اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود ڈیڑھ فیصد اضافے کے بعد
تیرہ اعشاریہ سات پانچ فیصد ہوگئی۔
عمومی مہنگائی عارضی طور پر بڑھنے اور آئندہ پورے
سال بلند رہنے کا امکان بھی ظاہر
کردیا۔
کورونااورلاک ڈاون کی
صورتحال کےبعد مانٹری پالیسی میں بتدریج اضافہ دیکھاجارہاہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کےمطابق عمومی مہنگائی غیرمتوقع طور پراپریل میں
دو سال کی بلند ترین سطح تیرہ اعشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی۔
امکان ہے عمومی مہنگائی عارضی
طور پر بڑھے گی اور آئندہ پورے سال بلند
رہے گی۔
پالیسی کی مسلسل غیریقینی نے
شرح مبادلہ پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔عالمی سطح پر روس یوکرین تنازعے کی وجہ سے
مہنگائی میں شدت آگئی ہے۔
چین میں کووڈ کی ایک نئی لہر کے سبب پھر رسدی تعطل پیدا ہوا ہے۔
اس کے نتیجے میں دنیا کے تقریباً تمام مرکزی بینکوں کو اچانک کئی سال
پر محیط بلند مہنگائی کا سامنا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا
کہنا ہے کہ معیشت کووڈ کے بعد مالی سال میں صفر اعشاریہ نو فیصد سکڑنے کے بعد توقع
سے زیادہ تیزی سے بحال ہوئی ہے۔
اعدادوشمارکےمطابق گزشتہ سال مئی دوہزاراکیس سےاگست تک شرح سودآٹھ فیصدپربرقراررہی۔
ستمبراوراکتوبرمیں آٹھ اعشاریہ دوپانچ فیصدہوئی۔
نومبردوہزاراکیس میں نواعشاریہ
سات پانچ فیصد،دسمبردوہزاراکیس سےجنوری،فروری اورمارچ دوہزاربائیس تک دس اعشاریہ سات پانچ فیصدرہی ۔
رواں سال اپریل میں تیرہ اعشاریہ دوپانچ فیصداورمئی میں تیرہ اعشاریہ
سات پانچ فیصدہوئی۔
کورونااورلاک ڈاون کی صورتحال کےبعد مانٹری پالیسی میں بتدریج اضافہ
دیکھاجارہاہے۔