سندھیانی تحریک کے رہنماؤں کا ضلع ٹنڈو الہیار کا دورہ، سرکاری زمینیں کمپنیوں کے بجائے بے زمین ہاریوں اور کسان خواتین کو دینے کا مطالبہ

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

 سندھیانی تحریک کے رہنماؤں کا ضلع ٹنڈو الہیار کا دورہ، سرکاری زمینیں کمپنیوں کے بجائے بے زمین ہاریوں اور کسان خواتین کو دینے کا مطالبہ

. 




ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھ کا پانی کمپنیوں کو فروخت کیا جائے گا، سندھیانی تحریک



جرگوں کو فروغ دے کر غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کیسز میں اضافہ کیا گیا ہے، سندھیانی تحریک


قبائلی سرداروں اور ڈاکوؤں کو مضبوط بنا کر سندھ میں بدامنی کا راج قائم کیا گیا ہے، سندھیانی تحریک



گھریلو ہنر کو فروغ دے کر سندھ کی خواتین کو روزگار فراہم کرنے کے لیے صنعتیں قائم کی جائیں، سندھیانی تحریک


ٹنڈو الہیار  سندھیانی تحریک کی مرکزی رابطہ سیکریٹری ایڈووکیٹ کائنات ڈاہری، مرکزی لیگل سیکریٹری ایڈووکیٹ سورٹھ منگنہار، مرکزی رہنما خوشبو کیڑانو، عوامی تحریک کے مرکزی رہنما عبدالرحمٰن سموں، مظہر میرجت اور خلیل اوٹھو نے ٹنڈو الہیار، چمبڑ، خیر محمد جروار، اور بہار میر جت سمیت ٹنڈو الہیار ضلع کے مختلف دیہات کا دورہ کیا اور کارنر میٹنگز منعقد کیں۔ 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ اتحادی حکومت کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سارا ملک بیچ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت بنانے کی لالچ میں سندھ کے تمام وسائل فروخت کر دیے ہیں۔ سندھ کی زمینیں، دریائے سندھ، جزائر، تیل، کوئلہ، گیس، سب کچھ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کوڑوں کے دام پر بیچ دیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ چھ نئے کینال کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف سندھ کی زمینیں فوج سے منسلک کمپنیوں کو دی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھ کا پانی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ 

صدر زرداری نے چھ نئے کینالز کی منظوری دے کر صدارتی ہاؤس کو سندھ کے خلاف استعمال کیا ہے۔ کینال بنانے کے یہ صدارتی احکامات ملک کے خلاف سازش ہیں۔ 


انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے کینالز کے منصوبے فوری طور پر ختم کیے جائیں اور سرکاری زمینیں کمپنیوں کے بجائے مقامی بے زمین ہاریوں اور کسان خواتین کو دی جائیں۔ گھریلو ہنر کو فروغ دے کر سندھ کی خواتین کو روزگار فراہم کرنے کے لیے صنعتیں قائم کی جائیں۔ 


رہنماؤں نے مزید کہا کہ جرگوں کو فروغ دے کر غیرت کے نام پر خواتین کے قتلام میں اضافہ کیا گیا ہے۔ قبائلی سرداروں اور ڈاکوؤں کو مضبوط بنا کر سندھ میں بدامنی کا راج قائم کیا گیا ہے۔ 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکوؤں اور جرگے کرنے والے قبائلی سرداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ڈاکوؤں کے خلاف مؤثر آپریشن کر کے اغوا انڈسٹری ختم کی جائے۔ ساتھ ہی قبائلی جرگوں پر پابندی لگائی جائے اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔