آئی جی سندھ غلام
نبی میمن کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں اہم اجلاس کا انعقاد کیاگیا دوران
اجلاس شہر میں امن وامان کی صورتحال,اسٹریٹ
کرائم اور اسٹریٹ کریمنلز کے خلاف ایکشن کو زیر بحث لایا گیا۔
اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہاکہ ایسے
جرائم کو ہر حال ختم کرنا ہے۔ افسران سے کہتا ہوں فیلڈ میں آئیں اور اپنی کارکردگی
دکھائیں۔ چھینا جھپٹی کے واقعات میں غریب عوام کی کلنگز ناقابل برداشت ہیں۔ ڈکیتی
مزاحمت پر قتل یا زخمی ہونیکے کیسز کی تفتیش ماہر اور باصلاحیت آئی اوز کو دیئے
جائیں۔غلام نبی میمن کا کہناتھاکہ ایسے جتنے بھی کیسز کا اندراج ہوگا وہ اسپیشل آئی
اوز کی مشاورت سے ہوگا۔ موقع واردات پر ایس ایچ اوز اور آئی اوز بروقت پہنچیں گےاور
کرائم سین یونٹ بھی تمام تر شواہد کو محفوظ بنائیگا۔
اجلاس میں آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہاکہ اسپیشل
آئی اوز اور انویسٹی گیشن افسران کی فہرستیں ایس ایس پیز کو مہیا کردی گئی ہیں۔ انویسٹی
گیشن کے لیئے ریوالونگ فنڈ قائم کیا جائے۔ مقصد انویسٹی گیشن کاسٹ کی فراہمی کے
باوجود فنڈ میں موجود ابتدائی رقم اپنی جگہ پر رہیگی۔ اسپیشل آئی اوز کو جدید آلات
کمپیوٹر وغیرہ کی فراہمی کی جائے۔ دوران ڈکیتی قتل اور زخمی کیئے جانیکے کیسز کا
اندراج ایس پی انویسٹی گیشن اور آئی اوز کی مشاورت سے ہوگا۔ کیسز کی تفتیش میں
کارکردگی اور ملزمان کو سزاؤں کی شرح سے آئی اوز کو بنیادی تتخواہ بطور ریوارڈ دی
جائیگی۔ اجلاس میں غلام نبی میمن نے کہاکہ
انویسٹی گیشن افسران کی کارکردگی رپورٹ ایس ایس پیز,اے آئی جی آپریشنز سندھ کو
ارسال کرینگے۔ رپورٹ کی روشنی میں آئی اوز کو انعامات دیئے جائیں گے۔ ڈکیتی مزاحمت
پر قتل کے واقعات میں گرفتار ملزمان سے ٹھوس اور جامع تفتیش کی جائے۔ آئی جی
پولیس نے مزید کہاکہ ایس ایس پیز ایسے کیسز کی تفتیش کے مؤثر ہونیکی بذات خود تصدیق
کرینگے۔ پتہ لگایا جائے کہ اسٹریٹ کرائمز میں چھینے گئے موبائلز اور موٹر سائیکلز
کہاں منتقل کی جارہی ہیں۔ عمدہ کارکردگی کے حامل افسران کو ایس آئی او کی پوزیشن دی
جائیگی۔ کنوکشن اینڈ ریوارڈ پالیسی کو حکومت سندھ سے منظور کرائیں گے۔ اپنی ضروریات
کا کھل کر بتائیں میں آپکی مکمل سپورٹ کرونگا۔ ہمارا کام ہے لوگوں کی خدمت کرنا
اور انصاف فراہم کرنا اسپیشل آئی اوز کو سرکاری موٹرسائیکلیں/وہیکلز آلاٹ کی جائیں
گی