آئی ایم ایف کی شرائط کہیں یا وقتی ضرورت کا نتیجہ ،،،،انٹربینک میں ڈالرکی قیمت نئی تاریخی بلندی کوچھوکرکمی کی طرف گامزن ہے۔ماہرین کا کہنا ہےکہ ڈالرکی قیمت کوکنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ڈالرکی قیمت میں اتارچڑھاؤپررپورٹ کریں
سات روزمیں ڈالر کی مسلسل مہنگا ہونےکےبعد نئےسال کےپہلےماہ کےآخری روزمیں معمولی ریکوری۔۔ اسٹیٹ بینک کےمطابق ڈالرکی قیمت میں ریکارڈاضافےکےبعد قیمت میں گراوٹ دیکھی جارہی ہے۔۔
ٹریڈنگ کےدوران انٹربینک میں ڈالر4 روپے 63 پیسےتک سستا ہوا،،لیکن ڈالرمیں کاروبارکا اختتام 1 روپے75 پیسےکمی کےساتھ 267 روپے89 پیسےکی سطح پرہوا۔۔
26 جنوری کوڈالر ایکساتھ 24 روپےسےزائد مہنگا ہوکر255 روپے43 پیسوں کی سطح پر بندہوا،، جبکہ ڈالرنےپیر30ستمبرکونئی تاریخی بلندی 269 روپے63 پیسوں کی سطح کوچھو لیا تھا۔
20 جنوری کو ڈالر229 روپے65 پیسوں کی سطح پربند ہوا تھا،،اسٹیٹ بینک کےمطابق 23 جنوری کوڈالر 230 روپے15 پیسوں کی سطح پربندہوا،، چوبیس جنوری کوڈالرکی قیمت 230 روپے40 پیسےریکارڈ کی گئی،25 جنوری کوڈالر 230 روپے89 پیسوں کی سطح پربند ہوا،،27 جنوری کوڈالر کی قیمت 262 روپے60 پیسےریکارڈ کی گئی۔۔ سال 2023 کےپہلےمہینے کےاختتام پرڈالرتاریخی مہنگا ہوچکا ہے