نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز کے زیر صدارت انسداد پولیو مہم کا اجلاس اجلاس میں پولیو سے متعلق بریفنگ جن علاقوں میں پولیو ویکسینیشن میں رکاوٹ آئے وہاں قانونی طریقۂ کار اپنایا جائے، ڈاکٹر سعد خالد کراچی نگراں وزیر صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ و سماجی بہبود سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز کے زیر صدارت انسداد پولیو مہم کا اجلاس منعقد ہوا۔ نگراں وزیر صحت کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں ڈبلیو ایچ کا نمائندہ وفد، کوآرڈینیٹر ای او سی ارشاد سوڈھر، ڈاکٹر احمد علی شیخ و دیگر شریک ہوئے۔ اجلاس میں پولیو سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر سعد خالد نیاز کو بتایا گیا کہ موجودہ سال پاکستان میں 2 جبکہ افغانستان میں 5 کیسز ظاہر ہوئے ہیں، پاکستان میں دونوں کیسز بنوں کے پی سے ظاہر ہوئے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں گزشتہ دو سالوں میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے، ایک کیس سال 2020 میں جیکب آباد سے ظاہر ہوا تھا تاہم دو سال کی انتھک محنت کے بعد اب تک پولیو کا کوئی کیس نہیں ہے۔ نگراں وزیر کو بتایا گیا کہ محکمہ انسداد پولیو ہر ماہ سیوریج کے پانی سے سیمپل لے کر لیبارٹری ٹیسٹ کرواتا ہے، گزشتہ ماہ محمد خان گوٹھ کیماڑی سے سیمپل میں کچھ نمونے پائے گئے ہیں لہذا کیماڑی کی پانچ یوسیز اس وقت ہائی رسک ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہائی رسک یوسیز میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو پنجاب، کے پی اور افغانستان آتے جاتے رہتے ہیں جبکہ ان یوسیز میں والدین بھی بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے منع کردیتے ہیں مزید یہ کہ گھوٹکی اور سکھر میں بھی گزشتہ پولیو مہم میں کچھ مشکلات آچکی ہیں۔ نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے کہا کہ پولیو ویکسینیشن سے متعلق باقاعدہ قانون موجود ہے، جن علاقوں میں پولیو ویکسینیشن میں رکاوٹ آئے گی وہاں قانونی طریقۂ کار اپنایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پولیو مہم کے آغاز سے قبل انسداد پولیو قوانین سے متعلق لوگوں کو آگاہ کیا جانا انتہائی ضروری ہے، یہ پبلک سروس میسج ہے جس میں میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے والدین جو نجی طور پر بچوں کی پولیو ویکسین کروائے جانے کا بہانہ بناتے ہیں یا کروا چکے ہوتے ہیں ان سے ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ طلب کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم مہم میں کسی کوتاہی کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لیے تمام ڈپٹی کمشنرز، ڈویژنل کمشنرز و ڈی ایچ اوز کا اجلاس بلایا جائے اور ڈی ایچ اوز کی پرفارمنس کی اسکورنگ کی جائے، اسکورنگ میں جن ڈی ایچ اوز کو ریڈ مارک دیا گیا وہ ہٹائے جانے کے ریڈار پر ہوں گے، ڈی ایچ اوز یا بی ایچ یوز کی سطح پر غفلت یا پولیو ٹیمز کے ساتھ عدم تعاون پر سخت کاروائی کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جہاں جہاں ویکسینیٹرز کی کمی ہوگی اس کو پورا کیا جائے گا۔ نگراں وزیر ڈاکٹر سعد خالد نے گزشتہ دنوں ٹرین حادثے کی شکار پولیو ورکر ہما کی انسداد پولیو کے لیے خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کیا اور ہدایت دی کہ وہ ہماری ہیرو ہیں جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران بدقسمت حادثے میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوئیں، انکی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی، پولیو ورکر ہما زخمی ہونے کے باوجود انسداد پولیو کے لیے خدمات فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔