چار دہائیاں قبل ملک میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت اور مارشل لاء کے خاتمے کے لیے ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے موومنٹ فار دی ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (ایم آر ڈی) تشکیل دیا تھا۔ یہ جدید پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے سب سے بڑا مشترکہ اتحاد تھا۔
تحریک کا باضابطہ آغاز 14 اگست 1983 کو ملک بھر میں ہوا۔ پہلے مرحلے میں سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑے شہروں بشمول کراچی، لاہور، کوئٹہ، اور پشاور کے علاوہ دیگر شہروں میں کیا گیا۔ سندھ میں تحریک کا آغاز بڑی تیزی سے ہوا جس مین لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سندھ میں رہنماؤں کی گرفتاریوں کے دوران ہزاروں افراد جمع ھوجاتے تھے۔
جب کارکن گرفتاریاں دینے کے لۓ نمودار ہوتے تو لوگوں کا ہجوم ان پر ہار ڈالتا، نعرے لگاتا اور تھانوں کی طرف مارچ کرتاتھا ۔ انہیں پولیس اور ایجنسی کے دیگر اہلکار راستے میں گرفتار کر کے لے جاتے تھے ۔ گرفتار ہونے والوں میں اکثریت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی تھی، جب کہ سندھ میں بائیں بازو کی جماعتیں، سندھی عوامی تحریک (رسول بخش پلیجو)، اور جمعیت علمائے اسلام بھی شامل تھیں۔
تحریک کے چند دنوں میں سندھ سے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ سندھ کی جیلیں اور تھانے بھر گئے۔ پولیس اور انتظامیہ کو رات کے وقت جیلوں میں رکھنا مشکل ہوگیا۔ تھانوں میں گرفتار ہونے والوں کو رات کو گھر بھیج دیا جاتا تھا، اور وہ صبح واپس تھانوں میں آجاتے تھے۔ پولیس کے ساتھ جھڑپیں، روڈ بلاک، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور توڑ پھوڑ روز کا معمول ھوتا تھا۔ تھانے کا عملہ بھی گرفتاریاں کرتے سے کتراتے تھے ۔ تحریک کے دوران بہت سے پولیس کانسٹیبلوں نے اپنے فرائض انجام دینے سے انکار کر دیا اور اپنی ٹوپی اور بیلٹ پھینکنا شروع کر دیے جس سے بالخصوص سندھ میں سول نافرمانی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ خبروں کا واحد ذریعہ اخبارات تھے، میڈیا پر سنسر شپ تھی۔ بی بی سی لندن کی خبریں سننے کے لیے لوگ روزانہ شہروں اور دیہاتوں میں جمع ہوتے تھے۔
کئی شہر روزانہ بند رہتے۔ جہاں کرفیو جیسی صورتحال تھی۔ اس تحریک میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور مذہبی سکالرز کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے کئی کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔ میرا صحافتی سفر بھی 1983 میں ایم آر ڈی تحریک کی رپورٹنگ سے شروع ہوا۔
ایسے میں اس وقت کے سندھ پیپلز پارٹی کے صدر غلام مصطفی جتوئی جو ایم آر ڈی تحریک کی قیادت کر رہے تھے، اس نے گھارو ریسٹ ہاؤس سے ایک خط لکھ کر پارٹی کارکنوں سے تحریک روکنے کا پیغام دیا، لیکن سندھ کے عوام نے ان کی کال کو مسترد کر دیا اور سندھ میں کئی ماہ تک تحریک چلتی رہی۔ ابتدائی دنوں میں مورو اور خیرپور ناتھن شاہ کے قصبوں میں نصف درجن کارکنوں کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گولیان مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ دادو میں روزانہ ہونے والے جلوسوں اور خصوصاً خواتین کے احتجاج نے بھی اس تحریک کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی بخشی۔
ایم آر ڈی تحریک کا سب سے بڑا واقعہ 42 سال قبل 29 ستمبر 1983 کو سکرنڈ شہر کے قریب قومی شاہراہ پر پیش آیا۔ جہاں پارٹی کارکنان اور سینکڑوں دیہاتی احتجاج کر رہے تھے، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید اور 51 زخمی اور گرفتار کر لیے گئے۔ جلوس کی قیادت کرنے والے 70 سالہ پنہل خان چانڈیو اور ان کے بیٹے غلام عباس چانڈیو کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر خیرپور کی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں سخت سزائیں دی گئیں۔ شدید زخمی کارکنوں کو کئی مہینوں تک نواب شاہ کے سول ہسپتال میں رکھا گیا اور بعد میں لے جا کر قید کر دیا گیا۔
شہداء میں سے 9 کسان، دو سکرنڈ ہائی سکول کے طالب علم اور ایک ڈھول بجانے والا منگنھار تھا جو گلیوں میں ڈھول بجا کر خوشیاں پھیلاتا تھا۔ ایک سکرنڈ شہر میں مزدوی کرتا تھا، ایک دکان چلاتا تھا، ایک دودھ والا تھا اور ایک بکریاں چرانے والا تھا۔ ان سب کا تعلق نچلے طبقے سے تھا۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی۔ جو لوگ اس دن زخمی بھی ہوئے تھے انہیں دوسرے زخمیوں اور لاشوں کے ساتھ ملٹری ٹرکوں میں پہلے نواب شاہ کے فوجی کیمپ اور پھر نواب شاہ کے سول ہسپتال لے جایا گیا۔
میں اور سکرنڈ سٹی سے میرے کچھ صحافی دوست جائے وقوعہ پر پہنچے تو قومی شاہراہ پر شہداء اور زخمیوں کا خون ابھی تک خشک نہیں ہوا تھا۔ ان کے جوتے، چپل اور دیگر سامان بکھرا ھوا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مظاہرین خالی ہاتھ تھے، قرآن پاک کی تلاوت کرنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور وحشیانہ کارروائی 4 گھنٹے تک جاری رہی۔ بہت سے زخمی فوجی ٹرکوں کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے اور بہت سے لوگ اذیت میں مر گئے۔ بی بی سی نے اس واقعے کی خبر 29 ستمبر 1983 کو اپنی خبر میں پہلی خبر کے طور پر نشر کی، اور ریڈیو پاکستان نے بھی یہی خبر نشر کی ، جس میں کہا گیا کہ آج سکرنڈ کے قریب قومی شاہراہ پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شرپسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 16 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔
اگلی صبح سکرنڈ شہر سے سینکڑوں لوگ گاؤں پنہل خان چانڈی پہنچے جہاں شہداء کے ورثاء اپنے پیاروں کو سپرد خاک کر رہے تھے۔ ورثاء کے علاوہ ایم پی اے غلام قادر چانڈیو بھی موجود تھے جو لوگون سے تعزیت لے رھا تھا ۔ ان کے والد پنہل خان چانڈیو اور بھائی غلام عباس چانڈیو سمیت ان کے خاندان کے افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ غلام قادر چانڈیو محنت کش طبقے کے نمائندے ہیں جو مسلسل 30 سال سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔1995 میں بے نظیر بھٹو نے انہیں چھ سال کی مدت کے لیے سینیٹ آف پاکستان کا رکن منتخب کیا۔ اس کے بعد وہ پانچویں مرتبہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ غلام قادر چانڈیو 2002 کے الیکشن سے لے کر اب تک ہر الیکشن میں زیادہ ووٹ لے کر جیتے ہیں۔
آج اس تحریک کو 42 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ تحریک ملک کے باقی حصوں کی نسبت سندھ میں زیادہ فعال تھی
۔ جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتوں کی شرکت نمایاں رہی۔ واضح رہے کہ سندھ کے قوم پرستوں نے اس تحریک کی مخالفت کی تھی۔ قوم پرست رہنما جی ایم سید نے اس تحریک کو کفن چوروں کی تحریک قرار دیا۔
سندھ کے عوام کی اس تاریخی جدوجہد نے سندھ کے عوام کو پوری دنیا میں جمہوریت کے حامی اور آمریت مخالف کے طور پر پہچان دی ۔ ایم آر ڈی کی تحریک آج بھی خطے میں جمہوریت پسندوں کے لیے جوش و خروش کی ایک مثال بنی ہوئی ہے