ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ جسٹس محمد علی مظہر کی رائے جاری

نزاہت خان نزاہت خان

ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ جسٹس محمد علی مظہر کی رائے جاری

ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ جسٹس محمد علی مظہر کی رائے جاری

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھٹو کا ٹرائل آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل پر پورا نہیں اترتا تھا۔

جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق ذوالفقار بھٹو کے خلاف ٹرائل میں شفافیت اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وعدہ معاف گواہ کے بیان پر سزائے موت سنانا قانون اور انصاف کے منافی تھا۔

رائے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ججوں کی ذاتی جانبداری نے منصفانہ فیصلے کو متاثر کیا۔ پولیس کی جانب سے بند کیے گئے کیس کو بغیر کسی قانونی جواز کے دوبارہ کھولا گیا جبکہ کیس کو سیشن سے ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ ملزمان کو نوٹس دیے بغیر سرسری انداز میں کیا گیا۔

جسٹس مظہر نے مزید کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے دورانِ ٹرائل بینچ کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، لیکن اس عدم اعتماد کو تسلیم نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا۔ دورانِ ٹرائل طنزیہ ریمارکس سے عدالتی وقار اور غیر جانبداری متاثر ہوئی، جس کے باعث ججز اس قابل نہیں رہے کہ وہ اس اہم کیس میں منصفانہ فیصلہ کر سکیں۔