کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی شرح روز بہ روز بڑھنے لگی۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی شرح روز بہ روز بڑھنے لگی۔

 

کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی شرح روز بہ روز بڑھنے لگی۔

ٹریفک قوانین سے لاعلمی اور ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کے ساتھ موٹرسائیکل سواروں کی جانب  سے سائیڈ مرر اور ہیلمٹ کا عدم استعمال ۔

حادثات  اور اموات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

رواں سال اب تک کراچی میں کتنے ٹریفک حادثات پیش آچکے ہیں اور عوامل کیا ہیں۔

ٹریفک گذرتے ہوئے ، کسی بھی سڑک کی

سڑک چاہے کو ئی  بھی ہو ۔

حادثے کی صورت میں زیادہ نقصان موٹرسائیکل سوار کوہی اٹھانا پڑتا ہے۔

رواں سال بھی کراچی کی سڑکوں  پر رونما  ہونے والے ٹریفک حادثات اور ان میں اموات کی بڑھتی شرح نے ٹریفک پولیس حکام   کے ساتھ شہر میں ایمبولنس کا بڑا نیٹ ورک چلانے والے فلاحی ادارے ایدھی اور  چھیپا فاؤنڈیشن  کو بھی حیران کردیا ہے

اعدادوشمار  بتاتے ہیں کہ رواں سال کے دس ماہ میں شہر کے تین بڑے سرکاری اسپتال ، جناح ،سول اور عباسی شہید  میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والے 654افراد کی لاشیں لائی  گئیں ، جبکہ زخمیوں کی  تعداد ہزاروں میں ہے۔

ٹریفک پولیس حکام کے مطابق  پیسنٹھ فیصد  ٹریفک حادثات     کا سبب دن اور رات کے اوقات میں بےہنگم انداز میں سڑکوں پر دوڑنے والی ہیوی ٹریفک بنتی ہے ۔

شہر کےضلع غربی میں  سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں  اوران  میں لقمہ اجل بننے والوں میں موٹرسائیکل سوار سر فہرست ہیں

ٹریفک پولیس حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ موٹرسائیکل سواروں کا دوران سفر ہیلمٹ نہ پہننا اور  ہینڈل پر نصب شیشوں کا عدم استعمال حادثے کی  اہم وجہ ہے۔

 سائیڈ مرر نہیں لگاتے نئی بائیک کے ساتھ آتے ہیں لیکن یہ اتاردیتے ہیں دوسرا ہیلمٹ بھی نہیں پہنتے جس کی وجہ سے ہیڈ انجری  ہوتی ہے

موٹرسائیکل  چلانے والے شہری سائیڈ مرر اور ہیلمٹ کےاستعمال کو ضروری تو قرار دیتے ہیں   مگر ا ن پر عمل کرتے نظر نہیں آتے۔

  ٹریفک پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال ہونے والے ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد میں  70فیصد موٹرسائیکل سوار  شامل تھے۔

سڑک عبور کرتے ہوئے جان گنوانے والوں کی شرح 19 فیصد جبکہ دیگر گاڑیوں میں سوار   جاں بحق افراد کی شرح دس فیصد ہے۔