ہیپی برتھ ڈے ایدھی صاحب

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

ہیپی برتھ ڈے ایدھی صاحب


تحریر : ناصر بیگ چغتائی

 

یہ 28 فروری 1928 کی بات ہے جب ایک بچے نے بانٹوا منادر میں جنم لیا اور پھر فرشتہ اور دنیا کا سب سے امیر۔۔غریب آدمی کہلایا۔

نہ جانے کون سی گھڑی تھی کہ کراچی کے میٹھادر کھارادر کی گلیوں میں گھومنے والے کو خدمت خلق کا خیال آیا ۔

پھر مفت کفن دفن سے میت گاڑی ۔

 ایمبولینس۔

تک بات پہنچی اس کے بعد تو اپنا گھر جھولا اسپتال ہائی ویز پر ایمبولینس سروس ایمرجنسی سینیٹرز۔

بے گھروں کی مدد کرونا سیلاب کے دوران سری لنکا تک مدد کی فراہمی۔

بے سہارا جانوروں کا خیال۔

سب ہی کام تو کرنے لگے ۔

ایدھی صاحب سے میری پہلی ملاقات بسم اللہ بلڈنگ گرنے کے واقعے میں ہوئی جہاں وہ ملیشیا کا کرتا پہنے مصروف تھے ۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ وزیراعظم بھٹو کی ان سے پہلی ملاقات بھی وہیں ہوئی۔

 بھٹو صاحب نے انہیں مصروف دیکھ کر پوچھا " یہی ایدھی صاحب ہیں "

جواب ہاں میں ملا تو بھٹو صاحب نے اپنی عادت کے برعکس انہیں آواز دی " ایدھی صاحب "

ہم تینوں اسٹاف کے ہجوم میں تھے ایدھی صاحب کو امدادی کام کا وقت ضائع ہونے کی فکر تھی اور بھٹو صاحب کہہ رہے تھے " ایدھی صاحب کو جو بھی چاہیئے فراہم کیا جائے

 "

مجھے اس واقعہ کا سن یاد نہیں لیکن پھر میری ایدھی صاحب سے بار بار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

 

یہ تصویر میرے نیپال ہندوستان سے پاکستان آنے کے بعد کے انٹرویو ہے یہ انٹرویو بہت مزے دار ہوتے تھے ۔۔۔ان شا اللہ کبھی کتاب میں شامل کروں گا ۔

 کہنے لگے " تم تو اللہ میاں کا پڑوسی ہوگیا پے " پھر بہت شوق سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بارے میں سنتے رہے

لینین انعام یافتہ ہلال امتیاز۔

عبدالستار ایدھی۔

کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگ تھے لیکن پروٹوکول کی وجہ سے اسٹیڈیم سے دور رکھے گئے تھے

ایدھی صاحب عام آدمی تھے مگر فرشتہ تھے

اب کوئی ایدھی پیدا نہیں ہوگا مگر ان کا چھوڑا ہوا کام برسوں عوام کی خدمت کرے گا ۔ ۔۔

سال گرہ مبارک ہو ایدھی صاحب

انھی تک یہ آواز نہیں آئی ۔۔۔۔۔" ارے سال گرہ چھوڑ۔۔۔۔" اور پھر شرمیلی سی مسکراہٹ۔۔۔۔۔

گم ہوگئے بڑے لوگ ۔