وزیر اعظم عمران خان نے کہاہےکہ افغانستان میں
غلط تاثر موجود ہے کہ پاکستان کو عسکری ادارے کنٹرول کرتے ہیں اور ہمیشہ سے یہی
مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی طریقے سے ممکن ہے بد قسمتی
سے یہ سراسر بھارت کا پھیلایا ہوا پراپگینڈا ہے۔
یہ بات اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے پاک افغان یوتھ فورم کے
وفد کی ملاقات کے دوران کہی ۔ملاقات میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں و ایڈیٹرز
اور فلمسازوں نے شرکت کی۔
وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ سے ہندوستان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، ہندوستان امن نہیں چاہتا کیونکہ وہ آر ایس ایس کے نظریے کے ریرِ تسلط ہے، انہوں نے کہاکہخطے کا کوئی اور ملک پاکستان کی کوششوں سے برابری کا دعویدار نہیں ہو سکتا، اس کی تائید امریکی نمائندہِ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہےکہ میری حکومت کی
خارجہ پالیسی 25 سالوں سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ رہی ہے، ،پچھلے تین سالوں سے
حکومت میں رہ کر میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں حکومت کو اس مؤقف پر عسکری اداروں کی
مکمل حمایت حاصل ہے۔
کرکٹ کی تاریخ میں افغانستان نے بہت کم وقت میں ترقی کی، جہاں افغان ٹیم اب ہے اس مقام تک پہنچنے میں دوسرے ممالک نے ستر سال لگائے، اس کی وجہ افغان مہاجرین کا پاکستان میں قائم کیمپوں میں کرکٹ کا سیکھنا ہے.
عمران خان نے کہاکہ حالیہ بیانات میں
افغان رہنماؤں نے پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا، پاکستان نے امریکہ
اور پھر افغان سے مذاکرات کیلئے طالبان کو قائل کرنے کی سخت جدوجہد کی، جب تک
بھارت اپنے 5 اگست کے اقدام کو واپس نہیں لیتا اس سے بات چیت ممکن نہیں،
بھارت نے 5 اگست 2019 میں اقوامِ متحدہ کی قرار
دادوں کی خلاف ورزی کی، بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا، بھارت
نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے نئے باب کا اغاز کیا، پاکستان 1948 سے کشمیریوں کے
حقوق کے تحفط کیلئے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کر رہا ہے۔
اس موقع پر معاون خصوصی شہباز گل، سینیٹر فیصل
جاوید اور اعلیٰ حکام بھی شریک تھے ان کے ساتھ ملاقات میں وزیر اطلاعات فواد چودھری،
وزیر مملکت فرخ حبیب بھی موجود تھے۔