کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی اہم پریس کانفرنس، چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنماؤں سندھ حکومت پر برس پڑے

صبانور صبانور

 کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی اہم پریس کانفرنس، چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنماؤں سندھ حکومت پر برس پڑے


کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی اہم پریس کانفرنس، چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنماؤں سندھ حکومت پر برس پڑے،،

خالد مقبول بولے بلاول بھٹو نے تاجروں سے دھمکی آمیز لہجہ اخیتارکیا ۔ مصطفیٰ کمال بولے بھتہ خوری کے الزامات لگا کرکراچی کے تاجروں کو دبایا جا رہا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار نے زمینوں پر قبضے کا معاملہ اٹھایا۔ 

ایم کیو ایم پاکستان کی سندھ حکومت کی کارکردگ پر پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید 


کنوینئر ایم کیو ایم ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے شہری علاقے بدترین حالات کا شکار ہیں۔ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں سندھ میں مصنوعی اکثریت کی حکومت ہے، بھتہ خوری اب سرکاری دفاترمیں منتقل ہوچکی ، بلاول سے تاجروں کی ملاقات پر بھی اعتراض کیا



مصطفیٰ کمال نے بھی سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جن تاجروں کو بلایا گیا، انہیں دھمکی دی گئی کہ وہ بھتہ خوری کی شکایت نہ کریں۔ 15 سالوں سے برسر اقتدار لوگ کراچی کو اس کے حقوق دینے میں ناکام رہے ہیں۔ نئے صوبے بنانے سے روکنے کا واحد راستہ 27ویں آئینی ترمیم کوقبول کرنا ہے۔


ڈاکٹر فاروق ستار کا کہناتھا کہ 15 16 سالوں سے تاجروں، صنعتکاروں اور بلڈرز کی زمینوں پر تیزی سے قبضہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی کوششوں سے کے فور منصوبہ 2026 میں مکمل ہوگا، لیکن سندھ حکومت کو اس بارے میں کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم پر مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی بھی متفق ہیں۔


ایم کیو ایم رہنماؤں کا کہنا تھا اگر کراچی کو اس کے حقوق نہ دیے گئے تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو تنبیہ کی کہ وہ کراچی کے مسائل کو سنجیدگی سے لے، ورنہ عوامی ردعمل کے لیے تیار رہے۔