اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے بڑے پیمانے پر نوٹوں کی چھپائی کے دوران نقائص کا خدشہ رہتا ہے۔ کراچی میں ایک برانچ کو فراہم کردہ نوٹوں میں سے صرف دس غلط شائع شدہ نوٹ سامنے آئے ہیں۔ خراب نوٹوں کو اسٹیٹ بینک سے تبدیل کرایا جاسکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا وضاحتی بیان میں کہنا ہے پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے پاس غلط پرنٹ شدہ بینک نوٹ الگ کرنے کا مضبوط نظام موجود ہے۔تمام کوالٹی چیک کے باوجود غلط پرنٹ شدہ بینک نوٹوں میں سے چند نوٹ بینکوں یا عوام تک پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔ گزشتہ روز کرنسی نوٹ مس پرنٹ سےمتعلق ویڈیو سامنےآئی تھی۔ نیشنل بینک، ماڈل کالونی برانچ کو فراہم کیے گئے نوٹوں میں سے صرف دس غلط شائع شدہ نوٹ سامنے آئے ہیں۔ ملک میں پرنٹ ہونے والے اور زیر گردش نوٹوں کی مجموعی تعداد کے لحاظ سے،، یہ مقدار انتہائی معمولی ہے۔ غلط پرنٹ شدہ نوٹوں کی جگہ درست نوٹ اسٹیٹ بینک ، بی ایس سی کے کاؤنٹرز سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مستقبل میں اس قسم کے واقعے سے بچنے کے لیے اندرونی کنٹرولز کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔