کراچی، جیل چورنگی پر ڈپارٹمنٹل اسٹور کے بیسمنٹ میں لگی آگ ستائیس گھنٹے بعد
بھی ٹھنڈی نا پڑی۔
سیاہ دھویں کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
عمارت مخدوش قرار۔ فائر فائٹنگ کا آپریشن جاری۔
کمشنر کراچی کہتے ہیں ویئر ہاوس غیرقانونی بنایا گیا۔ تحقیقات کے بعد جو ذمہ
دار ہوا ،،اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ایک دن سے زیادہ گزر گیا،، فائر بریگیڈ کا عملہ اسٹور کے بیسمنٹ میں لگی آگ
بجھانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔
عمارت سے نکلنے والا دھواں اطراف کے
علاقے میں پھیل گیا،، جس کے سبب اطراف کی آبادی اور وہاں سے گزرنے والے شہریوں کو
مشکلات کا سامنا ہے۔
فائر افسرکے مطابق عمارت کے بیسمنٹ میں کوکنگ آئل اور کھانے پینے کی اشیا ذخیرہ
کی گئی تھیں۔
اندر داخل ہونے کے لئے صرف ایک راستہ
ہونے کے سبب مشکلات ہوئیں۔
پانچ مقامات سے دیوار توڑ کر کارروائی
کی گئی۔
آگ کافی حد تک قابو میں ہے۔پولیس
نے متاثرہ عمارت کو مخدوش قرار دے کر ملحقہ سڑکیں بند کردیں۔
کالے دھویں کے باعث حد نگاہ بھی متاثر
ہورہی ہے۔
متاثرہ عمارت سے ملحقہ سڑکیں بند ہونے
سےٹریفک جام کی صورتحال کا بھی سامنا ہے۔
کمشنر کراچی اقبال میمن نے میڈیا سے
گفتگو میں کہا کہ آگ کو اوپر کی جانب بڑھنے سے روکا گیا۔
فوم کی مدد سے آگ پر قابو رکھنے میں
مدد ملی۔وئیر ہاؤس میں بڑی مقدار میں کوکنگ آئل موجود ہے،،
جس سے آگ بجھانے میں دشواری کا سامنا ہے۔فائر بریگیڈ کی اٹھارہ گاڑیاں اب بھی آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
اطراف کی عمارتیں بھی خدشات کے باعث
خالی کرالی ہیں۔ وئیر ہاؤس غیرقانونی طور پر بنایا گیا تھا۔
تحقیقات میں واضح ہو جائے گا کہ کس کی
غفلت تھی۔
صوبائی حکومت نے واضح کہہ دیا ہے کہ
جو ذمہ دار ہوگا،،
اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر بھی آگ سے
متاثرہ عمارت کا جائز ہ لیا۔