ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی شراکت داری کے ساتھ بسٹرڈ پرندوں کے تحفظ کے لیے سی ایم ایس COP15 میں عالمی ایکشن پلان منظور

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی شراکت داری کے ساتھ بسٹرڈ پرندوں کے تحفظ کے لیے سی ایم ایس COP15 میں  عالمی ایکشن پلان منظور



دنیا بھر میں تیزی سے کم ہوتی بسٹرڈ پرندوں کی نسلوں کے تحفظ کے لیے  اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی سطح پر  مشترکہ حکمتِ عملی منظور کر لی گئی ہے۔ جو نہ صرف ان نایاب  پرندوں کی بقا   بلکہ  غیر مستحکم ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بھی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

عالمی اتفاقِ رائے اور ایک نیا روڈ میپ

برازیل کے شہر کیمپو گرانڈے میں 23 سے 29 مارچ 2026 تک ہونے والے کنونشن آن مائیگریٹری اسپیشیز (CMS) کے پندرہویں اجلاس میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا گیا، جب افریقی، یوریشین اور آسٹریلوی  بسٹرڈ پرندوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقسام پر مشتمل ایکشن پلان (Bustard MsAP) کی منظوری دی گئی۔یہ منصوبہ دنیا بھر کے بسٹرڈ پرندوں کی 26 اقسام اور 102 ممالک پر محیط ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔جس کا مقصد ان پرندوں کی تیزی سے کم ہوتی آبادی کو روکنا اور ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانا ہے۔

یہ منصوبہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک عملی رہنما ہے، جو سائنسی تحقیق، مقامی شمولیت، اور خطرات کے تدارک کو یکجا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے پہلی بار مختلف خطوں میں بکھری ہوئی کوششوں کو ایک مربوط عالمی حکمتِ عملی میں ڈھالا گیا ہے۔

پاکستان میں بسٹرڈ پرندے، خطرات اور اہمیت

پاکستان میں پائے جانے والے اہم بسٹرڈ پرندوں میں گریٹ انڈین بسٹرڈ اور ہوبارا بسٹرڈ شامل ہیں، جو خشک اور نیم خشک علاقوں کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ یہ پرندے نہ صرف قدرتی توازن برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں بلکہ مقامی ثقافت اور روایت میں بھی اپنی جگہ رکھتے ہیں۔

تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں ان کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں رہائش گاہوں کی تباہی، غیر قانونی شکار، زرعی زمینوں میں بے ہنگم توسیع، بجلی کی تاروں سے ٹکراؤ، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل شامل ہیں۔ یہ صورت حال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ماحولیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔

سائنسی بنیادوں پر عملی اقدامات کی ضرورت

سی ایم ایس اجلاس کے دوران منعقدہ ایک سائیڈ ایونٹ میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بسٹرڈ پرندوں کے تحفظ کے لیے محض پالیسی سازی کافی نہیں بلکہ زمینی سطح پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔یہ منصوبہ Bustards Without Borders (BWB) نامی عالمی اتحاد کے ذریعے تیار کیا گیا، جس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان بھی اہم شراکت دار ہے ۔ 

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر مینیجر محمد جمشید اقبال چوہدری کے مطابق مؤثر تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اہم رہائش گاہوں کی نشاندہی کر کے انہیں محفوظ بنایا جائے، بگڑے ہوئے علاقوں کی بحالی کی جائے، اور خطرات کو کم کرنے کے لیے مخصوص حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ علاقوں کے ساتھ ساتھ وسیع قدرتی علاقوں میں بھی  حفاظتی   اقدامات کو فروغ دینا ہوگا۔

اسی طرح ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیق اور مسلسل نگرانی کے بغیر کسی بھی منصوبے کی کامیابی ممکن نہیں۔ آبادی کے رجحانات کو سمجھنا، خطرات کی نوعیت کا تعین کرنا، اور ان کے مطابق اقدامات ترتیب دینا انتہائی ضروری ہے۔

زراعت اور تحفظ کا باہمی تعلق

یورپی ممالک کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بسٹرڈ پرندوں کا تحفظ زرعی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ ہنگری کی ماہر ایوا فیجیس کے مطابق اگر کاشتکاری کے طریقے قدرتی تقاضوں کے مطابق ڈھالے جائیں تو نہ صرف پرندوں کا تحفظ ممکن ہے بلکہ زرعی پیداوار بھی متاثر نہیں ہوتی۔

کم شدت والی کاشتکاری، فصلوں کی کٹائی کے اوقات میں تبدیلی، اور کیمیکل کے محدود استعمال جیسے اقدامات اس ضمن میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ یہ ماڈل پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے بھی قابلِ عمل ہو سکتا ہے، جہاں زمین کے استعمال میں توازن پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

مختلف ممالک کے درمیان مشترکہ کوششوں کی اہمیت

بسٹرڈ  نقل مکانی کرنے والے پرندوں  میں شامل ہیں، اس لیے ان کا تحفظ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہ سکتا۔ آسٹریا کے ماہر ڈاکٹر رینر راب کے مطابق وسطی یورپ میں مختلف ممالک کے درمیان مشترکہ اقدامات نے مثبت نتائج دیے ہیں، جہاں بجلی کی تاروں کو زمین کے اندر منتقل کرنے اور رہائش گاہوں کے بہتر انتظام سے ان پرندوں کی تعداد میں استحکام آیا ہے۔

یہ مثال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر ممالک مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں تو پیچیدہ ماحولیاتی مسائل کا حل ممکن ہے۔

پاکستان کے لیے مواقع اور چیلنجز

بسٹرڈ ملٹی اسپیشیز ایکشن پلان کی منظوری پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ ایک طرف یہ ملک کو عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، تو دوسری جانب مقامی سطح پر پالیسی اور عملی اقدامات کو بہتر بنانے کا راستہ بھی کھولتا ہے۔

پاکستان میں اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ضروری ہوگا کہ متعلقہ ادارے، ماہرین، اور مقامی کمیونٹیز ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ آگاہی مہمات، قانون سازی، اور وسائل کی فراہمی بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت

بسٹرڈ پرندوں کا تحفظ دراصل ایک وسیع تر ماحولیاتی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ان پرندوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تو اس سے پورا ماحولیاتی نظام بہتر ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے، اور قدرتی وسائل کے استعمال میں توازن برقرار رکھا جائے۔

نئے عالمی ایکشن پلان نے ایک واضح سمت متعین کر دی ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ممالک اسے کس حد تک سنجیدگی سے نافذ کرتے ہیں۔ اگر اس موقع سے فائدہ اٹھایا گیا تو نہ صرف بسٹرڈ پرندوں کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند ماحول بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔


یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں پیچیدہ ماحولیاتی چیلنجز کا حل پیش کر سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں مقامی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔