2020 (ایک تاریخی سال)


2020  (ایک تاریخی سال)


کراچی، اُم مریم


انسان کی زندگی میں بہت سے ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ حیران رہ جاتا ہے، قسمت سے اسے دھچکا لگتا ہے حالات کے خونی منظر سے۔ یونہی بیسویں صدی کے لوگوں نے بہت عجیب اور دل دہلانے والا وقت دیکھا۔ اس وقت میں جینا نہ جینا برابر محسوس ہوتا ہے۔ ایسی زندگی اور موت کی جنگ میں، میں17 برس کی تھی۔ جب میں نے بہت  سی تکلیف دینے والی چیزیں دیکھی ۔ ان کی شروعات سال  2020 سے ہوئی تھی۔ یہ ایک سال تھا جس نئے سال کی آمد پر خوشیاں منا رہے تھے۔ ۔فرسٹ جَنوری یعنی سال 2020کا  پہلا دن تھا۔  سب خوش تھے اور دعا میں بھی مشغول تھے کے یہ نیا سال خوشیاں اور امن لے آئے۔۔ پر کون جانتا تھا کے اس سال نے دنیا کی آدھی آبادی کو مٹی میں ِملا دینا ہے۔ بلکہ مٹی بھی بہت سے لوگوں کو نصیب نہ ہوسکی۔ ہر کسی کی طرح میں بھی خوش تھی اور اللّه سے دعا کی کہ سب بہتر ہو۔  کچھ دن گزر گئے اور یوں پہلی بربادی نے قدم اٹھایا۔ آسٹریلیا کے بڑے جنگل میں آگ نے رات کے اندھیرے میں اپنے شولے  بھڑکاۓ۔ کیا درد ناک منظر تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں جانور آگ میں جُھلس گئے اور کچھ اس طرح راکھ ہوگئے کہ کوئی جانور درخت پر بیٹھا تھا تو بیٹھا ہی رہ گیا۔ یہ آگ بارش کے کافی دن کے بعد بجھ تو گئی لیکن واللہ! ایک اور عذاب سر پر تھا۔ ایک ایسی بیماری لوگوں میں پھیل رہی تھی کہ جو صرف دوسرے انسان یا چیز کے چُھونے پر موت کا باعث بن جاتی۔ یہ اب تک کی سب سے خطرناک بیماری تھی کیونکہ انسان اچانک ہی مر جاتا۔ حتیٰ کہ مُردے کو بھی چھونااپنی جان گنوانے کے برابر تھا۔ یہ ایک قسم کا وائرس تھا اور اس کی کوئی دوا بھی نہ تھی۔ ایک خاندان کے تَقریباً سارے لوگوں کو دردناک موت دے رہا تھا۔ لوگ اپنوں کو کھونے پر غم میں مبتلا ہوکر خودکشی کر رہے تھے۔ کوئی پانی میں ڈوب جاتا، تو کوئی عمارت سے کود جاتا۔ یہ منظر، لوگوں میں دہشت کا سامان  تھے اِسے میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ پوری دنیا میں سب نے ماسک پہننا شروع کیا کیونکہ یہ وائرس منہ اور ناک سے اندر جاتا ہے۔ اس کا نام کورونا وائرس ہے اور اب بھی 2020 میں مکمل طور پر یہ ختم نہیں ہوا۔  اس سے بچنے کے لیے پوری دنیا کا ہر کاروبار، ہر آمدورفت یہاں تک کہ تعلیمی ادارے تک بند کر دیئے گئے۔ مسلمانوں کے لئے کعبہ شریف کا طواف بھی بند کر دیا گیا۔ اس سال کا رمضان بھی کوئی نہیں بھول سکتا۔ نہ روزی تھی نہ کوئی علاج، پہلی بار زندگی بچانے کے لئے پیسے، روزی اور ساتھ ہی تعلیم روکنی پڑی۔ عالم کچھ یوں خدا کی بڑائی دکھا رہا تھا کہ لوگ سڑکوں پر جماعت بنا کر نوافل ادا کرنے لگے۔ خالق  جو روٹھا تو لوگ موذن بن بیٹھے۔ روز دن میں پانچ کے بجائے چھ بار آذان دی جا رہی تھی۔ گھر کے مرد بھی گھر کی چھتوں پر  آذان کی صدائیں بلند کرنے لگے۔ یہ لمحہ تو کچھ بھی نہ تھا، خدا کی ناراضی کا وہ عالم تھا کہ جو مرگیا وائرس سے اٌسے دفنانے کے لیے رشتے دار ہاتھ تک نہ لگاتے۔ افسوس کے ڈھیروں لاشوں کو چیونٹی کی طرح کچرے میں پھینک دیا جارہا تھا۔ پھر  لبنان کے شہر میں ایک تاریخی دھماکہ پیش آیا کہ اب جیسے زندگی کی کوئی آس ہی نہ تھی۔ شہر، گھر اور زندگی سب اُجڑتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ ماہِ جون اور جولائی کا آغاز ہی ہوا تھا کہ بارش نے اپنے رنگ دکھانا شروع کر دیے۔ یوں تو بارش اللّٰہ کی نعمت اور رحمت ہے پر اس دفعہ پانی کی موجوں نے تباہی مچادی۔ تیز ہواؤں اور آندھیوں نے تباہی میں بارش کا بھرپور ساتھ دیا۔ کراچی اور باقی ملکوں کے شہروں میں کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور سب کہ ساتھ کراچی بھی ڈوبتا گیا۔ سارے عذاب دنیا پر بُری طرح حاوی تھے۔  وقت نے بازی کچھ اس طرح پَلٹی کہ زندہ رہنے کے لئے قید میں رہنا پڑ رہا تھا۔ میرے بھی قریبی لوگ انتقال کر گئے۔ ایسے محال دور میں میرا زندہ رہنا اللّٰه کی بڑی نعمت ہے۔ اللّٰه کی بادشاہت اور جلال ہم جیسے گناہ گاروں پر غضب ڈھا ہی رہاتھا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ مر رہے تھے۔ کوئی بچّہ بھی نہیں بھول سکتا کہ کس طرح اس سال نے درجنوں زندگیاں نغل لیں اور رب کی طرف روح کو مائل کر گیا۔ یہ سال ہمیں بہت کچھ سکھا گیا۔ اس نے نقصان تو کیا ہے مگر کچھ فائدے بھی دے گیا۔ جیسے کاروبار اور مصروفیات سے ہٹ کر اپنے گھر والوں کہ ساتھ وقت گزارنا سِکھا گیا۔ خاص طور پر لوگوں کا اللّٰه سے روحانی تعلق مضبوط کرنے کا کام انجام دے گیا۔ بے شک ہر کام رب کے حکم سے ہوتا ہے پر 2020 تاریخ میں بہت دل دہلانے والا سال تھا۔ ساتھ ہی لوگوں کے آپس میں محبت کا ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ سب نے مال و دولت کو پیچھے رکھ کر جانی اور اخلاقی طور پر ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی۔