جبری کورونا ویکسی نیشن کے خلاف شہری کی درخواست مسترد۔ سندھ ہائی کورٹ نے درخواست گزار پر جرمانہ بھی
لگایا دیا۔ ریمارکس دیئے کورونا وائرس کا شکار شخص چلتا پھرتا بم ہے۔ ایک شخص دو
سو لوگوں کو بیمار کرے گا۔
سندھ
ہائی کورٹ میں دوران سماعت جسٹس شفیع محمد
صدیقی نے ریمارکس دیئےیہ ایک خطرناک وبا بتائی جا رہی ہے۔ حکومت کو صرف آپ کی صحت
کی فکر نہیں۔آپ کے ساتھ دیگر کی بھی صحت کا معاملہ ہے۔ عدالت نے درخواست گزار سے
کہا یہ بتائیں، جبری ویکسی نیشن آپ کے کون سے حقوق کو متاثر کر رہی ہے اور جبری ویکسی
نیشن کا نوٹی فکیشن کہاں ہے۔ عدالت نے
درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست
گزار پر پچیس ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ قانون سازی کے بغیر جبری ویکسین نہیں لگائی
جا سکتی۔