سیلاب کو سال بیت جانے کے بعد بھی کوئٹہ کے کاشتکار نقصان اٹھا رہے ہیں

ابرار احمد ابرار احمد

سیلاب کو سال بیت جانے کے بعد بھی کوئٹہ کے کاشتکار نقصان اٹھا رہے ہیں

سیلاب کو سال بیت جانے کے بعد بھی کوئٹہ کے کاشتکار نقصان اٹھا رہے ہیں


بلوچستان میں 2022 کے دوران جولائی اور اگست کے مہینوں میں آنیوالے سیلاب کو ایک برس بیت چکا ہے،،، لیکن سیلاب سے ہونیوالے نقصانات ک اازالہ نہ ہو سکا،،، سیلاب اور طوفانی بارشوں نے کوئٹہ کے قریب ہنہ اوڑک میں سیلاب نے سیب کے باغات تباہ کر دیے،،،


جو باغات بچ گئے ان میں بھی سیب کی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے،،،، کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں گزشتہ سال مون سون کی طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونیوالی تباہی کے مناظر اب بھی موجود ہیں،،،


ٹوٹی سڑکیں اور پل، منہدم ہونے والے کچے مکانات اور اجڑے ہوئے سیب اور دیگر پھلوں کے باغات اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں،،،

جو گزشتہ برس مون سون کی بارشوں کے اگست میں آخری اسپیل نے یہاں تباہی مچائی اور سڑکوں، پلوں، مکانات اور باغات کو شدید نقصان پہنچایا،،،
ہنہ اوڑک کے رہائیشیوں میں زیادہ تر افراد کا انحصار پھلوں کے باغات پر ہے،،،

جو سارا سال محنت کر کے یہاں سیب ، آلو بخارا اور خربانی کے باغات کو پروان چڑھاتے ہیں،،،  لیکن بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہونے کے بعد رواں سال سیب کی فصل شدید متاثر ہوئی،،، 


متاثرین میں سے ایک خاندان جنکا زریعہ معاش سیب کے باغات ہی ہے، اس خاندان کے ایک فرد رضوان اللہ خان نے چہرہ ڈیجیٹل نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے 40 فیصد تک باغات گزشتہ سال سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا،،،

اور جو باغات میں درخت بچ گئے ہیں وہ بھی اب پھل کم دیتے ہیں،،، کیونکہ ان درختوں میں سے اکثر سیلاب مین زہریلے پانی کی وجہ سے پھل دینا چھوڑ چکے ہیں،،،

جسکی وجہ سے اب وہ درخت کاٹنے پر مجبور ہو رہے ہیں،،، جو درخت انہوں نے سالہا سال محنت کر کے پروان چڑھائے،،، رضوان اللہ کا کہنا تھا کہ سیلاب سے قبل ہر سال انکے باغات سے درجنوں سیب کے ٹرک ناصرف کوئٹہ بلکہ پنجاب کے کئی علاقوں کے لیے جاتے تھے،،، لیکن سیلاب کے بعد اب یہ صورتحال ہے کہ سیب کی فصل تیار ہونے کے مہینوں بعد ایک ٹرک لاہور کے لیے جا رہا ہے،،،، 


جب ان کاشتکاروں سے اس نقصان کے ازالے کے بارے میں پوچھا گا تو انکا کہنا تھا کہ گزشتہ برس سیلاب کے بعد کچھ حکومتی نمائیندے انکے پاس آئے اور امداد کا وعدہ کیا گیا لیکن اس کے بعد نہ ہی وہ واپس اائے اور نہ ہی امداد انکے پاس پہنچ سکی،،،

جو کاشتکار مالی لحاظ سے مضبوط تھے انہون نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے متاثرہ گھر دوبارہ تعمیر کر لیے لیکن کمزور کاشتکار کچھ نہ کر سکے اور انکی آمدن کا واحد زریعہ باغات بھی اب آمدن نہیں دے رہے،،

انہوں نے کہا کہ نہ ہی گزشتہ سال صوبائی و وفاقی حکومت نے انکے لیے کچھ کام کیا اور نہ یہ اب نگران حکومت انکی جانب توجہ دے رہی ہے،،،