لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ
خیبر پختونخواہ کے ہمراہ پریس کانفرنس
کرتے ہوئے کہاکہ مشرف کے دور میں اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا جنرل باجوہ نے ہم
پر کروایا،
ہمارے لوگوں کو فون پر دھمکیاں دی گئیں
سوشل میڈیا کے لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے تھے،
اعظم سواتی، شہباز گل کے ساتھ ظلم کیا
گیا،
شہباز گل پر ابھی تک تشدد کے اثرات ہیں،
ان سے امید لگانا کینسر کا علاج ڈسپرین سے کرنے کے برابر ہے، معیشت کو
سنبھالتے تو ہم بھی انہیں کہتے کہ وقت پورا کریں،
اعظم سواتی نے وہ کہا جو سچ ہے،
این آر او جنرل باجوہ نے دیا سب کو پتہ ہے،پہلے ہمیں یہ بتاتے رہے فکر نہ کریں
سب ہو رہا ہے،آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ ان کی نیت ہی نہیں ہے ملک کو ٹھیک کرنے کی،
بعد میں مجھے کہا گیا کہ آپ معیشت کو ٹھیک کریں احتساب کو چھوڑ دیں، چینی صدر
نے شی جن پنگ نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، ملک کو نقصان کو بڑے
چور پہنچاتے ہیں، انہیں پکڑا ہی نہیں جاتا،شہباز شریف کو بچایا گیا، اس کا اوپن اینڈ
شٹ کیس تھا،
شہباز شریف کا بیٹا اب واپس آیا جو ملک سے بھاگ گیا تھا،
جنرل مشرف نے این آر او ون دے کر ملک کو نقصان پہنچایا تھا، اب جنرل باجوہ نے
انہیں این آر او ٹو دے کر ملک کو نقصان پہنچایا، ان پر گیارہ سو ارب کے کرپشن کیسز
تھے،نیب قوانین میں ترمیم سے راجا پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی بچ گئے،
ایک اور ترمیم سے مریم نواز کو چوری سے پاک کر دیا گیا،
شہباز شریف ٹی ٹی کے کیسز سے پاک ہو گیا
اگر جائیداد ثابت ہو جائے تو بتانا ہوتا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا،
انہوں نے یہ قانون ہی ختم کر دیا، آصف زرداری سے بھی کیسز ختم ہو گئے
اب نیب بتائے گا کہ پیسہ کہاں سے آیا،
ملک میں ایک طرف بےروزگاری ہے اور ایک طرف اربوں روپے کی کرپشن معاف ہو رہی
ہے،
جنرل باجوہ نے بتایا ان کے پاس ہمارے لوگوں کی فائلیں اور ویڈیوز ہیں
میں ملک کا دشمن نہیں، 50 سال سے قوم مجھے جانتی ہے، ملک میں سب سے بڑا خیراتی
کام کرتا ہوںیہ سنگین خلاف ورزی ہے کہ وزیراعظم کا فون ٹیپ کیا جائے، پچھلے سال
اور اب کے مقابلے میں بیرونی سرمایہ کاری آدھی ہو گئی ہے
بیرون ملک پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ ڈالرز بھیج رہے تھے اب نہیں بھیج
رہے، ہمارے دور میں ریکارڈ ٹیکس وصولیاں ہوئیںاب سب کچھ نیچے جا رہا ہے، سرمایہ
دار کہتے ہیں انہیں حکومت پر اعتماد نہیں ہےہم نے قرضے کی قسطیں ڈالرز میں واپس
کرنی ہیں،
انہوں نے بس چین اور آئی ایم ایف سے امیدیں لگائی ہوئی ہیں
معیشت کو سنبھالتے تو ہم بھی انہیں کہتے کہ وقت پورا کریں،مجھے خوف ہے ملک ڈیفالٹ
کی طرف جا رہا ہے، ان کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے
یہ صرف الیکشن میں التواء چاہتے ہیں,یہ الیکشن سے خوفزدہ ہیںانہیں ڈر ہے کہ جب
بھی الیکشن ہوئے انہوں نے ہار جانا ہے، سمجھتا ہوں یہ اکتوبر میں بھی الیکشن نہیں
کرائیں گے چیف الیکشن کمشنر بددیانت آدمی
ہے اور ان کے ساتھ ملا ہوا ہے چیف الیکشن کمشنر انہیں طریقے بتاتا ہے کہ کیسے الیکشن
کو التواء دیا جائے،آئین کہتا ہے الیکشن کمیشن کو ہر وقت 90 روز میں انتخابات
کرانے کیلئے تیار رہنا چاہیئے،
انہیں ملک نیچے جانے کی کوئی فکر نہیں ہے،
ملک میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار جنرل باجوہ ہیں
ہمیں ہٹانے کا فیصلہ ہواہمیں ہٹانے کا فیصلہ ہوا،اسٹیبلشمنٹ نے جس کو جدھر
جانے کا حکم دیا وہ چلا گیا، اس کے بعد ہماری حکومت گر گئی
حکومت گرنے کے بعد ہماری مقبولیت بڑھنی شروع ہو گئی،
ضمنی الیکشن ہوئے تو یہ کوششوں کے باوجود ہار گئے
انہوں نے ہم پر ظلم کیا
جنرل باجوہ اپنی غلطی کا احساس کرتے
مشرف کے دور میں اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا جنرل باجوہ نے ہم پر کروایا،
میرے ساتھ آج چودھری پرویز الہٰی اور محمود خان بیٹھے ہوئے ہیںِ،آج بہت اہم فیصلے
کا اعلان کروں گا، ہم سب کو خوف ہے کہ ملک ڈوب رہا ہے
میرا جینا مرنا پاکستان میں ہےسب کو خوف ہے کہ ملک ڈوب رہا ہے، عمران خان
میں باہر کمائی کی، بیس سال باہر پیسے کمائے
فلیٹ بیچ کر، منی ٹریل دئیے، جینا مرنا پاکستان میں ہے،ان کی بات نہیں کر رہا
جو یہاں چوری کر کے پیسہ باہر بھیجتے ہیں،ان پاکستانیوں کی بات کر رہا ہوں جو
سمجھتے ہیں ان کا جینا مرنا پاکستان میں ہےمیرے بچے بھی باہر ہیں برطانیہ کا
پاسپورٹ لے سکتا تھا،
انکی بات نہیں کر رہا تو چوری کر کے پیسہ ملک سے باہر بھیجتے ہیں،
یہاں سے چوری کر کے باہر شاہانہ زندگی گزارتے ہیں،
میں نے کبھی پاکستان سے باہر رہنے کا نہیں سوچا
کسی کاروباری شخص، کسان یا مزدور سے پوچھیں آمدنی اور اخراجات کہاں ہیں،
مجھے خوف آ رہا ہے کہ چووں کا ٹولہ اوپر بٹھایا گیا ہے، یہ ملک کو تباہی کی
طرف لیکر جا رہا ہے،
کسی سرمایہ کار، کسان، مزدور سے پوچھ لیں، آمدن اور خرچے میں کوئی توازن نہیں
رہا،
میں باقی پاکستان کی بات کر رہا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان
میں ہے
آج پچاس سال کے بعد سب سے ذیادہ مہنگائی ہوئی ہے
ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی اس دور میں ہے،مجھے فخر ہے میں نے کسانوں
کی مدد کی،ہمارے دور میں ریکارڈ فصلیں ہوئیں
ہمارے آخری مہینے میں دولت بڑھ رہی تھی، ٹیکسز میں اضافہ ہو رہا تھا،آج کسی ایک
چیز میں بھی بہتری بتا دیں
مایوسی کا یہ عالم ہے کہ ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں
سات ماہ کے دوران بیرون ملک جانے والے یہ افراد پروفیشنل تھے،2018 میں یہ لوگ
ملک کو تباہ کر کے گئے تھے،ہم نے لوگوں کو بےروزگار ہونے سے بچایا، ہم نے کنسٹرکشن
انڈسٹری کی مدد کی،17 سال بعد پاکستان کی دولت میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا تھا، ہمارے
چوتھے سال میں ملکی دولت 6 فیصد پر تھی ایوب خان، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے دور میں
گروتھ ریٹ بڑھا لیکن وہ امریکا کی مدد کر رہے تھے، ہمارے پاس کوئی امریکی ڈالر نہیں
آ رہے تھے لیکن پھر بھی معیشت کو اٹھایامیرا سوال ہے کہ رجیم چینج کا ذمہ دار کون
تھا اور ملکی معیشت بہتر ہو رہی تھی کیا
وجہ تھی کہ چوروں کو اوپر بٹھایا گیا