تنگوانی حکومتی
سرپرستی میں قائم ڈکیت راج کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے تنگوانی بس اسٹاپ پر
احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
ڈاکوؤں کی سرپرستی_
بند کرو، امن دو یا استعفیٰ دو، پریا کماری کو بازیاب کرو، استاد اللہ رکہیو
نندوانی کے قاتلوں کو گرفتار کرو، شہید صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو گرفتار
کرو کے زوردار نعرے لگائے گئے۔ احتجاج میں شہید اللہ بخش نندوانی کے معصوم بیٹے
وقار احمد، بھائی مٹھل نندوانی نے بھی شرکت کی۔
احتجاجی دھرنے سے
خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری نور احمد
کاتیار، مرکزی رہنما ایڈووکیٹ آصف کھوسو، ضلعی صدر گل حسن بپڑ، صدام کھوسو، اصغر
ملک، نواز بپڑ، تاج محمد کھوسو، اللہ بخش نندوانی اور دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ
سندھ کے عوام کو ڈاکوؤں کے حوالے کر دیا گیا ہے، تنگوانی میں استاد اللہ رکہیو
نندوانی کے قتل کو 19 دن بیت چکے ہیں لیکن پولیس نے ایک بھی قاتل کو گرفتار نہیں کیا۔
دو روز قبل غوث پور کے قریب ڈاکوؤں نے انڈس ہائی وے بلاک کر کے مسافروں پر فائرنگ
کر کے سینکڑوں افراد کو لوٹ لیا، خیرپور کا رہائشی ایک مسافر جاں بحق ہوگیا، متعدد
افراد زخمی ہو گئے۔ ڈاکو بغیر کسی رکاوٹ کے لوگوں کو اغوا کر رہے ہیں، پولیس
ڈاکوؤں کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ حکومت نے امن کی بحالی کے لیے کوئی
کوشش نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کے حکمران اغوا انڈسٹری سے اربوں روپے کما رہے ہیں۔
اس لیے سندھ حکومت ڈاکو راج برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ عوامی تحریک کے رہنماؤں
نے مطالبہ کیا کہ ڈاکوؤں کے سرپرست قبائلی سرداروں اور سرکاری افسران کو گرفتار کیا
جائے اور ڈاکوؤں کا خاتمہ کر کے سندھ میں امن و امان قائم کیا جائے۔ معصوم
پریا کماری سمیت تمام یرغمالیوں کو فوراً آزاد کیا جائے۔