لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر
زمان کائرہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہےکہ
قاتل خود جج
بن کر بیٹھ گیا، اس کو کیا اختیار ہے کہ کسی پر حملہ کرے اور
قوم جب مشکل
میں ہوتی ہے تب لیڈرشپ کا پتہ چلتا ہے
انکا
کہناتھاکہ بی بی شہید پر پہلا حملہ ہوتا ہے سینکڑوں کارکن شہید ہوئے
بی بی نے
کارکنوں کو کہا اس کو سیاسی طریقے سے دیکھیں گےانکا کہناتھاکہ
بی بی کی
شہادت پر پاکستان میں آگ لگ جاتی ہے
آصف زرداری
نے کہا۔کہ پاکستان کھپے، تو کارکن ٹھنڈے ہوگئے
پاکستان کی
فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے
یہاں حملہ
ہوا وہاں پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہےقمر زمان کائرہ نے کہاکہ
قاتل، ساتھی
سب آپ کے پاس ہے تحقیقات کریں
سمجھتا ہوں
کہ خان صاحب کو تحمل سے بیٹھ کر سانس لینا چاہیے
جمہوریت میں
مطالبات سے انکار نہیں، شرطیں نہیں مانی جاتی
ڈائیلاگ کی
صورت میں درمیانی راستہ نکالنا ہوگا، اپنی ضد پر نہیں اڑنا چاہیے انکا کہناتھاکہ
افغانستان کی
فوج ختم ہوئی، اربوں ڈالر لگ گئے لیکن فوج نہیں بن سکی ، فوج ہتھیار یا پیسوں سے
نہیں بنتی
آئین سے
متجاوز کوئی بھی رول قبول نہیں ، جمہوریت مکالمے کا نام ہے
خان صاحب
مکالمے کا راستہ کھولیں ہم تیار ہیں قمر زمان کائرہ نے کہاکہ
ہم ہندوستان
سے بات کرسکتے ہیں لیکن یہ کیا خان صاحب طریقہ ہندوستان سے تو بات کر سکتا ہوں ان
سے نہیں
خان صاحب کے
رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی تو الیکشن اپنے وقت پر ہوگا
الیکشن ہوگا
تو قیادت فیصلہ کرے گی اکٹھے لڑنا ہے یا اکیلے