اسلام آباد میں اپوزیشن کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول
بھٹوزرداری کا کہناہےکہ وزیر اعظم اپنی انا کے نتیجہ پر اسی نتیجہ پر آسکتا تھا
،وہ خود اگر استفعی دیتا تو وہ آئنی ہوتا اورووٹنگ ہوتا تو وہ جمہوری عمل ہوتا۔
ان کا کہناتھاکہ ہوا یہ کہ عمران خان، صدر اسپیکر ڈپٹی اسپیکر نے آئین
توڑ کر عمران خان کی انا کو سنبھالا،
اعلی عدلیہ نے اس ریفرنس جو صدر زرداری نے بھیجا اس پر فیصلہ نہیں
کرسکے،اعلی عدلیہ فیصلہ کرے کہ آئین کاغذ کا ٹکڑا ہے یا آئین کی پاسداری ہوگی اورایک
فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے جو اس کیس کا فیصلہ سنا دے،اگر ہم بین الاقوامی سازش
کا حصہ ہیں تو ہمیں تختہ دار پر چڑھا دو جمہوریت کا تسلسل چلنے دو۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ ہم سب جمہوریت پسند لوگ ہیں ،1973 آئین
کی بنیاد ہم سیاسی جماعتوں نے رکھی
اورپاکستان کے آئین کا دفاع کرنا ہر ایک پاکستانی کی ذمہ داری ہے
ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہناتھاکہ سابق
وزیر اعظم نے شکست سے بچنے کے لئے سیاسی خود کشی کرلی ،وہ بیانیہ بنا چکے ہیں کہ
انکے خلاف عالمی سازش ہورہی ہے اورایک عدالتی سازش ہورہی ہے تو ایک کمیشن بنائیں
اور سچ ثابت کریں میں آپکے ساتھ ہوں،شرط ہے کہ اس بات آپ سچ بولیں گے۔
ان کاکہناتھاکہ اگر آپ اپنا جھوٹ سڑکوں پر لیکر آئیں گے تو ہم اپنا
سچ سڑکوں پر لیکر آئیں گے،آپ گذشتہ الیکشن میں ہم سے 14 سیٹیں جیتیں تھیں وہ آپ نے
ہم سے چھینی تھیں اورہم نے کل آپ سے حکومت چھین لی ہے اس موقع پر متحدہ اپوزیشن کے
دیگر مقررین نے پریس کانفرنس سےخطاب کیا۔