کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں انتخابات میں خواتین جنرل نشستوں پر منتخب کیوں نہیں ہوتیں؟

عمران عمران

کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں  انتخابات میں خواتین جنرل نشستوں پر منتخب کیوں نہیں ہوتیں؟


صنفی تفریق کا شکوہ کا موضوع ہمارے یہاں کافی عرصے سے زیر بحث رہا ہے۔

 جس میں خواتین کا گلہ ہے کہ انہیں مردوں کے برابر حقوق فراہم کئے جائیں۔

سماجی پرورش میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے قابل تحسین رہاہے ۔

گھر سے لیکر روزگار تک ہر معاملے میں خواتین نے بڑھ چڑھ کراپنی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت دیا ہے .

سیاست میں محترمہ بے نظیربھٹو جیسی لیڈر آئی تو وہ پاکستان اور اسلامی ممالک میں  پہلی خاتون وزیر اعظم بنی۔

 یہی وہ تسلسل ہے جس نے خواتین کو سیاست میں متحرک رکھاہے۔

 آج پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں میں خواتین کی نمائندگی کم سہی مگرضرور شامل ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کو بین الاقوامی شہر کے طوپر جانا پہچانا جاتاہے ، تجارت، تعلیم اور روزگار جیسے مواقع اس شہر میں پاکستان کے کسی شہر میں نہیں ۔

 یہی وجہ ہے۔ یہاں کے مکین شعور تعلیم ،قابلیت اور صلاحیتوں سے  کسی سے کم نہیں ۔

اس میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہیں ۔

خواتین سیاست کے میدان میں بڑھ چڑھ کر کراچی شہر سے حصہ لیتی ہیں ۔

 لیکن اس کے باجود بھی انہیں  جنرل سیٹ پر انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں ہوتیں ۔

کراچی کی معروف سیاسی شخصیت, سیدہ شہلا رضا بھی کبھی جنرل نشست پر منتخب نہیں ہوسکیں ہیں جبکہ انکی نجی زندگی اور سیاسی سفر کو دیکھا جائے تو ہمشہ سے انہوں پر خطرہ حالات سے نبردآزما رہی ہیں۔

سیدہ شہلا رضا 15 مئی 1964ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔

شہلا ان چند سیاست دانوں میں شامل ہیں جو اپنے بیانیہ کو پر اثر طریقے سے مخالف کے سامنے رکھتی ہیں۔2018 میں سیدہ شہلا رضا خواتین کی مخصوص سیٹ سے سندھ اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی تھیں،

1990ء جام صادق علی کے دور حکومت میں انہیں قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور کئی ہفتوں تک سی آئی اے سینٹر کراچی میں رکھا گیا جہاں مبینہ طور پر انہیں سخت تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

 اپنی حراست کے دوران ہی انہوں نے کراچی سینٹرل جیل سے ایم ایس سی کا امتحان دیا تھا۔

 شہلا رضا کا سیاسی کیرئیر ان کے یونیورسٹی کے ایام میں ہی شروع ہو گیا تھا۔

 1986ء میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سٹوڈنٹ ونگ، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن میں اس وقت شمولیت اختیار کی جب سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد تھی۔

 

30 مئی 2013ء کو وہ 86 کے مقابلے میں 152 ووٹوں کی اکثریت سے سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئیں،

جبکہ اس سے پہلے بھی وہ 7 اپریل 2008 ء کو سندھ اسمبلی کی بلامقابلہ ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئیں تھی۔

جبکہ اس کے علاوہ الیکشن میں وہ کبھی بھی جنرل نشت پر پر منتخب نہ ہوسکیں جو کراچی جیسے باشعور شہریوں کےلیے تعجب کا باعث ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا کہتی ہیں کہ  یہ تو ووٹرز سے آپ پوچھ سکتےہیں کیونکہ خواتین تو مختلف انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

میں نے تو 2018 میں پی ٹی آئی چیئرمین کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا وہ نہ اس حلقے میں آئے اور نہ ہی  یہاں کوئی جلسہ کیا ۔

 وہ آج سیاست میں نہیں لیکن میں آج بھی اپنے اسی حلقے میں اپنے لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔

ہمارے مقابلے میں مرد یہ سمجھتےہیں کہ انہیں جنرل سیٹ مل جائیگی اور خواتین مخصوص نشست پر منتخب ہوجائیگی لیکن ایسا نہیں اب خواتین ہر جگہ اپنی صلاحتیوں کو منوا چکی ہیں۔

 یہ پارٹی کی مرضی ہے وہ جسے چاہے جنرل نشست پر انتخاب کے لیے کھڑا کردیں ہمارے یہاں حلقے آخری وقت میں پارٹی فیصلہ کرتی ہے کہ آپ اس حلقے سے انتخاب لڑے لیکن میں جس حلقے میں ہو اس پر میں نے بہت محنت کی ہے اور آئندہ انتخابات میں یہی سے حصہ لینا پسند کروں گی۔

پارٹی کی ہمیشہ سپورٹ ہوتی ہے اور خاتون ہونے سے نہ فائدہ ہوتاہے اور نہ ہی نقصان یہ تو ووٹرز اور حلقےپر منحصر کرتاہے وہاں کے رہائشی کس امیدوار کو جیتانا چاہتے ہیں۔

شاید خواتین ووٹر جنرل سیٹ پر اپلائے ہی نہیں کرتی ہیں۔

کوئی مشکلات نہیں ہوتی ہیں جیسے نارمل الیکشن ہوتے ہیں ویسے ہی ہوتے ہیں۔

 خوش بخت شجاعت کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں۔

انہوں نے  تعلیم ، پاکستان ٹیلی ویژن پھر سیاست میں اپنا ایک الگ مقام بنایا ۔

یہی وجہ  ہے خوش بخت شجاعت کا جہاں بھی نام آتا ہے تو وہاں  شعور اور تعلیم کی کا حوالہ ضرور دیا جاتاہے۔

خوش بخت شجاعت کہتی ہیں کہ  بے شمار صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہیں محض انہیں سامنے لانے کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر خواتین کو موقعہ فراہم کیا جائے تو وہ آسمان سے تارے توڑ کر لاسکتی ہیں۔

میں نے  خود اپنی پارٹی سے درخواست کی تھی کہ میں مخصوص نشست پر منتخب نہیں ہونا چاہتی مجھے جنرل نشست پر لڑنے کا موقعہ فراہم کیا جائے

جس  کی  میری پارٹی نے حوصلہ افزائی کی۔

 الیکشن  جو شخص  بھی لڑتا ہے ووٹر اس کی شخصیت ماضی کام اور کامیابیوں کو ضرور ملحوظ خاطر رکھتاہے

 اس کے  ساتھ  ساتھ پارٹی کا نظریہ خدمت کرنا کا جذبہ اور پہلے کئے گئے کام اور آگے کی حکمت عملی کے حوالے سے ووٹرز اپنارائے حق دہی استعمال کرتے ہیں ۔

  جنرل سیٹ پر الیکشن لڑنامشکل کام بھی ہے۔

 اس میں براہ راست کا آپ کا مقابلہ مرد امیدوار کے ساتھ ہوتاہےمرد خواتین کی نسبت ذیادہ الیکشن میں متحرک نظر آتے ہیں خواتین نے زندگی کے دیگر معاملات میں بھی جوڑی رہتی ہیں۔

اس لحاظ سے جنرل نشست پر الیکشن لڑنے میں پارٹیاں بھی ساتھ نہیں دیتی ہیں۔

میرا تعلق کراچی سے ہےاور لوگ میرے کام اور خدمات کو ہمیشہ سراہاتے آئے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے الیکشن 2008 میں بھرپور کامیابی ملی اس کے علاوہ میں آپ کو بتاتی چلو کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے ہم نے بائیکاٹ کیا تھا ورنا ہمیں ہرانا ناممکن تھا ۔

 اس کے ساتھ ساتھ میں آپ کو بتاتی چلو کہ آرٹس کونسل آف پاکستان 1948 سے کام کررہاہے میں واحد خاتون ہو جو اس کی تین بار صدر منتخب ہوچکی ہوں جہاں پر صرف دانشور ادیب  اور با صلاحیت لوگ ہی ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ اگر آپ پاکستان کے دیگر علاقوں میں غور کریں کہ ایسی خواتین جیت کر آجاتی ہیں جن کو کسی نے کبھی نہیں دیکھاہوتاہے اور نہ ہی کوئی پارٹی وابستگی  ہوتی ہے بس وہ پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے کسی بڑے گھر سے وابستگی ہوتی ہے اوروہ خواتین ہمیں خود بھی کہتی ہیں کہ  میں تو کبھی کسی کمپئین کا حصہ نہیں بنی ۔

جب ہم کراچی میں ہر کارنر میٹنگ میں پبلک میٹنگ میں لوگوں کے مسائل  کو حل کرنے کےلیے پیش پیش رہتے ہیں۔

خواتین کو مرد کی نسبت ہمارےیہاں یہ تاثر قائم ہے کہ شاید وہ بہتر انداز میں اپنا آئوٹ پٹ نہ دے سکیں

لیکن ایسا ہر گرز نہیں خواتین بہت اچھا اور بہت بہتر انداز میں کام  کرکے پہلے بھی انہوں نےدیکھایا اور آگے بھی دیکھائی گی۔ جنرل نشست پر خواتین کے جتنے کےلیے انکی کارکردگی ، صلاحیت اور اہلیت ہونا بھی ضروری ہے صرف ٹکٹ پارٹی سے ملنا یا انتخاب  لڑنا ہرگز ملطلب نہیں ہوتا انفرادی طورپر آپ کا معاشرے کی سدھار اور بہتری کےلیے کردار ہونا چاہیے۔

 پارٹیوں کی جانب سے خواتین کو معاونت اور مدد ہوتی آئی ہے۔

 

خوش بخت وہ پہلی اینکر ہیں جنہوں نے” پاکستان ٹیلی ویژن“ سے نوجوانوں کا پروگرام ”فیروزاں“بچوں کا پروگرام ”ذہانت“،یونیورسٹی چینلج ،خواتین کا پروگرام” مینا بازار“ شروع کیا۔آرکیالوجی کا پہلا پروگرام ”چہرے“ بھی کیا جس میں” تحریک پاکستان“ میں حصہ لینے والی اہم شخصیات کا انٹرویو کیا جس پر انہیں 9ایوارڈز بھی ملے۔

”متحدہ قومی موومنٹ “ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے جس کا سندھ بالخصوص کراچی کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے ۔”خوش بخت شجاعت“ ایم کیو ایم کی سینئر رکن ہیں جو ہر پلیٹ فارم پر پارٹی کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہیں۔

کراچی میں پہلی بار جنرل سیٹ سے الیکشن لڑنے والی خاتون ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت  ہیں 2008 کے انتخابات میں ا ین اے 250 میں ایم کیو ایم کی امیدوار خوش بخت شجاعت نے پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ کو ہرایا تھا لیکن اگر کراچی کے الیکشن کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائیں تو یہاں ایک تو کم خواتین کو جنرل نشست پر کھڑا کیا جاتاہے دوسرا وہ کامیاب نہیں ہوپاتی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے جب بھی ماضی میں انتخابات میں حصہ لیا تو انکی خاص بات یہ تھی کہ انکے پارٹی پوسٹر پر صرف انکے قائد الطاف حسین کی تصویر آویزاں کی جاتی تھی اور جو امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہا اس کی تصویر کبھی نہیں لگائی گئی ۔ لیکن یہ واحد خوش بخت شجاعت ایم کیو ایم کی خاتون تھی جنہوں نے پہلی بار ایم کیو ایم کےپوسٹر پر اپنی تصویر لگاکر اسے آرٹس کونسل کراچی میں لگوایا جس پر لوگوں کی نہ صرف تنقید بلکہ توجہ کا مرکز بنی۔

خوش بخت شجاعت کہتی ہیں کہ جس دن ہمارے  یہاں لینڈ ریفارم ہونگے جاگیردارانہ سسٹم ختم ہوگیا زمیندارانہ سسٹم ختم ہوگیا اس دن اس قوم کی عورت بھی اسی طرح کھڑی ہوگی جس طرح دنیا میں عورت نظر آتی ہے۔ ہمارےیہاں جاگیر دارانہ نطام کی ذہنیت ہماری عورت کو دبوچ کررکھاہے۔ جب سے پاکستان بنا ہے ہماری سیاست میں قبصہ کس کا ہے پارلیمںٹ میں لوگ کونسے بیٹھے ہیں ، نسل در نسل سیاست بھی منتقل ہورہی ہے پارلیمنٹ کو جوائنٹ فیملی سسٹم بنایا ہواہے۔

خواتین کو جنرل پرویز مشرف کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ جنہوں نے خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا متعارف کرایا۔اس وقت جو ہمارے پاس خواتین کی مخصوص جو نشستیں ہیں وہ دنیا کے بے شمار ممالک میں اب بھی نہیں ہے۔

میں کہتی ہوں خواتین کواپنے حلقوں سے الیکشن لڑکر منتخب ہوناچاہیے ایک خاتون بہترین منتظم ہوتی ہے اور اگرآپ کرپشن کے معاملات دیکھیں تو کہیں خاتون کا نام نہیں آئےگا۔

اگر خواتین کو موقعہ ملتاہے تو ہر الیکشن لڑے اور جنرل سیٹ  پر منختب ہوکر آئیں تاکہ وہ عوام کی جواب دہ  ہوں۔

میں الیکشن جنرل سیٹ پر لڑکرآئی ہوں مجھ سے کوئی بھی سوال پوچھ سکتاہے کہ فلاح چیز ہمارے حلقے میں نہیں اور ایسا کیوں ہے اس معاشرے کی اصلاح علم شعور اور آگاہی کے ذریعے کی جاسکتی ہے جب  الیکشن لڑنے ولا کسی بڑی گاڑی سے نہیں عوام کا نمائندہ ہوگا ان کے بیچ میں رہا ہوگا پلہ بڑا ہوگا۔اور اس کی عزت صرف اور صرف علم اور شعور کی بنیاد پر کی جائےگی تب معاشرے میں سدھار آئےگا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کا تعلق بھی کراچی سے ہی ہے۔

انکے والد پر نیب کیسز بنے اور وہ بھی پاکستان پیپلزپارٹی کاحصہ رہے ہیں ۔

شرمیلا فاروقی نے سیاست میں آنے کے بعد بھی بمشکل گزشتہ الیکشن  میں  ایک مخصوص نشست پرانہیں لایا گیا

لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اب تک وہ جنرل سیٹ پرالیکشن نہیں لڑ سکیں ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروق کہتی ہیں کہ میں نے آج تک جنرل سیٹ کے لیے اپلائے ہی نہیں کیا تو ٹکٹ کیسے ملے گا۔یہ ایک مسئلہ ہے خاتون امیدوار یہاں سے کامیاب نہیں ہو پاتی آسانی سے مردوں کو ذیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کا الیکشن میں حصہ لینا ایک بہت بڑی بات ہے۔کامیابی کےلیے لوگوں سے ملنا پڑتاہے انہیں پارٹی کے منشور سمیت جیتنے کے بعد کیا پروگرام یا مںصوبے لانے کے خواہش مند ہیں بتانا پڑتاہے لیکن ہمارے معاشرے کی خاتون ڈائریکٹ ایک وقت میں ذیادہ لوگوں سے مل نہیں سکتی ۔

کراچی کی سیاست کا محور کارنر میٹنگ یا پبلک میٹنگز رہاہے۔

 گلی محلے میں لوگوں کے ساتھ ملنا ملانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔

 خاتون امیدوار کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتاہےیا پھر کچھ معاشرتی رکاوٹوں کی وجہ سے وہ اس عمل میں ذیادہ آگے بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیے پاتی ہیں۔

کیونکہ کارنر میٹنگز کراچی میں عموما رات گیارہ بجے سے شروع ہوتی ہے اور رات گئےتک چلتی رہتی ہے۔

خواتین ووٹرز کا کردار الیکشن کو کامیاب اور ناکام بنانے میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ذیادہ تر یہی دیکھا گیا ہے کہ خواتین امیدوار مردوں کی طرح بڑھ چڑھ کر الیکشن کے عمل کاحصہ نہیں بنتی نہ ہی حق رائے دہی بھرپور انداز میں استعمال کرتی ہیں ۔

 اگر کسی الیکشن کا ٹرن آئوٹ پچاس فی صد آتاہے اس میں اگر ہم مکمل طورپر خواتین کو شامل کر تو وہ ٹرن آئوٹ جاکر 80 سے85 فی صد تک جاکر پہنچتاہے۔

گھروں یا آفیسسز میں کام کرنے والی خواتین مختلف وجوہات کی بنا پر اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرتی ہیں اگر یہ مکمل طورپر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں تو کسی بھی امیدوار کو کامیاب اور ناکام بنانا ان کے لیے آسان ہوجاتاہے اس سے نتیجہ یہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ کسی خاتون امیدوار کو کامیاب بنانااگر چاہے تو اس میں خواتین ووٹرز کو ہی اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتی ہیں ۔

ماضی میں قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے انتخابات کےدوران یہ مہم چلائی تھی کہ الیکشن کے روز کوئی خاتون ناشتہ یا کھانا نہیں بنائےگی اس روز مرد کام کرینگے اور خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگی کہا جاتاہے کہ اس الیکشن کا ٹرن آئوٹ بہتر رہا تھا ۔

تو یہ بھی ایک بڑی وجہ جانی جاتی ہے کہ گھروں میں اور دفتروں میں کام کرنے والی خواتین الیکشن مہم کا حصہ نہیں بن پاتی ہیں۔

تین طرح کے ووٹرزہوتے ہیں

ایک تو وہ ووٹرز جس کی پارٹی کے ساتھ انیست ہوتی جسے جانثار ووٹر کہا جاتاہے وہ اسی پارٹی کو ووٹ دیتا ہے۔

دوسرا ووٹرز وہ ہوتاہے جسے کسی نے سہولت فراہم کردی جسےایک جگہ سے  گاڑی  میں لے جا کر پولنگ اسٹیشن پر پہنچادیا پھر واپس گھر چھوڑ دیا ۔

تیسرا ووٹرز جو گھر سے نکلا ۔ابھی تک ذہن کلیئر نہیں کہ ووٹ کس کو دیناہے بس جلدی میں گھر سے نکلا بینرز دیکھتا ہوا آگے بڑھا کہیں بریانی کھانے کی سہولت ملی بینر پڑھا جس کا ذہن مسلسل تبدیل ہوتا رہتاہے۔ بعد میں جس کوموڈ ہوا ووٹ کاسٹ کرکے آگے نکل گیا ۔

پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈیوژن کے صدر سعید غنی کا کہناہےکہ سیاسی جماعتوں  میں خواتین  کو جنرل  نشست پر نامزد کرنے کی روایت نہیں ہے۔

 جس کی سب سے بڑی وجہ خواتین کا سیاست میں ایک محدود کردار ہے۔

 کسی بھی جماعت کا مرد امیدوار  حلقے کے عوام  سے سارا سال خوشی اور غمی کے موقعوں پر رابط رکھتاہے انکے مسائل حل کرتاہے لیکن خواتین امیدوار ایسا نہیں کرپاتی ۔ جس کی وجہ سے ٹکٹ دیتے ہوئے سیاسی قیادت ایسے امیدواروں کو ترجیح دیتی ہے جن کا حلقے میں اثر رسوخ ہوتاہے۔

 

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سعدیہ جاوید  کہتی ہیں کہ جنرل سیٹ پر الیکشن لڑنا کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارا معاشرہ اب تک خواتین کی حیثیت کو اس طرح سے قبول نہیں کرتا ہے۔

 ہم سیاسی طورپر بیان بازی کرتے ہیں اور کہتےہیں کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں تو اس پر ایک امیدوار کا کم از کم خرچہ 6 سے سات کروڑ خرچ ہوتے ہیں ۔

مرد امیدواروں پر لوگ خرچہ کرتے ہیں کہ یہ کسی طرح سے جیت جائے لیکن خواتین کے معاملے میں ایسا ہرگز نہیں ہوتاہے ۔

دوسری بات یہ سمجھنے کی ہےکہ سندھ کے دیگر اضلاع سے اگر خواتین جیت کر آتی ہیں جنرل سیٹوں پر تو انکی  نسل درنسل سیاسی جماعت سے وابستگی رہی ہوتی ہے

 جس میں پہلے دادا سیاست میں تھا پھر والد اب وہ خود ہیں تو وہ خواتین با آسانی جیت کر آجاتی ہیں۔

شازیہ عطاء مری نے جنرل سیٹ پر نہ صرف جیتی بلکہ انہوں نے پیر پگاڑا کو ہرایا تھا۔

ماضی میں کراچی سے ایم  کیو ایم کی شاہدہ رحمانی، شمیم ممتاز ، پیپلز پارٹی کی شہلا رضا انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

اس میں ایک اور یہ مسئلہ ہوتاہے کوئی بھی سیاسی جماعت ہو وہ پہلے سے اس چیز میں کلیئر نہیں ہوتی ہے کہ ہم اس خاتون کو کس حلقے سے انتخابات میں کھڑا کرینگے۔

ایک دم سے ٹکٹ ملنا پھر آپ نے اس حلقے میں محنت نہیں کی ہوتی ہے لوگوں کو جانتےنہیں اور انکو ملتے نہیں تو وہ کیسے آپ کو ووٹ دینگے۔باقی فنانس بہت اہم ہے جو بہتر انداز میں خرچہ کرسکتاہے کمپئن کے حوالے سے وہ ضرور جیتا  ہےلیکن اس معاملے میں بھی خواتین کمزور ہیں۔

سندھ میں خواتین کی مکمل 29 مخصوص نشستیں ہیں اس میں مقابلہ جنرل سیٹ سے ذیادہ ہوتاہے ۔ جنرل سیٹ پر تو ٹکٹ مل سکتاہے لیکن یہ تو فکس ہوتی ہیں اس سے ذیادہ تو نہیں ہوسکتی ہیں۔

اس وقت پاکستان میں خواتین 52 فی صد ہیں ۔

ایم کیو ایم کی رعنا انصار سندھ اسمبلی کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئی ہیں۔ کہتی ہیں کہ ماضی میں خواتین جنرل سیٹ پر کھڑی ہوتی آئی ہیں خواتین کا گھر سے نکلنا بھی آج تک مسئلہ ہے ۔

حلقے میں جانا لوگوں سےملنا ملانا یہ ایک اہم پیش رفت ہوئی تھی ۔

الیکشن میں کامیابی لیکن ہمارے یہاں اس چیز کو تھوڑا معاشرے کے رویوں کی وجہ سے معیوب سمجھا جاتاہے۔

نہ کارنر میٹنگز میں خواتین جا پاتی ہیں نہ رات میں نکل سکتی ہے ہمارا اب تک وہ ماحول ہی نہیں بنا ہے جس میں خواتین آزادانہ طورپر اپنا کام کرسکیں۔ 

 

2013 کے انتخابی نتائج کے ایک سرسری جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ  پاکستان مسلم لیگ (ن)  کی خواتین نے جنرل نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کی۔

 سمیرا ملک نے خوشاب NA-69 سے  1,18,108، جھنگ چنیوٹ  این اے 88 سے غلام بی بی بھروانا نے 87,002 اور این اے 102 حافظ آباد سے سائرہ افضل تارڑ نے 93,013 ووٹ حاصل کیے۔

 اسی طرح پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر عذرافضل نے نواب شاہ این اے 213سے 1,11,667 ، ان کی بہن فریال تالپور نے لاڑکانہ این اے 207 سے 83,916 اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بدین این اے 225 سے 1,10,684 ووٹ حاصل کیے۔ یہ نتائج  اس بات کا اشارہ ہیں کہ جن علاقوں میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی آزادی تھی وہاں نتائج کتنے شاندار رہے ہیں۔

سینئر تجزیہ نگار ناصر بیگ چغتائی کہتےہیں کہ کراچی سے جنرل سیٹ پر کسی خاتون امیدوار کا منتخب  ہوکر نہ آنا ایک المیہ ہے ۔

افسوسناک بات ہے۔جس شہر کو آپ پڑھے لکھے لوگوں کا شہر کہتےہیں ، باشعور علم دوست لوگوں کا شہر کہتےہیں۔

الیکشن میں خواتین  امیدواروں کے منتخب ہونے کے عمل میں وہ علم کہاں بکھر جاتاہے یہ ایک سوال ہے۔

بڑی حیرانگی ہوتی ہے ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت اور پاکستان پیپلزپارٹی کی شہلا رضا جیسی پڑھی لکھی سمجھدار باشعور خواتین جنرل سیٹ ہار جاتی ہیں۔

ان علاقوں سے جو پڑھے لکھے لوگوں کے علاقے ہیں باشعور لوگوں کے علاقے ہیں سمجھدار لوگوں کے علاقے ہیں۔پھر المیہ یہ بھی کہ وہ سیاسی جماعت انکی حوصلہ افزائی اس لحاظ یا اس مقام تک نہیں کرتی جتنی انکو کرنی چاہیے۔ یہ ذہنوں میں آج بھی سوال کیوں نہیں اٹھتا ہے کہ کلفٹن ،فیڈرل بی ایریا،  لالو کھیت اور لیاری جیسے علاقوں سے خاتون کیوں نہیں منتخب ہوتیں جنرل سیٹ پر بلکہ انہیں تو الیکشن کے لیے ٹکٹ تک نہیں فراہم کیا جاتاہے۔

 کراچی کی عوام اس کی ذمہ دارہے کہ وہ خواتین امیداروں کو کیوں کامیاب نہیں کرپاتی ہم کتنی بھی روشن خیالی کی باتیں کرلیں لیکن اصل میں ہماری حقیقت ایک رجعت پسند والی ہے۔

الیکشن میں خواتین جنرل سیٹ پر الیکشن ضرور لڑے لیکن قابلیت کی بنیاد پر ذہانت اور صلاحیت کی بنیاد پرسندھ کے دیگر  کسی اضلاع سے خواتین امیدورا جنرل سیٹ پر منتخب ہوسکتی ہے تو کراچی سے کیوں نہیں؟

یہاں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ جو خاتون ہمارے یہاں کوئی جاب کرتی ہیں وہ گھر واپسی پر کچن بھی لازمی سبھالتی ہے مطلب خواتین کی ذمہ داریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

 اس معاملے میں این جی اوز کو ایک سیمینار میں شرکت کے بجائے ایسے سیمینارز کرانے کی ضرورت  جہاں لوگوں کو یہ بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ خواتین بھی اسی شہر کاحصہ ہیں اور ہمیں الیکشن میں انہیں کامیاب کرانا چاہیے۔

سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ کراچی سے جنرل سیٹ پر خواتین کا منختب نہ ہونے کا اہم سبب  پارٹی کی جانب سے حوصلہ افزائی  نہ ہونا اس کی بڑی وجہ ہے۔ اس پر سیاسی جماعتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں ایم کیو ایم ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔

اس میں خاتون امیدواروں کی بھی غلطی ہے کہ وہ جنرل نشست کے لیے خود اپلائی نہیں کرتی ہیں۔ خواتین بھی مخصوص نشستوں پر خود آنا چاہتی ہیں ۔ کمپئن سمیت سیاسی جماعت اور ووٹرز کا قصور ہے کہ وہ انہیں کامیاب نہیں بناتے ہیں اور یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آج تک کراچی میں جنرل سیٹ سے کوئی خاتون خوش بخت شجاعت کے علاوہ کوئی  امیدوار منتخب ہوکر نہیں آئی ہے

تبسم ملازمت کرتی ہیں وہ کہتی ہے جب ہم نے پہلا ووٹ دیا تھا تو اتنا ہوش نہیں تھا نہ ہی کوئی خاص اس وقت شعور تھا لیکن اب بہتر سمجھتےہیں حالات کو اور واقعات کو ہم ایسا امیدوار چاہتےہیں جو عوامی مفاد میں ہو جو اس حلقے کے لوگوں مسائل ٹھیک طرح سے حل کرسکیں۔ہمارے  معاشرے میں خاتون امیدوار اس لیے بھی جیت نہیں پاتی ہیں کہ انہیں قبول نہیں کیا جاتاہے۔

عابدہ علی بینک میں کام کرتی ہیں کہتی ہیں کہ ہماری تو خواہش ہوتی ہےکوئی خاتون امیدوار کھڑی ہوتو اس کو ووٹ دیں لیکن ہمارے یہاں تو خاتون بہت کم جگہوں سےکھڑی ہوتی ہیں ووٹ تو ہم بھی اپنی مرضی سے کاسٹ کرتے ہیں لیکن بس ہمارے حلقے سے خواتین کھڑی ہونے کا معاملہ تو سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے۔