نازیہ پر عزم ہے کچھ کردیکھانے کے خواب آنکھوں میں بسائے کسی مشکل سے نہیں گھبراتی ۔
کراچی میں نازیہ نے مہنگائی سے تنگ آخرایونٹ مینجر کی نوکری چھوڑکر اپنا خود کا کاروبار شروع کیا ۔لیکن کم وسائل کی وجہ سے کاروبار سڑک پر اسٹال لگاکرہی انہیں شروع کرناپڑا۔
کراچی کے ملینیم مال کے سامنے باجی دال چاول
والی کے نام سے ان دنوں مشہور ہوگئی ہیں۔
نازیہ کہتی ہےکہ مجھے فخر ہے میں خودار ہو، اپنی صلاحیت پر یقین
رکھتی ہوں، ارادوں میں مضبوط ہوں ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کررہی ہوں اور اپنا
کاروبار کررہی ہوں۔
نازیہ کہتی ہیں کہ میں نے زندگی میں کبھی سائیکل بھی اس سے پہلے نہیں چلائی تھی لیکن اب بائیک چلالیتی ہوں نہ صرف بائیک چلاتی ہوں بلکہ اس کے اوپر 19 لیٹر پانی کی بھاری بوتل رکھ کر بھی اب سفر کرلیتی ہوں۔
ملینیم شاپنگ مال کے سامنے باجی دال چاول والی
کے نام سے ایک خاتون نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کیاہے اس سے قبل انہوں نے کراچی کے
بڑے بڑے ریسٹورنٹس
میں کام کیاہے انہیں کامیاب بنایاہے
باجی دال چاول والی کے اس اسٹالز پر آپ کو سبزی اور گوشت کے کھانے بھی مل جاتے ہیں۔جن میں نہاری، قورنہ، پلائو، بریانی، قیمہ ، کلیجی، بھنڈی اور مکس سبزی دستیاب ہے۔
نازیہ کا کہناہےکہ دوسری جگہ پر کام کرنا مسئلہ
نہیں تھا لیکن مہنگائی کے اس دور میں اتنے کم پیسوں میں کیسے گھر چلایا جاسکتاہے۔
اس سے قبل میں مختلف ہوٹلوں پر کام کررہی تھی میں ایونٹ مینجر تھی اور اب ٹھیلہ
چلاتی ہوں لیکن میں اس پر فخر کرتی ہوں میں مطمین ہو مجھےسکون قلب حاصل ہے اس کا مطلب میں اچھا کام کررہی ہوں
میرے مالی حالات بہتر نہیں ہے اس وجہ سے میں دکان خرید نہیں سکتی نہ ہی کرایہ
دے سکتی ہوں
رات کو تین بجے اٹھنا پڑھتا ہے پھر صبح سات بجے یہ بھیجنا ہوتاہے پھر گھر کاکام کرتی ہوں پھر پانچ بجے تک اس اسٹالزپرہوتی ہوں پھر شام میں سامان خریدنے جاتی ہوں ،
سماجی مسائل ہوتے ہیں لوگ گاڑی روک کر خاص طور
پر رکتے ہیں دیکھتے ہیں اللہ مدد کررہاہے میں یہ کام کررہی ہوں شکر گزار ہوں اس رب
کا جس نے مجھے قوت اور طاقت بخشی ہے جس کی مدد سے میں یہ سب کام کررہی ہوں
نا مساعد حالات میں بس جو لگا رہے ہیں وہ کھا
رہے ہیں ابھی تک تو بس گھر چلانے کا مشن لیکر آئی ہوں
کچھ لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہوتاہے
معاشرہ کتنا گر چکاہے ۔
میں پر اعتماد ہوں ہم کسی سے ڈرتے نہیں ہے آگے
کام کرینگے لیکن ہم نے ایک قدم آگے بڑھ کر چلنا ہے ہمت نہیں ہارے گے
میری کوشش ہے میں اپنے اس چھوٹے سے اسٹالز کو ریسٹورنٹ میں تبدیل کرنے کی خواہش مند ہوں باقی جو میرے رب کی رضا وہی ہوگا
۔کسی کے مالی حالات بہتر نہیں ہوتے وہ فری میں
بھی مانگتاہے جو مزدور ہے میں اسے کم پیسے اور کبھی فری میں بھی دے دیتی ہوں ،
اللہ برکت دینے والا ہے۔