چوتھے ادب میلے میں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کے عنوان سے بھی نشست رکھی گئی۔
اعتزازاحسن کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے نظام کا سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوا۔
پاکستان ایک بوجھ اٹھائے ہوئے ملک کی صورت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
مقررین نے پاکستان بھارت تجارت کی بحالی پر بھی زور دیا۔
بدلتے عالمی نظام میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
چوتھے ادب میلے میں سیاستدان ، بزنس مین اور صحافی سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سالوں نظام کی تبدیلی کا نقصان امریکہ کو اور فائدہ چین کو ہوا۔
خواتین کی پچاس فیصد آبادی ملک کا مسئلہ ہے۔ جبکہ آدھی آبادی اس مسئلے کا حل تلاش کررہی ہے۔
بزنس مین حسین ہارون کا کہنا تھا کہ ہمارے کوگ بھوکے مررہے ہیں ہم ادھار لے رہے ہیں۔ اس کو کون چکائے گا معلوم نہیں ہے
ڈاکٹر تیمور رحمن کا کہنا تھا کہ چین اور بین الاقوامی سیاست کے ساتھ بھارت کی اہمیت ما ذکر ضروری ہے۔
تجارت کے ذریعے کئی مسائل کا حل ممکن ہے۔
صحافی ضرار کھوڑو نے کہا کہ نائن الیون کے واقعے سے چائنہ کو فائدہ ہوا۔
کشور ناہید نے پاکستان اور بھارت کی 46 فیصد نوجوان آبادی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان سے جڑے مسائل کی نشاندہی بھی کی