رواں سال صدقہ فطر اور فدئیے کی کم از
کم مقدار تین سو روپے فی کس مختض کی گئی
ہے۔
مفتی منیب الرحمن کے مطابق اہل ثروت اپنی
مالی حیثیت کے مطابق فطرہ ادا کرسکتے ہیں۔
رواں سال کے فطرہ، فدیہ اور کفارے کے
نصاب کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
رواں
سال ماہ مبارک میں فطرہ، فدیہ صوم اور کفارہ صوم کے نصاب کا اعلان کردیا گیا۔
گندم کے آٹے کے نصاب سے کم از کم فطرے کی
رقم 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔
اس
حساب سے فطرے اور ایک روزے کا فدیہ 6 سو روپے فی کس جبکہ کھجور کے نصاب سے
ایک فطرہ 2 ہزار 4 سو روپے فی کس ہے۔
مفتی منیب الرحمن۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم نے زکوۃ الفطر یا صدقہ فطر واجب قرار دیا ہے صدقہ فطر یا فدیہ صوم
بنیادی طور پر ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا فراہم کرنا ہے۔
علماء کے مطابق فدیہ کسی
دائمی مریض یا ضعیف العمر افراد کے لیے ہے جو روزہ نا رکھ سکیں۔ عارضی مریض
یا مسافر پر صحتیابی اور سفرسے واپسی کی صورت قضا لازم ہے۔
ایک روزہ توڑنے کاکفارہ 60 مساکین کو دو
وقت کا کھانا کھلانا ہے۔ ایسے میں گندم کے نصاب سے 18 ہزار روپے کی رقم بنتی ہے۔
عبدالرزاق نقشبندی کہتےہیں کہ رمضان کے
بعد اس کی قضا رکھے گا جو روزہ چھوٹ گیا اور دانستہ توڑا کوئی عذر نہیں تھا بلا
عذر توڑ دیا تو اس کی قضا اور کفارہ دونوں رکھے گا قضا اس کی ایک روزہ رکھنا ہے
اور کفارہ اس کا یہ ہے کہ 60 روزے متواتر رکھے یا 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا
کھلاتا ہو۔
علمائے کرام کے مطابق صدقہ فطر کی رقم
نماز عید الفطرسے قبل ادا کی جانی چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے نہ دے سکیں تو نماز کے
بعد بھی فطرہ ادا کیا جاسکتا ہے۔