سو ل سو سائٹی سپور ٹ پروگرا م (سی ایس ایس پی) کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے لئے بااختیار زندگی گزارنے کے لیے ساز گار ماحول کی تشکیل اور میر پور خا ص کے بڑے مسائل کے حوالے سے صوبائی کانفرنس کا انعقا د

صبانور صبانور

 سو ل سو سائٹی سپور ٹ پروگرا م (سی ایس ایس پی)  کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے لئے  بااختیار زندگی گزارنے کے لیے  ساز گار ماحول کی تشکیل اور میر پور خا ص کے بڑے مسائل   کے حوالے سے صوبائی کانفرنس کا انعقا د


سو ل سو سائٹی سپور ٹ پروگرا م (سی ایس ایس پی)  کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے لئے  بااختیار زندگی گزارنے کے لیے  ساز گار ماحول کی تشکیل اور میر پور خا ص کے بڑے مسائل   کے حوالے سے صوبائی کانفرنس کا انعقا د

کراچی۔سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام (سی ایس ایس پی) نے پاکستان میں این سی اے  پاکستا ن کے تعاون سے  کراچی میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے بااختیار زندگی  گزار نے کےلئے سا ز گار ماحول کی تشکیل پر صوبا ئی کا نفرنس کا انعقا کیا ۔  کانفرنس  میں    وزیر برائے ترقی نسوا ں،سیکریٹری اطلا عات سندھ ندیم الرحمن میمن ،سندھ ہیومن رائٹس کمیشن (ایس ایچ آر سی) کی چیئرپرسن  کے علا وہ  دیگر اہم افرا د شامل تھے ۔ اس موقع پر، خواتین اور لڑکیوں کے مسائل کے حوالے سے پالیسی سطح پر موجود خلا کو دور کرنے اور نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز پر غور کیا گیا۔ 

صوبائی وزیر برائے تر قی نسواں  شاہینہ شیر علی نے جی بی وی ریفرل میکانزم کو مضبوط بنانے میں مختلف محکموں کے کردار کو اجاگر کرنے کے حوالے سے سی ایس ایس پی اور این سی اے کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون کے ذریعے ہم ایک ایسا نظام بنا سکتے ہیں جو نہ صرف تحفظ فراہم کرے بلکہ سندھ بھر میں صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے متاثرین کو انصا ف فرا ہم کرے ۔صوبا ئی وزیر برائے تر قی نسواں نے  متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں، بشمول وومن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ،  محکمہ سماجی بہبود اور ایس ایچ آر سی کی جانب سے چا رٹر میں اٹھا ئے جانے والے   مطالبات  کوصوبائی سطح پر اجاگر کرنے پر سی ایس ایس پی، این سی اے، اور ڈبلیو ایل ایف اور سی ایس جی نیٹ ورکس کی کوششوں کی تعریف کی۔

اس مو قع پر سیکرٹری اطلاعات سندھ ندیم الرحمان میمن نے کہا کہ سماجی شعبہ محروم طبقا ت کی خدمت کےلئے حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔


انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز میں اپنی تعیناتیوں کے دوران انہوں نے سماجی تنظیموں کا کام قریب سے دیکھا ہے اوراب محکمہ اطلاعات سندھ کے ذریعے وہ خواتین کے لیے دستیاب قوانین اور سہولیات کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے میڈیا کو بھی صنفی آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

چیئرمین سندھ ہیومن رائٹس کمیشن، اقبال احمدڈیتھو نے کہا کہ سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام (سی ایس ایس پی) کو خواتین کے مسائل پر توجہ دینے اور میرپورخاص کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اس اہم اجلاس کے انعقاد پر سراہا جانا چاہیے۔ مزید برآں، ہم 16 روزہ سرگرمی مہم کے دوران معلوماتی پروگرام کے انعقاد کے لیے محکمہ اطلاعات کے ساتھ تعاون کی منصوبہ بندی کریں گے، جو صنفی مسائل پر شعور اجاگر کرنے اور خواتین کے حقوق کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔


سی ایس ایس پی کے ہیڈ آف پروگرامز، عبدالواحد سنگراسی نے سی ایس ایس پی کے اس عزم کا  اعا دہ کیا  کہ  جی بی وی متاثرین کو ابتدائی مدد فراہم کرنے کے لیے محکمہ تر قی نسواں میں سیف ہاؤس اور خواتین کے ہیلپ ڈیسک کا قیام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا تاکہ متاثرین کو بروقت اور مؤثر مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی متاثرہ شخص حفاظت اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ محسوس نہ کرے۔ قانونی مشیر  برائے ایس ایچ آر سی ردا زہرہ نے ایس جی بی وی متاثرین کے لیے موجودہ ریفرل پاتھ ویز اور مفت قانونی امداد کے نظام کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی اور نفسیاتی مدد کے نظام میں متاثرین کے لیے قابل رسائی اور معتبر وسائل کی اہمیت ہے۔پروگرام کوآرڈینیٹر این سی اے، عالیہ یوسف طاہر  نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشاورتی مکالمے میں شرکت کی اور صنفی شمولیت والے معاشرے کے قیام کے لیے تجاویز پیش کیں۔