اس سال عیدالاضحٰی کے موقع پر آلائشوں کو اٹھانے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل

نزاہت خان نزاہت خان

اس سال عیدالاضحٰی کے موقع پر آلائشوں کو اٹھانے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل

کراچی وزیر  بلدیات ،ہائوسنگ ٹائون پلاننگ و پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اس سال عیدالاضحٰی کے موقع پر آلائشوں کو اٹھانے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

عیدالاضحٰی کے تین روز میں چٹکی بجاتے ہی صفائی نہیں ہوجاتی اس بات کو بھی ہمیں مدنظر رکھنا چاہیے۔ شہر میں سیوریج برساتی نالوں میں ماضی میں تبدیل ہوا ہے یہ ہماری بدقسمتی ہے تاہم موجودہ حکومت نے اس پر کام شروع کردیا ہے اور 45 بڑے نالوں میں سے 3 بڑے نالوں اور سیوریج کے علیحدہ سسٹم بنایا گیا ہے اور مزید پر کام جاری ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروگرام(KWSSI) کے تحت 1.6 ارب ڈالر سے پروگرام جاری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ اسمبلی میں ارکان کے توجہ نوٹس پر سوال کے دوران کیا۔ خاتون رکن فوزیہ حمید کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ سال عیدالاضحٰی کے 3 روز کے دوران شہر سے 1.13.500 ٹن کچرا اٹھایا گیا، جس میں سے 80 ہزار ٹن سے زائد آلائشیں شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال بھی عیدالاضحٰی کے تین روز میں آلائشوں کو اٹھانے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لئے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ اس سال 6802 گاڑیاں اور 24366 ملازمین ان تینوں دنوں میں موجود ہوں گے، اس کے علاوہ شہر میں 91 مختلف کلیکشن پوائنٹس اور 17 مقامات پر آلائشوں کو دفن کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر گلی کوچے اور مکان کے باہر سے جانور کے ذبحہ ہوتے ہی آلائشیں اٹھانا اتنا آسان نہیں ہے،  پھر بھی ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ ہم زیادہ سے آلائشوں کو فوری اٹھانے کے لیے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر محلہ میں کمیونٹی کی بنیاد پر ایک ہی جگہ پر اسپاٹ بنا کر قربانی کی جائے تو مزید آسانیاں ہوسکتی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس سال یوسی کی سطح پر کامیاب ہونے والے کونسلرز، وائس اور چیئرمین تمام اس کام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔


انہوں نے کہا کہ چٹکی بجاتے ہی صفائی ہوجائے ایسا ممکن نہیں ہے البتہ کمیونٹی ساتھ دے تو تمام کام بخوبی ہوسکتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سے یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ شہر میں آلائشوں کی کلیکشن کے 91 پوائنٹس ہیں جہاں صبح سے رات اور رات سے صبح تک کام جاری رہے گا۔



خاتون رکن کرن مسعود کے ایک توجہ دلائو نوٹس پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ برساتی نالوں میں سیوریج مکس ہوجانا ایک بڑا مسئلہ ہے اور کئی برسوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے تحت 45 جبکہ 326 چھوٹے نالے 25 ٹائون کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر یہ تمام نالے برساتی نالے ہونا تھے تاکہ بارشوں میں پانی کی فوری نکاسی ممکن ہوسکے۔ افسوس کہ آج ایسا کوئی نالہ نہیں ہے اور ماضی میں سیوریج کے نالوں کی بجائے انہی نالوں میں سیوریج شامل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معزز رکن نے جو تجویز آج کے اس توجہ دلائو نوٹس میں دی ہے اس پر پہلے سے ہی کام جاری ہے اور تین نالوں گجر نالہ، محمودآباد نالہ اور اورنگی نالے کے ساتھ سیوریج کا نظام ڈال دیا گیا ہے،


البتہ یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے تمام نالوں کے ساتھ سیوریج کا علیحدہ نظام ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا پورے نظام پر کام چل رہا پے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروگرام (KWSSI) کے تحت 1.6 ارب ڈالر سے پروگرام کا فیز 1 جاری ہے اور جلد ہی اس کا فیز 2 بھی شروع ہوجائے گا۔


ساتھ ہی نہر خیام میں بھی یہ سسٹم بنایا جارہا ہے، جس پر کام جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کے بعد ہم انشا اللہ اس بڑے مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔