میری نظموں کی کتابیں بھی چوری کی گئی ہیں۔ایمان مزاری

عمران عمران

میری نظموں کی کتابیں بھی چوری کی گئی ہیں۔ایمان مزاری

سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی صاحب زادی ایمان مزاری ایڈووکیٹ کو دہشت گردی کے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جج ابو الحسنات کے سامنے پیش کر دیا گیا۔

ان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایمان مزاری بھاگ نہیں رہیں یہیں موجود ہیں۔ وہ وکیل ہیں، پہلے بھی مقدمات کی تفتیش میں شامل ہوتی رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ہی نوعیت کے دو مقدمات ایمان مزاری کے خلاف درج کیے گئے ہیں جب کہ ان کے ساتھ 900 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایمان مزاری کے وکیل کے مطابق ان کا پولیس کی حراست میں رہنا ضروری نہیں ہے۔

 ان کے وکیل نے عدالت سے ایمان مزاری کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی۔

اس دوران جج ابوالحسنات نے استفسار کیا کہ ایمان مزاری پر الزام کیا ہے پہلے یہ تو معلوم ہو جائے۔

پراسیکیوٹر راجہ نوید نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایمان مزاری کے خلاف 2022 میں بھی ریاست مخالف تقریر کا اسی قسم مقدمہ درج ہوا تھا۔

انہوں نے عدالت سے ایمان مزاری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

قبل ازیں عدالت آتے ہوئے ایمان مزاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے اس نظام کے خلاف بھوک ہڑتال کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن قبل لیے گئے ریمانڈ بعد ان سے کسی نے کوئی سوال نہیں پوچھا۔

 ان کے بقول "میری نظموں کی کتابیں بھی چوری کی گئی ہیں۔"

دوسری جانب قومی اسمبلی کے سابق رکن علی وزیر کو بھی ابو الحسنات کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چہرے پر کپڑا ڈال کر لایا گیا۔

اسلام آباد پولیس نے عدالت سے ایمان مزاری اور علی وزیر کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کے استدعا کی۔

عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔