کراچی میں سیمینار۔ سندھ، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بچائو تحریک کی سیاسی و سماجی قیادت، صحافیوں، وکلاء، ادیبوں، ٹیکنوکریٹس نے ڈیجیٹل مردم شماری کو مسترد کرتے ہوئے اسے مظلوم قوموں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش قرار دے دیا۔
کراچی عوامی تحریک کی جانب سے کراچی پریس کلب میں ’’ڈیجیٹل مردم شماری کے ذریعے سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا بند کرو‘‘ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ قبل از وقت غیر قانونی مردم شماری بند کرنے اور مردم شماری کے لیے مختص 35 ارب روپے سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا. سیمینار میں مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں کے ساتھ ادیبوں، ادیبوں، صحافیوں، وکلاء، کسانوں، محنت کشوں اور طلبہ رہنماؤں کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ عوامی تحریک کے مرکزی صدر لال جروار، نیشنل عوامی پارٹی آزاد جموں کشمیر کے رہنما لیاقت حیات، گلگت بچائو تحریک کے کنوینر شبیر میار، عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری نور احمد کاتیار، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری خواجہ نوید، عوامی جمہوری پارٹی کے مرکزی رہنما ایاز چانڈیو، ایڈووکیٹ، مسعود نورانی، خدا ڈنو شاہ، پروفیسر اعجاز قریشی، معروف قانون دان شہاب اوستو، شفیق موسوی، حور النساء پلیجو، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر سیبحانی ڈاہری، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر ڈاکٹر دلدار لغاری، مرکزی جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی، ایس جی ایس ٹی کی مرکزی صدر ساجدہ پرہیار، مہیش کمار، ادریس لغاری، پیر فرخ سرہندی، اسحاق سومرو، انٹلیکچوئل فورم کے سیکرٹری اکبر سمیت مختلف سیاسی سماجی شخصیات ٹیکنیکل ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سیمینار کو خطاب کیا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر لال جوان نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھی عوام کے زندگی اور موت کے مسائل پہ سندھی عوام کا صحیح اور واضح مؤقف رکھنے کے بجائے ڈرامے بازی کر رہی ہے. پیپلزپارٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں میں شامل ہونے کے باوجود مردم شماری کو رکوانے کے بجائے نام نہاد بیان بازی کر کے سندھی عوام کی آنکھوں میں دھول جہونکنے کی کوشش کر رہی ہے پیپلز پارٹی سندھی عوام اور قوم پرستون، جمہوریت پسندون کی جانب سے مردم شماری کے خلاف شروع کی گئی شاندار جدوجہد کو تارپیڈو کرنے کی سازش کر رہی ہے اس لیے سندھ کی جمہوریت پسند اور عوام دوست لوگوں کو چاہیے کہ پیپلزپارٹی کی ڈرامہ بازی میں آنے کے بجائے ڈیجیٹل مردم شماری کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں. سندھ اسمبلی بھی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ ابھی تک ایک کروڑ سے زائد سیلاب متاثرین اپنے گھروں کی جانب واپس نہیں جاسکے
تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک کروڑ سے زائد لوگ اور ان کے مکان کیسے گنے جائیں گے. سندھ میں پچاس لاکھ سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اس صورتحال میں وفاق کی جانب سے وقت سے پہلے مردم شماری کراکے سندھیوں کی تعداد کو کم کرنے کی سازش کرنے کہ ساتھ سندھ میں موجود غیر قانونی طور پر رہنے والے افغانیوں اور دوسرے غیر ملکیوں اور دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کو سندھ کا شھری شمار کر کے سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے اس سازش میں سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی بھی ملوث ہے اس نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تو پھر کس بنیاد پر بنا شناختی کارڈ کے مردم شماری کراکے غیرملکیوں کو گنا جا رہا ہے یہ مردم شماری ملکی آئین کی سنگین توہین ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان از خود نوٹس لیکر اس مردم شماری کو رد کرنے کا حکم نامہ جاری کریں. اس نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تقسیم میں 82 پرسنٹ آبادی یعنی مردم شماری کی شرط ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ معدنی وسائل فراہم کرنے والے صوبوں کے ساتھ نا انصافی ہے. این ایف سی کی تقسیم میں آبادی کے شرط کو کم کرکے روینیو ٹیکس کلیکشن معدنی وسائل قدرتی وسائل میں سے ہونے والی آمدنی کو شامل کیا جائے اس نے کہا کہ یہ آدمشماری رکوا کے سندھ میں آباد لاکھوں غیر ملکیون کو ملک نکالی دے کر اس کے بعد مردم شماری کا عمل اپنے آئینی وقت پر شروع کیا جائے. عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری نور اہم نکات ہم نے کہا کہ سندھ کو اربوں نو کا فتح کیا گیا علاقہ سمجھ کر سندھ میں افغانیوں اور دوسرے غیر ملکیوں کو سندھ کا شہری شمار کرکے ان کو ساری سہولیات دے کر سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے ہم وفاقی حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ سندھ کو فتح کیا ہوا علاقہ نہیں ملک سن 1940 کی قرارداد کے ساتھ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حفاظت میں پاکستان میں شامل ہوا تھا پاکستان کو بنانے میں اہم کردار سنتا تھا اس نے کہا کہ سندھی عوام کی پر امن جدوجہد کے باوجود بھی وفاق اپنی مرضی پر وائم ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے دیئے گئے فیصلے کے خلاف کر رہے ہیں اس نے کہا کہ مردم شماری کا مسئلہ سندھ کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے.
حورنساءِ پلیجو:
نادرہ نے جعلی شناختی کارڈ کا اجراء کیا ہے ۔ نادرہ اور آدمشماری ایک مزاق بن گئے ہیں۔ ہم سب کو سندھ کی حفاظت کرنی ہوگی۔ جاگیرداروں نے ہمیشہ اپنی منمانی کی ہے۔ ہمیں یہ جعلی آدمشماری قبول نہیں ہے۔
سبھانی ڈاہری:
ہم تین ماہ سے مسلسل عملی جدوجھد میں ہیں، حکمران بے حس ہوگئے ہیں عوام کی بات نہیں سن رہے ہیں، جو ملک اپنے شہریوں کو ایک ساتھ نہیں لے کر چلتے وہ مٹ جاتے ہیں ، جب عوام اٹھےگا تو ان کو چھپنے کی جگہ ملےگی،ہمیں یکجہ ہوکر جدوجھد کرنی ہوگی۔
خواجہ نوید:
سنگ یونائیٹڈ پارٹی
ہماری محبت سندھ ہے،ہم عوامی تحریک کو سرہاتے ہیں جس نے مسلسل جدوجھد کر کے آدمشماری کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے، پی پی پی قراردار پاس کر کے اپنے اختیارات وفاق کو دییے ہیں،مندوخیل نے پٹھانوں کو ڈومیسائل 6 ماہ میں دلا دیتے ہیں، پی پی پی منافق ہے، ہم آدمشماری کی پرزور مذمت کرتے ہیں ہم اسے قبول نہیں کرتے۔
اسحاق سومرو:
1914ع میں آدمشماری مذہب کے بنیاد پر کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ جو آدشماری ہوئی ہیں وہ دیہاتی اور شہری ہونے کے بنیاد پر ہوئی ہیں۔1951ع ،1961ع،1972ع،1982ع، میں آدم شماری ہوئی تھی اس کے بعد 40 برسوں تک کوئی آدمشماری نہیں ہوئی، اب ہر 5 سال بعد آدمشماری ہو رہی ہے،2011ع میں کراچی کی آدمشماری 2 کروڑ 13لاکھ تھی اور 2017ع میں کراچی کی آدمشماری 1 کروڑ 60 لاکھ دکھائی گئی ہے۔
کراچی،حیدرآباد،میرپورخاص اور سکھر میں سندھیوں کو اقلیت میں دکھایا گیا ہے، ہمیں اپنے شہری علاقوں میں سرگرم ہونا ہوگا اور سندھیوں کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ شہروں کا رخ کریں۔
خدا ڈنو شاھ:
سماجی رہنما
عوامی تحریک نے کانفرنس منعقد کر کے اچھا کام کیا ہے یہ آدم شماری تکراری ہے،پوری سندھی قوم اس آدم شماری کے خلاف سڑکوں پر ہے ،ہم آدمشماری کو رد کرتے ہے۔
یہ فارمیلٹی آدمشماری فوری بند کی جائے،ایم کیو ایم کو 56 یونین کائونسلز بڑھا کر دی گئی ہیں، غلط طریقار سے کی گئی آدم شماری کے نتائج بھی غلط ہونگے۔
شہاب اوستو ایڈووکیٹ
سندھ کے اندر ایک بھرپور قسم کا ردعمل موجود ہے، آدمشماری کے خلاف سارے حلقے جدوجھد کر رہے ہیں،ہمیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہمیں سب چیزیں نظر میں ہیں، سندھی قوم بیدار ہے۔پی پی پی منافق پارٹی ہے،اور اس نے کراچی میں سندھیوں کو بسانے کے لیئے ایک کالونی بھی نہیں بنائی ہے، اگر ہم نکل پڑے تو ان کے راستے کرینگے
۔
انٹلیکچوئل فورم کے رہنما اکبر:
آدم شماری ناقص ہے اور اس میں حصہ نہیں لینا چاہیے، آدم شماری پر خرچہ ہونے والا پیسا سیلاب متاثرین پر خرچ کیا جائے، ملک میں معاشی بحران ہے۔
ادریس لغاری:
کراچی سندھیوں کا ہے،کراچی پر میلی آنکھ رکھنے والوں کی آنکھیں نوچ دیںگے،یہ جعلی،بوگس،غیر قانونی آدم شماری بند کی جائے۔
پير فرخ سرھندی۔
جمال پل کے قریب سندھی آبادیوں کی گھرشماری نہیں ہوئی ہے۔ میڈم روضیہ کو شکایت کی تو انہوں نے ہمیں مسلسل ٹال کر رکھا اب ہمیں اس آدمشماری میں گنا نہیں جا رہا، کئی سندھی آبادیوں میں آدم شماری کا عملہ جا ہی نہیں رہا۔ہمیں کہا جا رہا ہے کہ آپ خود اپنے بندے مقرر کر کے خود ہی آدمشماری کریں، ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہمیں اس مہم میں شمار ہی نہیں کیا جائیگا۔۔۔
خواجہ نوید:
سنگ یونائیٹڈ پارٹی
ہماری محبت سندھ ہے،ہم عوامی تحریک کو سرہاتے ہیں جس نے مسلسل جدوجھد کر کے آدمشماری کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے، پی پی پی قراردار پاس کر کے اپنے اختیارات وفاق کو دییے ہیں،مندوخیل نے پٹھانوں کو ڈومیسائل 6 ماہ میں دلا دیتے ہیں، پی پی پی منافق ہے، ہم آدمشماری کی پرزور مذمت کرتے ہیں ہم اسے قبول نہیں کرتے۔
شبیر معیر:
75 سال گذرنے کے باوجود ہماری کوئی شناخت نہیں ہے،اس مردم شماری میں ہماری شناخت کو مکمل ختم۔کیا گیا ہے، ہمیں مل کر ان منصوبوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انٹلیکچوئل فورم
مسعود نورانی
آپ کی جدوجہد دیکھ کر رسول بخش پلیجو صاحب کی روح ضرور خوش ہوگی۔پاکستان بننے کے پہلے دن سے سندھیوں کو دیوار سے لگایا گیا ہے ، سندھ کو اپنے حقوق کے لیئے خود لڑنا ہوگا، ایم کیو ایم فاشسٹ جماعت ہے، اگر آدم شماری درست نہیں کی گئی تو پاکستان نہیں چل پائیگا۔
قراردادين
قبل از وقت ڈیجیٹل مردشماری غیرقانونی اور غیر آئینی ہے۔ ڈجیجٹل مردشماری کے چوغہ میں چھپی سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے والی اور ملک کے بنیادون کو ہلانے والی سازش بند کرو۔ عوامی تحریک کی جانب سے منعقدہ سیمینار کی قراردادیں۔
سندھی عوام سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سرکار وفاقی حکومت کی آلہ کار بن کر غیر قانونی ڈجیٹل مردمشماری کے ذریعے چھ ھزار سالہ تاریخ رکھنے والی سندھی قوم کی نسل کشی کر کے سندھی قوم کے قومی وجود کو تباہ کر کے قومی، ملکی اور بین الاقوامی جرم کا ارتکاب کر رہی ہے. سندھی عوام اپنے تاریخی قومی وجود اور وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں سندھ کے تمام باشعور افراد، ادیبوں، شاعروں، سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں، وکلاء، صحافیوں اور مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے باشعور افراد، جنہوں نے آج کے اس سیمینار میں شرکت کی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیرقانونی ڈجیٹل مردمشماری کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے غیر قانونی عمل کو روکا جائے، پاکستان کے بنیادوں سے کھیلنے کا سلسلہ فورن روکا جائے۔ سندھ میں گزشتہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے شدید بارشوں اور تباھ شدہ اور ناقص آب نکاسی کے نظام کے باعث آنے والے سیلاب نے ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومت سندھ کے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کے باعث پاکستان بھر میں 23 لاکھ مکان مکمل طور پر مسمار ہوگئے۔ جس میں سے سندھ میں 14 لاکھ گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں اور سات لاکھ مکان جزوی متاثر ہوئے۔ بدترین سیلاب کے باعث کروڑوں انسانوں نے اپنے مکان، گائوں اور شھر چوڑ دیے ہیں۔ جبکہ کچھ واپس ہوئے ہیں اور ابھی تک اپنے مکانات اور گاؤن و شہروں سے دور ہیں۔ سندھ کے کئی اضلاع میں ابھی تک برساتی پانی موجود ہے۔ اس صورتحال میں آدمشماری ناممکن ہے۔ حال ہی میں سندھ اسمبلی نے ڈجیٹل آدمشماری کے معاملے پر قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کروڑ سیلاب متاثرین اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکتے۔ جبکہ دوسری جانب تھر پارکر سے ہزاروں خاندان بھوک و افلاس سے تنگ آکر گندم کی کٹائی کے لئے بیراجی علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان کو بھی ابھی شمار میں لانا ناممکن ہے ۔
وفاقی حکومت جبکہ سیلاب زدہ سندھ اور سندھ کے بے گھر لوگوں کی مدد کرنے، اور انہیں اپنے گھروں میں بسانے کا بندوبست کرنے، گھروں کی مرمت کرنے اور بیشتر علاقوں میں موجود سیلابی پانی نکالنے کے بجائے سندھ کے عوام کے شدید اعتراضات کے باوجود قبل از وقت آدم شماری کرانے پر بضد ہے۔ سندھ کا عوام سمجھتا ہے کہ مردمشماری صرف انسانی گنتی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سندھی قوم کے تاریخی وجود و بقا اور پاکستان کے بنیادوں کے تحفظ سے منسلک مسئلہ ہے ۔ گزشتہ 75 سالوں کے دوران وفاقی ریاست طاقت اور ڈنڈے کے ذریعے چھوٹی قوموں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کرتی رہی ہے، چھوٹی قوموں بالخصوص سندھ اور بلوچستان کے قدرتی اور معدنی وسائل پر قبضہ کرکے انہیں دیوار سے لگا رہی ہے۔ لہٰذا سندھی عوام گزشتہ 75 سالا اقوام دشمن روش سے یہ استخراج کرتی ہے وفاقی حکومت عالمی مغربی سامراج، ان کے دیسی گماشتوں اور ایم کیو ایم کی ایماء پر مردم شماری کروا کے لاکھوں افغانی، برمی اور دیگر غیر ملکیوں کو شمار کرکے سندھی عوام کو اپنے تاریخی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے کی اور سندھ کو تقسیم کرنے کی مجرمانہ سازش کر رہی ہے۔ جب سے ڈجیٹل مردم شماری کا اعلان ہوا، سندھ کے تمام قوم دوست، محب وطن، قوم پرست تنظیمیں، سندھ کے باشعور لوگ، ادیب، شاعر، صحافی، سول سوسائٹی کے نمائندے، وکلاء، آبادگار، طلباء، کسان، مزدور اور سندھ سے تعلق رکھنے والے بہت مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے پرامن احتجاج کے ذریعے اسے مسترد کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود حکمران پاکستان کے لئے پہلے قرارداد پیش کرنے والے سندھی عوام کی آواز سننے کے بجائے جبری طور پر مردم شماری کرانے پر بضد ہے۔
جیسا کہ سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس میں واضح کیا تھا کہ کراچی میں چالیس لاکھ سے زائد غیر قانونی غیر ملکی مقیم ہیں جو منشیات، دہشت گردی، لاقانونیت، قبضے، اسلحے کی فروخت سمیت دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ یہ غیر ملکی ایک اندازے سے اب تک بڑھ کر 60/70 لاکھ ہو چکے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کیا اور لاکھوں غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ بلکہ گزشتہ برس اشرف غنی کے حکومت کے خاتمے، آمریکہ کی واپسی کے بعد افغان پناہ گزین کو جب وفاق، پختون خواہ، بلوچستان اور پنجاب بھی اپنے پاس رکھنے کے لئے تیار نہیں تھا تب پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے انہیں یہاں پہ بسایا. دیکھا جائے تو گزشتہ پندرہ سالوں میں پیپلز پارٹی اقتدار کے لالچ میں سندھ کے تمام قومی مفادات پر سودے بازی کرتی رہی ہے۔ چند روز قبل محکمہ شماریات کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈجیٹل مردم شماری کے طریقہ کار پر سی سی آئی اجلاس میں کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔
اس آدمشماری کی بدنیتی اس بات سے عیاں ہے کہ ایک طرف بڑے شہروں میں زیادہ اسٹاف رکھا گیا ہے اور دوسری طرف دیہی علاقوں میں کم اسٹاف رکھا گیا ہے جس کی ایک مثال کراچی ہے۔ کراچی میں جہاں گنجان آبادی ہے وہاں ایک گنتی کرنے والے ملازم کو 1500 افراد کی گنتی کا ہدف دیا گیا ہے. جبکہ دیہی اضلاع اور ایسے علاقوں میں جہاں گاؤں اور آبادی ایک دوسرے سے بہت دور رہتی ہے، وہاں ایک گنتی کرنے والے ملازم کو 1700 افراد کی گنتی کا ہدف دیا گیا ہے جو کسی بھی طرح حاصل نہیں ہو سکتا اور اس کے نتیجے میں لوگ گنتی سے باہر رہ جائیں گے۔
سندھ کے تین اضلاع شکارپور، گھوٹکی اور کشمور میں لاکھوں لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں، بدامنی اور لاقانونیت بھی اس حد تک ہے کے پولیس بھی ان علاقوں میں نہیں جا سکتی اور انہوں نے جانے سے انکار کر دیا ہے تو پھر شماریات کا عملا وہاں کیسے پہچے گا؟ عملہ نہ پھچنے کی صورت میں لاکھوں لوگ گنتی سے باہر رہ جائیں گے۔
تھر کاچھو، کوہستان جیسے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں بھی گنتی کرنے والوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں لاکھوں افراد کا گنتی سے محروم رہنے کا خدشہ ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کے اس صورتحال میں وفاق کی جانب غیرقانونی طور پر مردم شماری کروانے کا مطلب ہے کے سندھی عوام کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے سندھ کے وسائل پر قبضہ کرنا۔ڈجیٹل ادمشماری کے ذریعے تعداد میں ہیرا پھیری کر کے سندھی عوام سے حکمرانی کا حق چھیننا اور سندھ کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا ہے.
سندھی عوام سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سرکار وفاقی حکومت کی آلہ کار بن کر غیر قانونی ڈجیٹل مردمشماری کے ذریعے چھ ھزار سالہ تاریخ رکھنے والی سندھی قوم کی نسل کشی کر کے سندھی قوم کے قومی وجود کو تباہ کر کے قومی، ملکی اور بین الاقوامی جرم کا ارتکاب کر رہی ہے. سندھی عوام اپنے تاریخی قومی وجود اور وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں سندھ کے تمام باشعور افراد، ادیبوں، شاعروں، سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں، وکلاء، صحافیوں اور مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے باشعور افراد، جنہوں نے آج کے اس سیمینار میں شرکت کی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیرقانونی ڈجیٹل مردمشماری کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے غیر قانونی عمل کو روکا جائے، پاکستان کے بنیادوں سے کھیلنے کا سلسلہ فورن روکا جائے اور مردم شماری کے لیے مختص رقم سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے۔
اگلی مردم شماری سے قبل کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے دیے گئے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں غیر ملکیوں کو ان کے ممالک واپس بھیجا جائے۔
اوپر بیان کیے گئے تمام حقائق اور بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ سندھی عوام کے شدید احتجاج کے بعد بھی اگر جبری مردم شماری کرائی گئی اور سندھی عوام کو ان کے وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیئے من گھڑت نتائج دینے کی سازش کی گئی تو پھر سندھ کا عوام ایسے بوگس غیر قانونی غیر آئینی طاقت اور ڈنڈے کے زور پر بنائے گئے من گھڑت نتائج کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔