قوت گویائی اور سماعت سے محروم لانڈھی کے رہائشی وسیم حیدر زیدی نے بھی مصوری کے فن کو شہداء کی قربانیوں کے نام کیا ہے۔

عرفان علی عرفان علی

 قوت گویائی اور سماعت سے محروم لانڈھی کے رہائشی وسیم حیدر زیدی نے بھی مصوری کے فن کو شہداء کی قربانیوں کے نام کیا ہے۔

کراچی کے نوجوان آرٹسٹ وسیم حیدر نے واقعہ کربلا کی عکاسی کرتی پینٹنگز کو امام بارگاہ کی ایک دیوار پر نقش کیا ہے۔


محرم الحرام پر عقیدت مند اپنے اپنے انداز میں شہدائے کربلا سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

قوت گویائی اور سماعت سے محروم لانڈھی کے رہائشی وسیم حیدر زیدی نے بھی مصوری کے فن کو شہداء کی قربانیوں کے نام کیا ہے۔

لانڈھی بابر مارکیٹ کے قریب قائم امام بارگاہ ابوفضل العباس کی ایک دیوار پر واقعات کربلا کو تصویری شکل میں بیان

کیا گیا۔


مدینے سے لیکر کربلا، نہر فرات، حضرت عباس اور امام حسین کی شہادت سے لیکر عید مباحلہ تک کی منظر کشی یوں کی

گئی ہے کہ بچے بھی اسے با آسانی سمجھ سکتے ہیں۔۔


وسیم بچپن سے ہی گویائی اور سماعت سے محروم ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں سےپینٹنگز بنا رہے ہیں، ان کی محنت دیکھ

کر رشک آتا ہے ، لوگ بھی تعریف کررہے ہیں، یہ بول نہیں سکتے تو یہ کام آسانی سے کرپاتے ہیں


وسیم حیدر کا کہنا ہے کہ دیوار پر یہ پینٹنگز بنا کر انہیں بے حد سکون ملا ہے۔

پینٹنگز بناتے ہوئے سکون ملا ، یہ چھوٹا سا نذرانہ ہے ، جب لوگ اسے دیکھتے ہیں تو اچھا لگتا ہے


وسیم حیدر کے والدین بھی امام بارگاہ کی مرکزی دیواروں پر سفر مدینہ ، روضہ امام حسین اور منظر کربلا بنا چکے ہیں۔ کھڑکیوں اور دروازوں پر 72 شہداء کے نام بھی درج کیے گئے ہیں ۔