات کرکے کھانے پینے کی اشیا
فروخت کرنے والوں کی لسٹ مرتب کروائی اپنے اسٹاف کو بریف کردیا تھا کہ پلین کپڑوں
میں اسپیشل برانچ کا عملہ ظاہر کرکے مزار قائد کی سیکورٹی کے نام پر مزار قائد پر
کام کرنے والوں کا نام / شناختی کارڈ / فون نمبر حاصل کیا جائے ۔
یہ صبر آزما کام ہم مہینوں تک کرتے رہے اور جب لسٹ مرتب ہوگئی تو
سرکاری ملازمین کو بیان کیلئے ایک دن اپنے دفتر بلوالیا اور سب کو ڈی این اے سیمپل
کیلئے جناح اسپتال بھیج دیا گیا اور کھانے پینی کی چیزیں بیچنے والوں کو اپنے دفتر
بلا کر ان کے ڈی این اے سیمپل لیئے گئے ( مزار قائد کے کیس کو مھینے ہوگئے تھے میڈیا
اس کیس کو بھول چکا تھا اور ابھی تک ایک بھی مُلزم گرفتار نہیں کیا گیا تھا )
تین چار ماہ بعد ڈی این اے کا رزلٹ آگیا مُلازمین اور مزار قائد پر چیزیں
بیچنے والوں 3 ملزمان کے لڑکی سے حاصل شُدہ ڈی این اے میچ کرگیا تھا ۔ سارے ملزمان
دفتر بلاکر گرفتار کر لیئے گئے ۔ سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ
Policing without Police
کے اصول پر ملزمان گرفتار ہوسکتے ہیں ۔ پولیس کو استعمال کیئے بغیر ڈی
این اے کی وجہ سے سارے اصل ملزمان گرفتار کرلیئے گئے تھے ۔
آخر میں 2013 میں ٹرائل کورٹ
نے ( ٹرائل کورٹ کے جج صاحب کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے ) ریپ کیس مُلزمان کو صرف
اس بنیاد پر رہا کردیا کہ “ ڈی این اے غیر اسلامی ہے “ اب ٹرائل کورٹ کے جج صاحب سے کون پوچھے کہ
اسلامی ڈی این اے کہاں سے لائیں ۔ لوگ اداروں پر اعتماد اس لیئے نہیں کرتے اُس کی
خاص وجوہات ہیں
لاڑکانہ میڈیکل کالج میں کچھ عرصہ قبل دو میڈیکل کی طالبہ کو قتل کردیا
گیا ہے ۔ پولیس اور میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے قتل کیس کے ذمیداری سے بچنے کیلیے
واقعہ کو خودکشی قرار دے دیا ہے اب اطلاعات یہ ہیں کہ مرنے والی لڑکیوں کی دے این
اے رپورٹ آگئی ہے جس میں لڑکیوں سے غلط کاری کے کاری کے متعلق بتایا گیا ہے ۔
اب تو قتل کیس کے مُلزمان کو آسانی سے پکڑا جاسکتا ہے- ڈی این اے خود
بولے گا کہ غلط کاری کرنے والا مُلزم کون ہے ؟
آئی جی سندھ جناب مشاق مھر صاحب جب ایس ایس پی تھے انھوں نے میرے ضلع
ایسٹ تبادلے پر مجھ سے ضلع ویسٹ کا چارج لیا تھا تفتیش کس طرح کی جاتی ہے مُشتاق
مھر صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔ ان سے
صرف اتنی گُزارش ہے کہ تفتیش کو خود مانیٹر کریں اور اُن کے پاس جناب مظھر نواز شیخ صاحب جیسے صاف شفاف کردار
کے مالک نہایت محنتی اور ایماندار ڈی آئی جی لاڑکانہ ہیں ۔ خوش قسمتی سے مظھر نواز
شیخ صاحب لاڑکانہ میں وہ اس ٹاسک پر محنت کر سکتے ہیں ۔
پولیس احسن طریقے سے کام کرکے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کرے اور اپنا فرض ادا کرے۔ عوام مانے یا نہ مانے
مگر مُشتاق مھر صاحب اور مظھر نواز صاحب آپ کا دل اور ضمیر مطمعین ہو کہ ہم نے
شفاف تفتیش کرکے اپنا حق ادا کردیا۔
تفتیش میں روایتی پولیسنگ نہ کی جائے پہلے مرحلے میں مرنے والی لڑکیوں
کے موبائل فونز کی باریک بینی سے کسی ماہر سے فاریرنزک کروائیں میرے خیال میں سندھ
پولیس میں ایسا کوئی آدمی نہیں ہے آپ مسٹر
وسیم جو پہلے CTD میں IT کے ڈپٹی ڈاریکٹر تھے اور آج کل دوسرے
ادارے میں کام کرتے ہیں وہ کیس کے اصل حقائق جاننے میں مدد کرسکتے ہیں
موبائل فونز کی فارنزک سے ناکامی کی صورت میں ڈی این اے کے نسخے کو
آزمایا جائے ۔ ۔ مگر اس میں بڑی احتیاط کی جائے کسی کی فرمائش پر کسی لڑکے کو
ٹارگٹ کرکے ڈی این اے نہ کروایا جائے وہ بھی کسی ماں کا بیٹا ہوگا بیگناہ رگڑا نہ
کھا جائے !!!! مزار قائد کیس میں 200 کے قریب لوگوں کے ڈی این اے کروائے گئے
تھے جو صرف 3 میچ ہو پائے تھے ۔
آجکل پاکستان میں بدقسمتی سے
ڈی این اے بھی کمپرومائیز ہوگیا ہے،
ایسے موقعوں پر دماغ گھوم جاتا ہے کہ آدمی کیا کرے ؟ کس سے فریاد کرے
؟ کس کا در دیکھے ؟