ترجمان
پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھاکہ کسی کو میر جعفر کہیں میر صادق کہیں اس کی جتنی
بھی مذمت کریں کم ہے،
آج کا دن بہت مختلف ہے آج میں اپنی ذات
کے لئے نہیں بلکہ ادارے کے لئے آیا ہوں ،
آج میں آپ کے سامنے اپنی ایجنسی کے لئے آیا
ہوں ،
جب جھوٹ کی بنیاد پرتنقید کا نشانہ بنایا
گیا تو میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا، ان کا
کہناتھاکہ
ملک کا مفاد اسی میں ہے ہم آئینی کردار تک محدود ہیں، ان کا کہناتھاکہ
اس ادارے کو کسی ایک گروہ کسی ایک ادارے
کے ساتھ منسلک نہیں ہونا چاہیے،
میں کوشش کروں گا کہ بلا ضرورت سچ نہ
بولوں ،
ہم پر مختلف طریقوں سے پریشر ڈالا گیا،
آرمی چیف نے یہ پریشر ڈالا ہوا ہے کہ آئینی کردار تک خود کو محدود رکھنا ہے،
جنرل باجوہ چاہتے تو اپنے آخری چھ سات
ماہ سکون سے گزار سکتے تھے، انہوں ملک اور ادارے کے حق میں فیصلہ کیا،
لسبیلہ میں ہمارے کور کمانڈر صاحب اور
جوانوں نے اس مٹی کے لئے جان قربان کی،
اس شہادت کو بھی مذاق بنایا گیا ،
جتنا میں انہیں جانتا ہوں، انہوں نے فیصلہ
اس لیے کیا کہ جب وہ چلے جائیں تو اس ادارے کا رول آئینی ہو، نہ کہ اسے متنازعہ
بنایا جائے،
حکومت نے انہیں غیر معینہ مدت تک توسیع
کی پیشکش کی، میں اس کا گواہ ہوں،
ہم بھی حکومت کے نیچے ایک ادارہ ہیں، انکا
کہناتھاکہ
پاکستان کا آئین کسی ادارے کی کردار کشی
کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جب بھی کوئی ایسی بات ہوئی ہے ہم نے اسے حکومت سے رابطہ
کر کے کارروائی کی
جو انکوائری کمیشن بنا ہے وہ ان تمام
شواہد کو دیکھے گا،
اسی لیے کہا کہ غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات
ہون
آرمی چیف نے ملک کے لئے اور ادارے کے حق
میں فیصلہ کیا،