اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےنئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، پالیسی ریٹ کو21 فیصد پرمستحکم رکھا گیا ہے

نزاہت خان نزاہت خان

 اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےنئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، پالیسی ریٹ کو21 فیصد پرمستحکم رکھا گیا ہے

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےنئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، پالیسی ریٹ کو21 فیصد پرمستحکم رکھا گیا ہے،

اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا،، شرح سود کو21 فیصد برقراررکھنےکا فیصلہ آئندہ دوماہ کیلئےکیا گیا ہے،، اس سے قبل بھی اسٹیٹ بینک نےشرح سود میں 100 بیسززپوائنٹس کا اضافہ کیا تھا۔

 

پالیسی کمیٹی نےواضح کیا کہ مئی 2023 میں مہنگائی 38فیصد پر پہنچ چکی ہے۔۔ اپریل اور مئی کے بلند مہنگائی کے اعدادوشمار زیادہ تر توقع کے مطابق ظاہر ہوئےہیں،، ملکی غیریقینی کیفیت کےسبب بیرونی کھاتے پرمسلسل دباؤ ہے۔ جاری کھاتے کے توازن میں مارچ اور اپریل 2023 کے دوران مسلسل فاضل ریکارڈ کیا گیا جس سےزرمبادلہ کے ذخائر پردباؤ کم ہوگیا اجناس کی عالمی قیمتیں اور مالی حالات کچھ بہترہوئے ہیں۔

مالی سال 23کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 0.3 کم ہوئی، گنے اور گندم کی  بمپر فصلوں اور گلہ بانی کے شعبے میں اضافہ ہوا، جس سےکپاس اور چاول کی فصلوں کو سیلاب سے  ہونے والے نقصانات  کی بڑی حد تک تلافی کردی

گاڑیوں، پیٹرولیم مصنوعات اورملکی سیمنٹ کی فروخت کےحجم میں ڈبل ڈیجٹ میں کمی ہوئی، برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں کمی ہوئی، زری پالیسی کمیٹی کا خیال ہے کہ موجودہ پالیسی موقف  برقرار رکھنا ضروری ہے

تاکہ مالی سال 25 کے آخر تک مہنگائی کو کم کرکے  5 تا 7 فیصد کے وسط مدتی ہدف تک لایاجاسکے۔