محکمہ صحت سندھ نے خواتین کی گھر گھر ویکسینشن
کا سلسلہ شروع تو کردیا۔ لیکن ویکسین لگوانے والی خواتین کا رجحان کم ہے۔
گھروں میں موجود خواتین
مختلف وجوہات بتا کر ویکسین لگوانے سے معذرت کرلیتی ہیں۔
خواتین محفوظ ہونگی تو آنے والی نسلوں کا تحفظ
ممکن ہوسکےگا۔ کورونا ویکسینشن کے عمل میں تیزی لانے اور خواتین کو لازمی ویکسین
لگوانے کے لیے محکمہ صحت سندھ نے ڈور ٹو دور ویکسینشن مہم کا آغاز کیا مگر مثبت
نتائج نا مل سکے۔
ضلع وسطی میں ہیلتھ ورکرز پر مشتمل ٹیمیں گھر
گھر جاتی ہیں تو ویکسین نا لگوانے کے مختلف بہانے ملتے ہیں۔ کسی کے پاس شناختی
کارڈ ہی نہیں تو کوئی ویکسین لگواچکا ہے،
کارڈ شوہر ساتھ لے گئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ سینٹرل کی فوکل پرسن ڈاکٹر حرا کا کہنا
ہے کہ کراچی میں ہوئی 50 فیصد سے زائد ویکسنیشن میں خواتین کی ویکسنیشن کی شرح نا
ہونے کے برابر ہے۔ خواتین کو ویکسنیشن کے عمل میں تعاون کرنا ہوگا
گلی گلی ،، گھرگھر دروازوں پر دستک دینے والے ہیلتھ
ورکرز کو ملے جلے رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چار میں سے ایک خاتون ویکسین
لگوانے کی حامی بھرتی ہیں۔
محکمہ صحت سندھ سے وابستہ ہیلتھ ورکرز کی کوشش
ہے کے زیادہ سے زیادہ خواتین کی ویکسینیشن مکمل کی جائے۔ لیکن موجودہ رد عمل کے
باعث اہداف حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہے ہیں۔