ملیر سے سعود آباد،ماڈل کالونی سے شا ہ فیصل کالونی ۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

ملیر سے سعود آباد،ماڈل  کالونی سے  شا ہ فیصل کالونی ۔

ملیر سے سعود آباد،ماڈل  کالونی سے  شا ہ فیصل کالونی ۔

کراچی کا حلقہ  این اے دوسو انتالیس مختلف   آبادیوں پر مشتمل ایک  گلدستہ ہے

  پانی ،بجلی، گیس،سیوریج،  تباہ حال انفرااسٹرکچر،،، کون سا مسئلہ  ہے جن کا ان علاقوں کے مکینوں کو سامنا نہیں۔

ملیرسےسعود آباد ۔۔اوراردونگرتک سڑک ترقیاتی کام کیلئےکھودی گئی،، جو آج    تک مکمل نہ ہوسکی۔

حلقہ این اے239میں شامل اکثرعلاقوں کی سڑکیں مکمل یا پھرجزوی طورپرٹوٹ پھوٹ کاشکارہیں۔۔ سیوریج لائنوں  کی تنصیب کےکام آغازہوا۔۔ لیکن رفتارایسی کہ انتظامیہ تعمیراتی سامان سڑک پر رکھ کر۔۔ کام کرنا بھول گئی۔

یہ ماڈل کالونی کی اہم سڑک ہے۔ گڑھےاتنےگہرےکہ اگرکسی طورگاڑی کا پہیہ گڑھےمیں چلاگیا،،، تو  مالی ہی نہیں ،،، جانی نقصان کا خدشہ  بھی لاحق رہتا ہے۔۔

یہاں کچھ کچےعلاقےاورگوٹھ بھی قائم ہیں۔۔ جہاں سڑکوں اورسیوریج کانظام انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے۔۔ جگہ جگہ بہتا گندہ پانی اورگٹرکی نشاندہی کیلئےلگائی گئی کرسیاں اورڈنڈےعلاقےکی حالت بیان کررہےہیں۔۔

حلقہ میں بجلی کی کئی گھنٹوں تک آنکھ مچولی معمول کی بات ہے،، گیس کی بلاتعطل ترسیل سردی میں توچھوڑئیے گرمیوں میں بھی دستیاب نہیں۔۔

شاہ فیصل کالونی میں بھی مرکزی اوررہائشی علاقوں کی سڑکوں کی ازسرنوتعمیرتوچھوڑئیےاسترکاری بھی کئی سال سےنہ ہوسکی۔۔ٹوٹی سڑکوں کا ملبہ بھی بیچ وبیچ جمع ہےجوٹریفک کی روانی میں خلل ڈال رہا ہے۔۔

مکین کہتےہیں کہ ماضی کےانتخابات میں ایم کیوایم ۔۔ تحریک انصاف ۔۔ پیپلزپارٹی سمیت کئی جماعتوں کےامیدوار۔۔ یہاں سےجیتےضرورلیکن  نہ توکوئی نیا تعلیمی ادارہ قائم ہوا،، اورنہ صحت کےبنیادی مراکزبن سکے۔۔

ووٹرز  کہتےہیں کہ اس بار  انتخابات میں ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کرہی کریں گے