الیکشن کمیشن 8 فروری کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کےانتخابات کرائےگا،الیکشن کمیشن
عدالت نے آرڈر لکھوانا شروع کردیا
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ روسٹرم پر موجود سب لوگ بیٹھ جائیں،
آرڈر لکھوانے میں وقت لگے گا،
کیااس پر کسی کو اعتراض ہے؟
کیا اس پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے ممبران بھی مطمئن ہیں ؟ چیف جسٹس
کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سوال
ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، ایڈووکیٹ جنرلز کاجواب
آرڈر میں کہاگیاہےکہ
علی ظفر نے صدر کے 13 ستمبر کے خط کی نشاندہی کی جو چیف الیکشن کمشنر کو لکھا گیا،
کیا الیکشن کمیشن نے ستمبرمیں صدر کے لکھے گئے خط کا کوئی جواب نہیں دیا،
اس بات کی تصدیق الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کی، عدالتی حکمنامے کے مطابق
صدر کے خط ملنے کی تصدیق الیکشن کمیشن نے بھی کی،
پورا ملک اس شش و پنج میں تھا کہ انتخابات نہیں ہورہے ،
اس بات کوسمجھتے ہیں کہ عدالت اپنے دائرہ اختیار کو استعمال کرے،سپریم کورٹ کے مطابق
ہم صرف یہ چاہتے تھے صدر اور الیکشن کمیشن کی سہولت کاری کریں ،
آئین اور قانون پر عمل در آمد ہر شہری پر فرض ہے،
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہیں،
اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،عدالتی حکمنامہ
صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے،
صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا،
سپریم کورٹ کا الیکشن کی تاریخ دینے کے معاملے میں کوئی کردار نہیں،
صدر مملکت اعلیٰ عہدہ ہے، حکم نامے کے مطابق
حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے؟
تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، حکمنامہ
ہر آئینی عہدہ رکھنے والا اور الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں،
آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں،
آئین پر عملداری اختیاری نہیں،
صدر اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیا،
ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے،
انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کا شکار ہوا،
صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو آرٹیکل 186 کے تحت لے سکتے تھے،
تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،
سپریم کورٹ نے سیاسی معاملے پر از خود نوٹس لیا،
صدر نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیر آئینی عمل تھا،
تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،
کے مطابق عوام و منتخب نمائندوں سے دور نہیں رکھا جاسکتا،سپریم کورٹ
غیر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے،
صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں،
امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،
یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے،
یہ آئین کی اسکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے،
عدالت بطور سہولت کار صدر اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،
یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،
صدر مملکت یا الیکشن کمیشن دونوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،
انتخابات کے لیے سازگار ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے،
یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے،
چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدر مملکت حلف لیتے ہیں،
صدر مملکت یا الیکشن کمیشن عوام کو آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے،
حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں 15سال بعد آئین کی عملداری کا سوال آیا،
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو بھی دیکھیں،
آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے،
عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا،
قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی،
وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،
اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا،
آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے،
عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا،
قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی،
وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،
اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا،
انتخابات کا معاملہ تمام فریقین کی رضامندی سے حل ہوچکا ہے،سپریم کورٹ
8فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے،سپریم کورٹ