شہرقائدمیں بلدیاتی حکومت کاآغازانیس سوتینتس سے ہوا۔

عمران عمران

شہرقائدمیں بلدیاتی حکومت کاآغازانیس سوتینتس سے ہوا۔

شہرقائدمیں بلدیاتی حکومت کاآغازانیس سوتینتس سے ہوا۔۔۔جمشیدنسروانجی کراچی کےپہلےمئیرمنتخب ہوئے۔۔۔انیس سوباسٹھ تک  شہر کےتئیس  مئیرمنتخب ہوئے۔۔۔اس کےبعد یہ سلسلہ رک گیا ۔۔۔انیس سو اناسی میں دوبارہ بلدیاتی نظام شروع ہوا۔

شہرقائد میں بلدیاتی حکومت کاآغازسنہ 1933میں ہوا۔

جمشیدنسروانجی کراچی کےپہلےمئیرمنتخب ہوئے،جمشیدنسروانجی  کوبابائےکراچی بھی کہاجاتاتھا۔


وہ 1922میں کراچی میونسپلٹی کےصدرمنتخب ہوئےاوراکتوبر1932تک اس عہدے پرکام کرتےرہے۔


جمشیدنسروانجی انیس سوتینتس میں مئیرمنتخب ہوئے،اگست انیس سوچوانتیس تک مئیررہے۔


1934سے1962تک کراچی کے22مئیرمنتخب ہوئے۔۔۔ان میں یوسف ہارون، محمد ہاشم ، سردار خان، بہادر اللہ، بخش گبول، محمود ہارون نمایاں ہیں۔۔۔1962سے1979تک شہرمیں ایڈمنسٹریٹرسسٹم نافذرہا۔


1979سے1987 تک جماعت اسلامی پاکستان سےتعلق رکھنےوالےعبدالستارافغانی دومرتبہ مئیرمنتخب ہوئے۔


1988میں ایم کیوایم کے 28 سالہ ڈاکٹر فاروق ستار کو کراچی کے کم عمر ترین میئرہونے کا اعزاز حاصل ہوا، 1992 میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔


9سال بعد مشرف حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ14 اگست 2001 میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔


جس کے تحت جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے  نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ2001سے 2005تک ناظم رہے۔


اسی نظام کے تحت اکتوبر2005 میں متحدہ قومی موومنٹ کے مصطفی کمال  نے ناظم اعلیٰ کی سیٹ سنبھالی۔۔۔ وہ فروری دوہزاردس تک ناظم رہے۔


2015 میں ایم کیو ایم کے وسیم اختر میئر بن گئے، جو اگست 2020 تک عہدے پر رہے۔