بلوچستان کے علاقے مستونگ میں خود کش دھماکے سے ڈی ایس پی سمیت52 افراد جاں بحق جبکہ 66 زخمی ہوئے ،،،مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں،
،، نگران وزیر اعلی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ،،،
دھماکہ کوئٹہ سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مستونگ شہر میں ہوا ،،،
جسکے نتیجے میں ڈی ایس پی نواز گشکوری سمیت 52 افراد ابدی نیند سو گئے ،،، مرنے والوں میں 7 بچے بھی شامل ہیں جنکی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان تھیں، ،
نگران وزیر اعلی بلوچستان علی مردان ڈومکی نے مذمتی بیان میں واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی اور تحقیقات کا حکم دے دیا ،،، آئی جی پولیس نے کہا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے ،،، دوسری جانب عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ،،،
مستونگ کے غوث بخش میموریل ہسپتال اور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 70 زخمیوں کو لایا گیا تھا جس میں سے سیریس مریضوں سمیت زیادہ تر مریضوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا،،، کوئٹہ کے سول ہسپتال میں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ،،،
دھماکے میں شہید ڈی ایس پی کی نماز جنازہ مستونگ میں ادا کر دی گئی جس میں آئی جی پولیس، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ، پولیس افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی ،،،