نیویارک، حسن مجتبیٰ
وہ دسمبر 1971 کے ان
دنوں لاڑکانہ کے کچے میں سور کے شکار پر تھا،
جب ذوالفقار علی بھٹو نے باقاعدہ پاکستان کا
اقتدار سنبھالا تھا۔
اور اسے کچے کے جنگلات میں ہی پیغام ملا تھا کہ
اسے سندہ کا گورنر بنایا گیا ہے
اور وہ کچے سے سیدھا
سندہ کی راجدھانی کراچی آیا
اور اس وقت
سندہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس طفیل علی عبدالرحمان (شیری رحمان کے چچا کے ہاتھوں سندہ گورنر ہائوس میں حلف
اٹھا رہا تھا۔
ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے اس
دور کے رشتہ دار کو اپنا “ٹیلینٹیڈ کزن” قرار دیا تھا۔
ممتاز علی بھٹو
اگرچہ تھا تو لنکنس ان سے بار ایٹ لا ،
لیکن اسکی شہرت
لاڑکانہ اور کچے کے نواب اور دبنگ وڈیرے کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھی،
تب تک جب تک ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنی پاکستان
پیپلزپارٹی نہیں بنائی تھی
اور یہ سابقہ مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کا
رکن ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی کی لاہور میں ڈاکٹر(انجنیئرنگ ڈاکٹر) مبشر حسن کی رہائشگاہ پر
بننےوالی پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہونیوالے اوائلی بنیادی اراکین میں سے تھا ،
اور ذوالفقار علی
بھٹو کیساتھ 1968 میں بدنام زمانہ ڈی پی آر (ڈیفینس آف پاکستان رولز ) کے تحت جیل
بھی گیا تھا۔
یہ پہلی دفعہ تھا کہ بھٹو اسٹبلشمینٹ کے مخالف
ہو رہے تھے۔
وگرنہ بھٹو ہمیشہ
چڑہتے سورج کے پوجاری اور انگریز کے آزمائے ہوئے وفادار سندھی وڈیرے رہےتھے۔
ممتاز علی بھٹو کا والد نواب نبی بخش بھٹو اور
چچا واحد بخش بھٹو انگریز راج میں بمبئی لیجلسلٹو کائونسل اور اسمبلی کے شروعاتی
ممبروں میں سے رہے تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو
کا انگریزوں کا خطاب یافتہ والد سر شاہنواز بھٹو بھی بمبئی لیجسلٹو اسمبلی میں
ممبر رہا اور بعد میں وہ جھوناگڑہ کے نواب کی ریاست کا دیوان اعظم اور وزیر اعظم
بھی رہا تھا۔
اور انگریزوں نے اس صلے مںیں بھٹوئوں کو جائز
اور ناجائز ہزاروں ایکڑ رقبوں سے نوازا تھا جو آج بھی انکی جاگیریں ہیں۔ لاڑکانہ
سے لیکر جیکب آباد کے اضلاع تک۔
تو اس سے قبل ممتاز
بھٹو کی شہرت منفی اور مثبت اپنی ہی جاگیرداری کے اثر والے علاقے جس میں سندہ کے
سرکاری جنگلات کی قبضہ شدہ اراضی بھی شامل ہے تک ہی تھی۔
خاص طور لاڑکانہ اور کچے کے وڈیرے کے طور پر۔
اسی زمانے میں ذولفقعار علی بھٹو کے ایک جیالے وکیل اور لاڑکانہ سے بعد میں وزیر
کی بیٹی کے اغوا میں بھی اسکا نام آیا تھا۔
ممتاز علی بھٹو
آکسفورڈ والے دنوں میں ذوالفقارعلی بھٹو کیساتھ ہی آگے پیچھے انہی سالوں میں آکسفورڈ
میں پڑہا تھا اور کچھ وقت وہ ایک ہی اپارٹمنٹ میں بھی ساتھ رہے تھے۔
ایک دفعہ ممتاز علی
بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ لندن میں اپنے انہی دنوں کے بارے میں بتایا تھا ،
کہ جب وہ لوگ زیادہ
تر اپنا فارغ وقت اور پئسہ پارٹیوں میں صرف کرتے تھے ذولفقعار علی بھٹو اپنے پیسے
کتابوں پر خرچ کرتا تھا اور انکے برعکس شاہ خرچ نہیں تھا بلکہ چھٹیوں میں پئسے بچا
کر اپنی پسندیدہ شخصیات سے ملنے جاتا تھا جن میں برٹرینڈ رسل بھی شامل تھے۔
ممتاز بھٹو کراچی
کلفٹن میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کی اس طرف اپنے بنگلے کی لان میں ہلکی سردیوں
کی اس شام اپنے اس انٹرویو میں ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق اپنی یادداشتیں شیئر کر
رہا تھا اور سورج کب کا سندھو ساگر میں ڈوب چکا تھا۔
سیون اپ کی خالی
بوتلوں کی گردنوں پر مچھروں سے بچنے کیلے انہوں نے گلوب یا جیلیبیاں جلوائیں تھیں۔
مجھے یاد آیا اسی
طرح سندہ کے دیہات اور کچے میں مچھروں سے بچنے کو لوگ اوپلوں کی دھونی جلایا کرتے
ہیں۔ ممتاز بھٹو بیریسٹر اور پڑہا لکھا ہوتے ہوئے بھی اپنی زبان، لہجے، اور اطوار
میں ایک کچے کا وڈیرہ، شمالی سندہ کے تز اور نج سندھی لہجے اور حس مزاح، یادداشت،
اور غصہ والا اور اپنا حساب نہ چھوڑنے والا اور ایک مشاق شکاری تھا۔
مختلف ال اعلی نسل کے کتوں کا انتہائی شوقین اور
ہاتھ سے سوئر کے شکار کا ملکوں ملک مشہور شکاری۔
سوئر کے ہاتھ سے یعنی برچھی لیے ایسے شکار
کرنیوالے کو سندھی میں “ڈپھیر” کہا جاتا ہے۔
وہ مجھے بتا رہا تھا
“ذوالفقار علی بھٹو شکاری نہیں تھا نہ اسے شکار
کرنا آتا تھا لیکن وہ ہماری دیکھا دیکھی میں شکاری ہو گیا تھا۔
پر وہ ہتھیاروں کا ایک بہترین ذخیرہ رکھتا تھا۔
“ پھر وہ ذوالفقارعلی بھٹو کی خوش لباسی پر بات کرنے لگا۔ بل اینڈ ٹرن کی قمیصیں،
اطالوی بڑہیا
جوتے اور کراچی کے
حمید ٹیلرز کے سوٹ۔ کہنے لگا “ وہ عورتوں کیلئیے انکی آنکھیں تھا یا عورتیں اس
کیلیے آنکھیں تھیں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا”۔
وہ مجھے بتا رہا تھا
ایک دفعہ لندن کی سردیوں میں ذوالفقار علی بھٹو رات دیر گئے اپنے فلیٹ پہنچا تھا
اور چابی بھول گیا تھا۔
اور وہ ان کی نیند خراب کرنا نہیں چاہتا تھا اسی
لئیے دیواریں پھلاند کر کر وہ کھڑکی سے چپ چاپ فلیٹ میں داخل ہوا تھا۔
لیکن مجھے ذوالفقار
علی بھٹو کی پہلی بیگم شیریں امیر بیگم نے بتایا تھا کہ ممتاز بھٹو انکا قریبی
نہیں دور کا رشتہ دار تھا۔
المرتضی لاڑکانہ میں
بھٹو خاندان کی ذاتی رہائش والا حصہ تک اس نے بھی نہیں دیکھا تھا۔
مگر اس حصے میں تین
اشخاص کو شب بسری کے مواقع مل چکے تھے۔
ایک یاسر عرفات، دوسری شہزادی اشرف پہلوی اور
تیسرا غلام مصطفی کھر۔ شہزادی اشرف پہلوی تو ذوالفقار علی بھٹو کی خوابگاہ یا بیڈ
روم میں سوئی تھیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو اس رات اجرک اوڑہ کر بچوں کے کمرے میں
سویا تھا۔ مجھے یہ بات ذولفقعار علی بھٹو کے چہیتے ذاتی ملازم عثمان سومرو عرف
فلیشمین نے بتائی تھیں۔
بہرحال ذوالفقار علی
بھٹو نے اپنے اس “ٹیلینٹیڈ کزن” کو پہلے سندہ کا گورنر اور پھر وزیر اعلی اسوقت
چنوایا جب وہ خود شکست خوردہ اور باقاعدہ پاکستان کا صدر اور چیف مارشل لا
ایڈمنسٹریٹر بنا جو کہ خود بہت بڑا تاریخی سوالیہ نشان تھا۔
آپ میں سے کچھ لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب ابھی
مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہیں بنا تھا تو ذوالفقارعلی بھٹو یحیٰی خان کی طرف سے
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ہوکر بھی چین کے دورے کو روانہ ہوا تھا۔ عبوری وزیر
اعظم نور الامین کو بنایا گیا تھا جسکی پارٹی سمیت سات جماعتی اتحاد کو تب “سیون
اپ” کہا جاتا تھا۔
تو باقی ملک کی طرح
سندہ میں بھی بیچینی عروج پر تھی۔ ملک ٹوٹ چکا تھا۔
اپوزیشن زبردست طریقے خود کو منظم کر رہی تھی۔
اندازہ کریں کہ نشتر پارک کراچی میں نیشنل عوامی پارٹی یا نعپ کا کنونشن منعقد ہوا
تھا جس میں خان عبدالغفار خان باچا خان اور شیخ عبدالمجید سندھی جیسے رہنما شریک
ہوئے تھے۔
جی۔ ایم سید کی سندہ متحدہ محاذ پر سے پابندی
اٹھائی ہی گئی تھی لیکن وہ تا حال اپنے گائوں سن میں نظربند تھے۔
سندھی اور بلوچ قومپرست خود کو منظم کر رہے تھے۔
جیلیں ابتک سیاسی قیدیوں سے بھری ہوئی تھیں۔
سندہ یونیورسٹی کا وائیس چانسلر تک غلام مصطفی شاہ گھر پر نظربند تھا جبکہ سندہ
یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل کالج کے اساتذہ اور طلبہ رہنما یحیی خان حکومت کے
ہاتھوں گرفتار پروفیسر غلام علی الانہ، ارجن لال، اور یوسف جکھرانی ، نند لال
وریانی ، زاہد مخدوم اور ایئر فورس کا کورٹ مارشل ہوکر سابق پائیلٹ انور پیرزادو،
سندھی زبان کا سب سے بڑا شاعر شیخ ایاز اور ادیب رشیدبھٹی جیلوں میں تھے۔
جام ساقی کو سابقہ مشرقی پاکستان میں فوجی
کاروائی کیخلاف جلوس نکالنے کے الزام میں یحی خانی فوجی عدالت سے انکی غیر حاضری
میں ملی ہوئی سزا پر عملدرآمد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ہو رہا تھا۔ جسپر ذوالفقار
علی بھٹو نے اپنی حکومت کا یہ فخر یہ کارنامہ قومی اسمبلی کے فلور پر بھی گردانا
تھا۔
میں انہی دنوں سے
کچھ دیر بعد کراچی پہنچا تھا اور میرے محلے کے مجھ سے ذرا بڑے بچے جو دائیں بازو
کے ہنگاموں میں شریک رہے تھے ہمارے محلے پی ای سی ایچ ایس میں تھڑوں پر بیٹھ کر
شراب خانے لوٹنے اور جلانے کے قصے سینہ تان کر سناتے تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو
کی مزدور دوستی، مساوات اور سوشلزم کے تمام دعووں پر سے اسوقت جھوٹی قلعی بری طرح
ہٹی جب لانڈھی اور کورنگی کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں کی ہڑتال پر انتہائی
وحشیانہ پولیس کاروائی ممتاز بھٹو کے حکم پر کی گئی جس میں پولیس فائرنگ اور
بربریت سے کئی مزدور ہلاک ہوئے اور کن کو جلتی کڑھائیوں اور بھٹیوں میں زندہ جھونک
دیا گیا تھا۔
ممتاز بھٹو زندگی کے
آخری دنوں تک ایسے فاشی کاروائی کو اپنا اور اپنی حکومت کا بہت ہی “فخر یہ ایکشن”
بتاتا رہا تھا اور اسے اس پر کوئی ندامت نہیں تھی۔
الٹا اب ملک میں عام
طور اور کراچی سمیت سندہ میں خاص طور بڑھتی بیچینی اور سوالوں سے بچنے، جس میں
انکے سابقہ مشرقی پاکستان میں خون آشام اور شرمناک کاروائیوں میں شریک ہونے کے بعد
چور دروازے سے اقتدار میں آنا بھی شامل تھا سے توجہ ہٹانے اور اپنے اکثریتی سندھی
ووٹر عوام میں جعلی “ہیروپن” دکھانے کیلیے اب وہ فلمی ہیروپن دکھلایا گیا جس کی
کوئی ضرورت نہیں تھی۔
وہ تھا سندھ اسمبلی میں سندھی زبان کو سرکاری
زبان قرار دینے کا بل جبکہ پہلے سے ہی سندھ کی دفتری زبان (سوائے ونیونٹ والے کچھ
عرصے کے) کی حیثیت سے سندھی زبان پولیس۔عدالت اور روینیو میں رائج تھی۔ لیکن ممتاز
بھٹو جسکے اپنے بچے اور گھر والے ایک کو چھوڑ کر شاید ہی سندھی بولتے ہوں اردو
بولنے والے بچوں پر سندھی لازمی کا زبردستی بل تھوپنے کو سندہ اسمبلی میں پیش
کردیا۔ یہ جولائی انیس سو باہتر تھا۔
یہی جولائی کے دن
تھے۔ اردو بولنے والوں پر تب سیاسی طور دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کا اثر تھا جن
میں جماعت سلامی اور جمعیت علمائے پاکستان اور غیر مذہبی لیکن لسانی تنظیم نواب
مظفر کی مہاجر پنجابی پٹھان متحدہ محاذ شامل تھے اور اخبار جنگ اور رئیس امروہی
سمیت کی طرف سے برابر کی آگ لگائی گئی۔
ممتاز بھٹو نے یہ بل
پیش کرتے ہوئے سندہ اسمبلی کے فلور پر کہا تھا “ یہ تو میرے کاندھوں
پر ایک سر ہے اگر دس سر ہوں تو وہ بھی سندہ پر قربان”۔
ایسی بڑھک پر ممتاز بھٹو “سندہ کا ڈہیسر” یعنی دس سروں والا کہلایا ۔
حالانکہ یہ کوئی
نارمل انسانی شکل نہیں دس سروں والا انسان!
انہوں نے آخری عمر تک “ڈہیسر” ہی کہلانا پسند کیا جو
انکے مداحوں نے انپر یہ نام رکھا تھا۔
سندہ میں سندھی
مہاجر لسانی فسادات بھڑک اٹھے جسپر جلد ہی اردو بولنے والے علاقوں میں ممتاز بھٹو
کے “آہنی ہاتھ” نے قابو پالیا لیکن آج تک سندھی مہاجر یا سندھی اور اردو بولنے
والوں کے درمیان جو سندھ میں تعصب اور نفرت کی فضا ہے یا تھی اسکا بانی لاشک ممتاز
بھٹو تھا۔
دوسری طرف “جنگ” اور رئیس امروہی (اسکی ری
سائیکلڈ نظم اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے جو دوران فساد والے پہلے دن جنگ کے
پہلے صفحے پر سیاہ،حا شیوں سے ہر طرف چھاپی گئی) ، پروفیسر شاہ فرید الحق،
ظہورالحق بھوپالی، عثمان کینیڈی، نواب مظفر، جی اے مدنی وغیرہ۔ سندھی اور اردو
بولنے والوں کو اپنی اپنی زبان کے “شہدا” مل گئے۔ دلچسپ امر ہے کہ سندھی زبان کا
پہلا شہید ایک پنجابی دوست محمد پراچہ ہے جو جی ایم سید کے جلسے پر بم حملے میں
ہلاک ہوا تھا۔
مگر یہ خونی ڈرامہ
زیادہ دیر نہیں چلا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کو کراچی آکر برنس روڈ پر اپنی کار سے نکل
کر تقریر کر کے اردو بولنے والے عوام سے معافی مانگنا پڑی اور سندھ اسمبلی میں
سندھی زبان کا بل ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے واپس لینے کا اعلان کر نا پڑا۔ اپنی
تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو نے کہا “مجھے مہاجروں سے کوئی پرخاش نہیں بلکہ میری
اپنی بہن مہاجروں میں بیاہی ہوئی ہے”
لیکن اب پیپلز پارٹی
کی اپنی ریاستی سرکاری سندھی قومپرستی تھی جسکا گھرو گھنٹال ڈھیسر سندہ ممتاز بھٹو
تھآ۔
تو پس عزیزو اب سندہ
میں اس وفاقی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کی ڈھیسر ممتاز بھٹو کی سرپرستی میں
اپنی برانڈ کی
سرکاری سندھی قومپرستی تھی جسکا مقصد ایک تیر سے دو شکار تھا۔ ایک طرف سرکاری
سرپرستی والی قومپرستی سے ریاست مخالف یا بھٹو مخالف سندھی قومپرست تحریک پر کاری
ضرب لگانا تھی اور دوسری طرف پی پی پی ووٹر اکثریتی سندھی عوام میں یہ قومپرستی
والا سرمہ بیچنا تھا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ اب پیپلزپارٹی والوں کا
بھی سندہ میں نعرہ تھا “نعرہ بھٹو نعرہ سندہ جیئے بھٹو جیئے سندہ”۔ کہ ملک کے باقی
صوبوں میں وفاقیت والا سرمہ بیچنا تھا لیکن سندھ میں سندھی قومپرستی والا۔
اس کی ایک مثال پی
پی پی کی ذیلی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سوائے کراچی سندھ میں سپاف
کہلائی جو مخف ہے سندہ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا۔ یعنی س۔پ۔ا۔ف بنتا ہے “سپاف”
۔ممتاز علی بھٹو نے براہ راست سپاف کی سرپرستی کی۔ سپاف کو جیئے سندہ اسٹوڈنٹس
فیڈریشن کے مقابلے میں مکمل ریاستی پولیس، انتظامیہ اور بھٹو کی گسٹاپو ایف ایس
ایف یا فیڈرل سیکیورٹی فورس کی مدد سے میدان میں اتارا گیا۔
سندہ یونیورسٹی جامشورو جہاں اس سے قبل کبھی کوئی بڑی پولیس کاروائی نہیں ہوئی تھی وہاں جیئے سندہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور سپاف کے داد گیروں یوسف جکھرانی اور پیر منور (سابق وزیر پیر مظہر الحق کے بھائی) کے درمیاں تو تو میں میں کے نتیجے میں سپاف سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے دوہرے قتل انٹرنیشنل ہاسٹل میں ہوئے جس میں یوسف جکھرانی، شاہنواز شاہ، اسرار سرکی اور عالم کھوسو کو ملوث بتایا جاتا ہے۔ قتل ہونیوالے نوجوان علی مردان شاہ رقصم اور جان محمد کھہرو تھے اور اسی کی آڑ میں جامشورو کے تینوں کیمپسز سندھ یونیورسٹی، انجنیئرنگ کالیج اور لیاقت میڈیکل جامشورو میں پہلی بار پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مداخلت ہوئی اور بڑے پیمانے پر بیگنہہ یا حکومت مخالف طلبہ اور انکے والدین پر کریک ڈائون کیا گیا۔ سپاف کی غنڈہ گردی کو حکومتی تحفظ اور سرپرستی حاصل رہی۔ سندہ کے ہر تعلیمی ادارے میں سپاف کے لیڈر سندھی قومپرست طلبہ تحاریک کے لوگوں۔ خاص طور جیئے سندہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کیخلاف پولیس و دیگر ایجینسیوں کے مخبر بنے ہوئے تھے۔ روشن شیخ، روشن پنہور، منظور وسان، مختار سہریانی ، پیر منور، بہت سے سرکاری گماشتوں میں سے محض چند نام ہیں جنہوں نے بھٹو حکومت مخالف طلبہ اور کارکنوں کا جینا دوزخ کیا ہوا تھا۔ سندھی کے بڑے افسانہ نگار امرجلیل نے روشن شیخ کی مخالف طلبہ تنظیموں والوں کیخلاف تشدد پر ایک کہانی لکھی تھی “ساں ڑو ساں ڑو ساہ” جس میں اسکے کیریکٹر کا نام قاسم کریلو ہے۔ امر جلیل کے ایک اور افسانے “سرد لاش جو سفر” پر ممتاز بھٹو حکومت نے یہ کہانی شایع کرنے والے “ماہنامہ سوہنی کے مدیر طارق اشرف کے ڈیفینس آ ف پاکستان رولز کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
سپاف کے لیڈروں کی براہ رست شب و روز رسائی اسوقت کے وزیر اعلی ممتاز علی بھٹو تک تھی۔ سپاف کے ہی کئی لیڈروں اور عام کارکنوں چاہے مخالف طلبہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کی مکمل خرید و فروخت کرکر کئیوں کو مراعات والی نوکریوں سے لگایا گیا۔ یوسف جکھرانی کو بھی پولیس میں ایڈیشنل ایس پی لالوکھیت یا لیاقت آباد لگانے کی پیشکش کی گئی تھی۔
سندھی ادیبوں اور
سندھی قومپرستوں کو باقائدہ منہ بند رکھنے کو کن کو عہدے دیے گئے جو نہ مانے تو
انپر ریاستی تشدد کیا گیا اور لمبی مدتوں تک جیلوں میں ڈا ل دیا گیا۔ سندہ کے حبیب
جالب عوامی شاعر ابراہیم منشی کو لمبی جیل اور ایک اور عوامی شاعر سرویچ سجاولی کو
ٹائون کمیٹی کی ایڈمنسٹریٹری دی گئی۔ ابراہیم منشی کا بیٹا دوران جیل وفات پا گیا۔
میرے دوست اور سندھی شاعر ادل سومرو نے منشی کے قید بند اور اسکے بیٹے کی موت پر
ایک نظم لکھی تھی۔ اور لیکن منشی کو پیرول پر رہا نہیں کیا گیا۔
ڈھیسر سندہ نے سندہ
کی طلبہ تحریک میں سندہ کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے“سورمائوں’ میں سے ایک مسعود نورانی
(ایاز لطیف پلیجو کا سسر) کو اپنا پولیٹیکل سیکریٹری مقرر کیا۔ لیکن مخالف اور
باغی سندھی ادیبوں اور طلبہ اور سیاسی و ذاتی مخالفین کیخلاف شدید سیاسی انتقامی
کاروائیاں جاری رہیں۔ اسکی دو بڑی کریہہ تاریخی مثالیں:
میرپور ماتھیلو میں زرعی اصلاحات پر صحیح عمل درآمد کے مطالبے میں ہاریوں میں زمینوں کی الاٹمینٹ کیلے تحریک چلانے والے دو سیاسی کارکنوں اللہ بچایو مرناس اور ماندھل شر کے اسسٹنٹ کمشنر علی شیر قریشی کی سرکوبی میں پولیس کے ہاتھوں کالے منہ کرکر تشدد کرتے ہوئے شہر میں انکا جلوس نکالا گیا اور پھر انہیں ڈیفینس آف پاکستان رولز کی تحت جیل میں ڈال دیا گیا۔
اشوک کمار سندہ
یونیورسٹی انجنیئرنگ کالج کے الیکڑک شعبے کا ہونہار نوجوان لیکچرر تھا۔ اسے ڈی ایس
پی نیاز پیرزادو کے ہاتھوں “وائرلیس برآمد ہونے” کے الزام میں گرفتار کر کر غائب
کردیا گیا اور وہ آج دن تک غائب ہے۔ کچھ دنوں بعد پیپلزپارٹی کے ترجمان سندھی
اخبار ہلال پاکستان و دیگر اشاعتوں میں اشوک کمار کی تصویر کیساتھ اشتہار دیا گیا
کہ،وہ کوٹری پولیس لاکپ سے “فرار” ہوگیا ہے اسی طرح ممتاز علی بھٹو نے ہی سندہ میں
ریاستی گمشدگیوں کو متعار ف کروایا۔ کہتے ہیں کہ اصل میں اشوک کمار انجنئیرنگ کالج
میں سینارٹی لسٹ میں سپاف کے صدر روشن پنہور کے لیکچرر بھائی قربان پنوہر کو “سپر
سیڈ” کر رہا تھا اور اسی لیے اسے راہ سے ہٹایا گیا۔
سیاسی مخالفین پر
تشدد اور سیاسی انتقامی کاروائیاں روزمرہ کا معمول بن چکی تھیں۔ ایس پی محمد پنجل
جونیجو، شبیر کلیار، ڈپٹی کمشنر امداد اللہ انڑ، ہوم سیکرٹری محمد خان جونیجو،
وزرا جام صادق علی، عبدالوحید کٹپر، تھانیدا ملوک چنڑ، ڈی ایس پی نیاز پیرزادو اور
ایسے کئی اسکے مرکزی ولین تھے۔ ممتاز علی بھٹو انکی ماتحت انتظامیہ اور بیوروکریسی
کیلے ایک خوف دہشت کی علامت تھے۔ یا انکا انپراتنا خوف تھا۔ ضیا الحق کی فوجی
آمریت میں اشوک کمار کا کیس کھولا گیا تھا جس میں ڈی ایس پی نیاز پیرزادو کو قید
ہوئی تھی لیکن ممتاز بھٹو کا بال بیکا نہیں ہوا۔۔ نیاز پیرزادہ جو کینیڈا آ گئے
تھے کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہو گیا، کہتے ہیں بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے وزیر
اعلی ممتاز علی بھٹو کے حکم پر اشوک کمار کو قتل کر کر اسکی لاش گھوڑا باری کے پاس
سمندر میں پھینک دی تھی۔
28 اپریل 1973 کو سندہ یونیورسٹی کے سالانہ کنووکیشن میں جیئے
سندہ کے طلبہ نے پاکستان کے انیس سو تہتر کے آئین کیخلاف احتجاج کیا۔ اسوقت وفاقی
وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کو قانون میں ڈاکٹوریٹ کی اعزازی ڈگری دی جا رہی تھی
جسپر جیئے سندہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے احتجاج کیا تھا۔ پیرزادہ اور نوجوانوں کے
درمیاں تلخ کلامی کے دوران پیرزادہ کی طرف سے گالی دینے پر جیئے سندہ کے اسماعیل
وسان نے انکو تھپڑ مارا تھا۔ ہنگامہ کے دوران کنووکیشن پنڈال میں موجود اسوقت کی
گورنر رعنا لیاقت علی خان سے بھی بدتمیزی کی گئی تھی۔ ، بیگم نصرت بھٹو بھی
کنووکیشن کے پنڈال میں موجود تھیں۔ لیکن وہاں موجود وزیر اعلی ممتاز بھٹو نے جب
اسٹیج پر آکر ہنگامہ کرنے والے نوجوانوں سے اپیل کی تو وہ ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔ اس
ہنگامے کے دوران ڈیوٹی پر موجود متعلقہ ایس پی دادو دل کا دورہ پڑنے وہیں فوت ہو
گئے تھے۔ لیکن بعد میں سندہ کی سیاسی تاریخ کا ایک بدترین ریاستی تشدد کنوکیشن کیس
کی آڑ میں سندھی قومپرست نوجوانوں کارکنوں اور انکے والدین اور اہل،خانہ پر کیا
گیا۔
جی۔ایم۔سید کو بھی
نظربند کیا گیا اور انکی نظربندی بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد بھی انیس سو اسی تک
رہی۔
لیکن ذوالفقار علی
بھٹو خاص طور لسانی فسادات کے تناظر میں ممتاز علی بھٹو والے “ڈھیسر سندہ” والے
کیریکٹر پر خفا ہوئے تھے اور خاص طور جامشورو کنووکیشن والے ہنگامے پر اور ممتاز
بھٹو کو وزارت اعلی سے ہٹا کر وفاق میں وزیر مواصلات بنادیا۔ انکی جگہ غلام مصطفی
جتوئی نے وزیر اعلی سندہ کا عہدہ سنبھالا۔
لیکن سندہ میں سپاف
کی سرپرستی پھر بھی جاری رہی اور اب سپاف کے دو دھڑے تھے۔ ایک سپاف ممتاز بھٹو
گروپ،کہلایا اور دوسرا سپاف جتوئی گروپ۔ اپنے پیشرو سے ذرا ہٹ کر ،غلام مصطفی
جتوئی نے سندھی قومپرستوں کو باقائدہ کچلنے کی کوششوں کیساتھ اب حکمت عملی یہ
اپنائی انکی طلبہ تنظیم جیئے سندہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی قیادت کے اندر اپنے تنخواہ
دار ایجنٹ پیدا کیے۔
سپاف ممتاز بھٹو
گروپ کی سرپرستی کے ذریعے سندہ میں جتوئی اور اسکی حکومت کیخلاف بہرحال کھپ چلتی
رہی۔
لیکن ممتاز علی بھٹو
کا عام سندھیوں میں تصور ایک سخت “مہاجر دشمن” اور “سندھی نواز” کا سا رہا۔ اپنی مواصلات و جہازرانی
والی وزارت کے دوران انہوان نے پارٹی کے لوگوں اور اپنے مداحوں کو کراچی پورٹ ٹرسٹ
اور پورٹ قاسم میں اچھی خاصی ملازمتیں دیں۔ ان میں پیپلزپارٹی کے سابق رہنما پرویز
علی شاہ بھی شامل تھا۔ جو ملازم ممتاز علی بھٹو کی وزارت کے دوران زیر عتاب آئے ان
میں ملک سرور اعوان بھی شامل تھا جو پورٹ ٹرسٹ میں ملازم تھا جس نے کراچی میں بعد
میں پنجابی پٹھان اتحاد بناکر انیس سو اسی کی دہائی میں ہونیوالے لسانی فسادات میں
انتہائی منفی کردار ادا کیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو
کیلیے خود اسکا آبائی لاڑکانہ واٹر لو ثابت ہوا جہاں جماعت سلامی کے امیدوار جان
محمد عباسی کے تبکے ڈپٹی کمشنر خالد کھرل کی سرکوبی میں پولیس کے ہاتھوں اغوا نے ذوالفقار
علی بھٹو حکومت کی آنیوالے مہینوں میں کھٹیا ہی کھڑی کردی۔ پنجاب میں وزیر اعلی
صادق قریشی اور سندہ میں غلام م مصطفی جتوئی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کے مصداق
اگر ایسی دھاندھلیاں نہیں بھی کراتے تب بھی بھٹو اور اسکی پارٹی جیت کر آ سکتے
تھے۔
بھٹو کیخلاف دائیں بازو
کی مذہبی ویگر سیاسی جماعتوں کا نو پارٹی یا نو ستارہ اتحاد کے دوران ممتاز بھٹو
پگڑی باندھے سندھ کے دورے پر آئے اورجگہ جگہ انہوں نے عام جلسے کیے۔ انہوں نے کہا
تھا “ نہیں تو پھر ہوگی دما دم مست قلندر”۔
لیکن کچھ ہی دنوں
بعد ذولفقعار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ ضیا الحق نے فوجی بغاوت کے ذریعے الٹا۔
باقی سب تاریخ ہے۔ ممتاز بھٹو بھی بھٹو کی کابینہ کے ان اراکین میں سے تھے جنکو
فوج کی زیر نگرانی نظربند رکھا گیا۔ لیکن انہیں صرف بھٹو کی پھانسی کے کچھ عرصہ
قبل رہا کیا گیا۔
بھٹو کی قید اور
مقدمہ کے دوران اور بعد تک وہ پاکستان پیپلزپارٹی سندہ کے صوبائی صدر مقرر کیے گئے
تھے۔ یہ زیادہ تر سپاف ممتاز بھٹو گروپ کے ہی نوجوان تھے جو سندہ میں ضیا الحق اور
بھٹو کی پھانسی کیخلاف انتہائی سرگرم ہوگئے۔ سپاف ممتاز بھٹو میں انتہائی سرگرم
اور ممتاز بھٹو کے قریبی میرا دوست اشرف میمن بینظیر بھٹو کا پہلا سیکرٹری بنا۔
کئی لوگ الذولفقعار گروپ میں بھی گئے۔لالا اسد شیخ بھی ممتاز بھٹو گروپ کا تھا۔ یہ
جو پیپلزپارٹی کی سندہ میں نذر گاہو سمیت چالیس پچاس سال کی عمر سے اوپر کی سیاسی
لاٹ ہے انکا زیادہ تر تعلق سپاف ممتاز بھٹو گروپ سے ہے۔
ملک کی تاریخ میں
منجھے ہوئے سفارتکار اقبال آخوند نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ ضیا الحق کو چیف
آف آرمی اسٹاف کی ترقی کی سفارش ایک اردن کے شاہ حسین اور دوسرا عبدالحفیظ پیرزادہ
نے کی تھی کیونکہ انکی بیگم سعدیہ حفیظ پیرزادہ ضیا الحق کی رشتہ دار تھی۔
لیکن بھٹو کو پھانسی
کی سزا سے بچانے میں ناکامی کا الزام بہت سے عام لوگ چاہے پیپلزپارٹی کی کئی کارکن
اور لیڈر جہاں حفیظ پیرزادہ پر لگاتے ہیں وہاں ممتاز بھٹو کو بھی بری الذمہ قرار
نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ذولفقعار علی بھٹو پھانسی چڑہایا جا رہا تھا یہ
دونوں لیڈر شادیاں رچا رہے تھے۔ ممتاز بھٹو کی ایک سابقہ بیگم پھر بلاول،ہائوس کے
سیکریٹریٹ میں بھی دفتری کام کرتی رہی تھیں۔
لیکن ممتازبھٹو تو
ضیا کے مارشل لا کے اوائلی سالوں میں زیادہ تر جیلوں میں رہا۔ کراچی سینٹرل جیل
میں الطاف حسین بھی ان دنوں قید تھے۔ ممتاز بھٹو بتا تے
تھے کہ تب کس طرح الطاف حسین فوج اور پولیس سے ڈرتے تھے اور چیخ چیخ کر انکو آکر
کہتے کہ “مجھے بچائو وہ مجھے قتل،کرنا چاہتے ہیں۔”
ایم آر ڈی کی اگست
1983 والی تحریک کے دوران انکے گھر میرپور بھٹو پر فوج نےچھاپہ مار کر انکے اہل
خانہ کو ہراساں اور ان سے بدتمیز کی تھی۔ ممتاز بھٹو کو بھی 1985 تک نظربند رکھا
گیا۔
اسکے کچھ عرصہ بعد
ممتاز بھٹو خودساختہ جلاوطنی میں لندن چلے گئے ۔ یہ وہ وقت تھا جب لندن میں بینظیر
بھٹو سمیت پاکستان سے کئی نامور ضیا مخالف سیاسی شخصیات اور سیاسی منحرفین جلاوطنی
اختیار کیے ہوئے تھے۔ عطا اللہ مینگل، حفیظ پیرزادہ، جام صادق علی، غلام مصطفی
کھر، افضل بنگش، صفدر ہمدانی، ناہید خان، صفدر عباسی ، نیّر حسین ڈار چند نام ہیں۔
یہی یا اسکے آس پاس یہی وہ دن تھے جب بینظیر بھٹو پیپلزپارٹی سے ‘انکلز’ کا صفایا
کر رہی تھی۔ جتوئی، پیرزادہ، کھر اور ممتاز بھٹو ۔
بلوچ اور پٹھان
قومپرستوں سے میل جیل اور انکی دوستیوں نے سندھی بلوچ پشتون فرنٹ کو جنم دیا۔
سندھی بلوچ پشتون فرنٹ کی ابتدائی بنیادی غیر رسمی ملاقاتیں تو کچھ جام صادق علی
کے گھر پر بھی ہوئی تھیں ۔ آخرکار افضل بنگش، عطا اللہ مینگل اور عبدالحفیظ
پیرزادہ نے باقاعدہ سندھی بلوچ پشتون فرنٹ کی بنیاد ڈالی۔ تہتر کے آئین کے ایک اہم
مصنف عبدالحفیظ پیرزادہ اور ممتاز بھٹو اب پاکستان کے صوبوں کیلے وفاقی انتظام
نہیں کنفیڈریشن کا بندوبست چاہتے تھے۔
اسی لئے تو ایک دفعہ قومپرست دانشور اور بلا کے
مقرر حفیظ قریشی نے عبدالحفیظ پیرزادہ،سے کہا تھا “اسماعیل وسان نے تمہیں سندہ
یونیورسٹی میں تھپڑ مارا تھا اور اگر اب وہ لڑکا تمہیں ملے تو اس کو دو تھپڑ رسید
کردینا۔ کیونکہ اب تم پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے اور اسماعیل،وسان اب مسلم لیگ
میں ہے جو تہتر کے آئین میں یقین رکھتی ہے۔
جاری ہے