عدالت میں بجلی کیوں نہیں ؟، سی ای او کے الیکٹرک حاضر ہوں

عمران عمران

عدالت میں بجلی کیوں نہیں ؟، سی ای او کے الیکٹرک حاضر ہوں

سندھ ہائی کورٹ کی بجلی  بند ہونے پر کیسز کی اندھیرے  میں سماعت۔

 سی ای  او کے الیکٹرک  کے وارنٹ گرفتاری جاری۔ عدالت کا ایک گھنٹہ میں تعمیل کرانے کا حکم۔

ہمارا کوئی قصور نہیں۔ پورے ملک کا نظام بیٹھا ہوا ہے۔ کے الیکٹرک  حکام کی وضاحتیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نےریمارکس دیئے  ہمارا س سے لینا دینا نہیں۔

متبادل ذرائع سے بجلی کی فراہمی کے الیکٹرک کی  ذمہ داری ہے۔

عدالتوں کو  بجلی کی بلا تعطل  فراہمی کیسے یقینی بنائیں گے۔

کے الیکٹرک سے تحریری  جواب مانگ لیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں اچانک بجلی بند ہونے سے عدالتیں اندھیرے میں ڈوب گئیں۔

ججز    اندھیرے میں کیسز کی  سماعت پر مجبور ہوگئے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے سی ای  او   کے الیکٹرک  کے قابل ضمانت  وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

 ایڈیشنل آئی جی  کو حکم دیا کہ پولیس کو کہیں سی ای او کے الیکٹرک کو ایک گھنٹے میں لے آئیں۔

کے الیکٹرک حکام نے عدالت میں  پیش ہوکر بتایا کہ بجلی کے الیکٹرک کی وجہ سے بند نہیں ۔ پورے ملک کا نظام بیٹھا ہوا ہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور  نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائیکورٹ کے الیکٹرک کو ماہانہ ساٹھ  لاکھ روپے بجلی کا بل دیتا ہے۔

اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں کہ پورے ملک میں بجلی نہیں  ہے،،، تو ہمیں بھی نہیں ملے گی۔

 بجلی نہیں ہے تو موبائل جنریٹر سے بجلی فراہم کرنا کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے۔

ہم وارنٹ گرفتاری ،،،تب واپس لیں گے۔

حکم دیا کہ لکھ کر دیں کہ  عدالتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیسے یقینی بنائیں گے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے رجسٹرار  ہائی کورٹ کو بھی طلب کیا۔ ان سے پوچھا  کیا آپ کے پاس متبادل ذرائع نہیں۔

رجسٹرار نے بتایا کہ  ہمارے پاس جنریٹر ہیں،، جس سے مرکزی عمارت کو بجلی دی جاتی ہے۔

 عدالت کے دریافت کرنے پر رجسٹرار نے بتایا کہ ہمارے پاس سولر سسٹم نہیں۔

 جسٹس صلاح الدین احمد نے ریمارکس دیئے آپ پرانے دور میں رہ رہے ہیں۔

 آپ سولر سسٹم لگائیں، غور کریں، فائدہ ہوگا۔

پارکنگ ایریا میں شیلڈ لگائے جا سکتے ہیں۔ نیچے گاڑیاں کھڑی ہوں گی اور اوپر سولر سسٹم چل سکتا ہے۔