کراچی میں خون ناحق کی گتھی 9برس بعد سلجھ گئی۔۔۔کراچی سے سال 2017 کے دوران لاپتہ ہونے والا شخص تحقیقات کے دوران مبینہ قاتل نکلا، پولیس نے لاپتہ شخص کی بیوی کی نشاندہی پہ منگھوپیر کے مکان سے کھدائی کرکے انسانی ہڈیا ں برآمد کرلیں
کراچی میں
نوجوان کو قتل کرکے لاش زمین میں چھپادی گئی اور 9سال تک کسی کو خبر نہ ہوئی۔۔۔سال
2017 میں کورنگی ابراہیم حیدری سے لاپتہ
ہونے والے نورزمان نامی شخص کے معاملے پر جے آئی ٹی بیٹھی
تو لاپتہ شخص کی سابقہ بیوی مریم سے رابطہ ہوا۔۔۔تفتیشی حکام خاتون تک پہنچے تو اس نے انکشاف کیا کہ مسنگ پرسن نورزمان سے اس نے دوسری شادی کی تھی اور سال 2013 میں نورزمان نے اس کے پہلے شوہر
کے بیٹے 17سالہ کامران کو قتل کرکے لاش گھر میں ہی دفنادی تھی
پولیس حکام کے مطابق خاتون مریم کی مدعیت میں مسنگ پرسن نورزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ تھانہ منگھوپیر میں
درج کرکے نشاندہی پر خیر آباد کے
مکا ن سے انسانی ہڈیاں برآمد کرلی گئیں۔۔۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ خاتون نےمقتول
کامران کی بہن کوبھی لاپتہ شخص نورزمان کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا الزام
عائد کیا ہے۔۔۔
پولیس نے منگھوپیر کے مکان سے ملنے والی انسانی
ہڈیاں تحویل میں لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے نمونے حاصل کر لئے۔۔۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ مسنگ پرسن
ملزم نورزمان کا تعلق کالعدم تنظیم
سے تھا اور اس کی بھی تلاش جاری ہے جبکہ مقتول کامران کی لاپتہ بہن سکینہ کا سراغ لگانے کے لئے بھی کوششیں تیز کردی
ہیں ۔