پاکستان کا چاند
پر پہلا سیٹلائٹ مشن ’آئی کیوب قمر‘
آج چین کے ہینان سپیس لانچ سائٹ سے
روانہ ہو گا۔اور اب پاکستان اپنے سیٹلائٹ سے چاند کی لی جانے والی تصاویر حاصل کرے
گا۔یہ تصاویر چین کے ڈیپ سپیس نیٹ ورک کے ذریعے ہی حاصل کی جائیں گی۔
سیٹلائٹ لانچ کرنے
کے مناظر انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر
براہ راست نشر کئے جائیں گے
پاکستان کا سیٹلائٹ
مشن تین سے چھ ماہ تک چاند کے اطراف چکر لگائے گا۔
سیٹلائٹ کی مدد سے
چاند کی سطح کی مختلف تصاویر لی جائیں گی
2022 میں چینی نیشنل سپیس ایجنسی (سی این ایس
اے) نے ایشیا پیسیفک سپیس کارپوریشن آرگنائزیشن کے ذریعے اپنے رکن ممالک کو چاند
کے مدار تک مفت پہنچنے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا۔
ایپسکو کی پیش کش
پر رکن ممالک نے اپنے پروپوزل بھیجے۔
ایپسکو کے رکن
ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش، چین، ایران، پیرو، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور ترکی
شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے انسٹی
ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی نے بھی پروپوزل جمع کرایا
8 ممالک میں سے صرف
پاکستان کی پروپوزل کو قبول کیا گیا
دو سال کی محنت کے
بعد سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ کو مکمل کیا جا سکا
چین کی شنگھائی یونیورسٹی
اور پاکستان نیشنل سپسیس ایجنسی سپارکو کے تعاون کے ساتھ اس سیٹلائٹ کا حتمی
ڈھانچہ بنایا گیا ہے