لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر
بلوچ کو عدالت نے ایک اور کیس میں بری کردیا ۔ملزم کے خلاف نیپئر تھانہ کی حدود میں
پولیس پر راکٹ سے حملے کا مقدمہ درج تھا۔ کراچی کی انسداد دہشت گردی اور دیگر
عدالتیں انہیں گواہوں کی عدم موجودگی اور شواہد نا ہونے پر
سترہ مقدمات مٰیں بری کرچکی ہیں۔
لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو رینجرز نے جولائی2005میں
گرفتار کیا۔ گرفتاری کے بعد خصوصی اختیارات کے تحت 90 دن تک عزیر بلوچ کو رینجرز
حراست میں رکھا گیا اور مختلف مقدمات کی تفتیش شروع کردی گئی۔ عزیر بلوچ کے خلاف
شہر کے مختلف تھانوں میں 61 مقدمات درج کئے گئے۔
انسدا د دہشت گردی سمیت دیگر عدالتیں
عزیز بلوچ کو 61 میں سے 17
مقدمات میں باعزت بری کرچکی ہیں۔ بیشتر مقدمات میں استغاثہ ملزم کے خلاف ثبوت اور گوا ہ
پیش نہ کرسکا۔ اب بھی اے ٹی سی
سمیت دیگر عدالتوں میں عزیر بلوچ
کے خلاف 44 مقدمات چل رہے ہیں۔
عزیر بلوچ پر دو رینجرز اہلکاروں کے قتل ، ارشد پپو قتل کیس ،تھانوں
پر حملوں اور قتل و اقدام قتل کے مقدمات درج ہیں۔ پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت میں
انکشاف کیا تھا کہ پراسیکیوشن اور پولیس
اب بھی عزیربلوچ اور لیاری گینگ وار سےغیر محفوظ ہے۔گواہوں اور استغاثہ کو جان
سےمارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔