مچھر کالونی میں پر ہجوم افراد کے ہاتھوں تشدد

عرفان علی عرفان علی

مچھر کالونی میں پر ہجوم افراد  کے ہاتھوں تشدد

کراچی کے مچھر کالونی میں پر ہجوم افراد  کے ہاتھوں تشدد کے نتیجے میں ٹیلی کام کمپنی کے دو ملازمین کی اندوہناک ہلاکت کے معاملے پر سندھ کے محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے تشکیل کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی تحقیقات اور سفارشات پر مبنی اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔

 کمیٹی  نےکچی آبادیوں کی رجسٹریشن سمیت مقیم تارکینِ وطن خاندانوں کی بھی رجسٹریشن کی سفارش کردی۔

کراچی میں اٹھائیس اکتوبرکوپیش آنےاندوہناک واقعےسےمتعلق جانچ کےلیے سندھ کے محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے تشکیل کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی تحقیقات اور سفارشات تیارکرلیں۔

سماجی کارکنان  ایوب کھوسہ کی سربراہ میں قائم چاررکنی کمیٹی  نےجائے وقوعہ اور مچھر کالونی کےدورے کےدوران مقیم آبادی کو درپیش مشکلات کی بھی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ میں ٹیلی کام کمپنی کے دوملازمین کےقتل کو غیرانسانی سانحہ قراردیاگیا۔

سفارشات میں ملزمان کی گرفتاری،  شفاف ٹرائل اور قانون کے مطابق سخت سزائیں دینےپرزوردیاگیاہے۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ متعلقہ تھانہ ،مچھر کالونی سے بہت دور ہے، لہذا علاقے کی حدود میں پولیس چوکی  قائم کی جائیں تاکہ اس طرح کے واقعات یا دیگر جرائم  کی صورت میں جلد از جلد  پہنچناممکن ہو۔