کراچی میں وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے ٹیڈاپ کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی پیش ہوئے۔ عدالت نے یوسف رضا گیلانی کی مقدمات میں بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو بری کردیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک دلائل جمع کرواچکے تھے۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان پر فریٹ سبسڈی کی مد میں قومی خزانے کو 6 ارب سے زائد نقصان پہنچانے کا الزام تھا۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کیس کا وعدہ معاف گواہ آج ملزم ہے اورملک سےفرار ہے۔ میں ہمیشہ قانون کے مطابق چلا ہوں۔ مجھ پر کیس بنانے والے ہماری اتحادی حکومت کا حصہ ہیں۔ جو بھی کام کرتا ہوں آئین کے مطابق کرتا ہوں۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں نے ایک معزز رکن سینٹ کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے تھے۔ معزز رکن سینٹ کا آئینی حق ہے کہ وہ سیشن میں آئے۔ کل جس معزز رکن سینٹ کو گرفتار کیا گیا ہے اسے بھی سینٹ میں لایا جائے۔ نہروں کا معاملہ میرٹ پر حل ہونا چاہیئے۔ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ کسی ایک گواہ نے بھی یوسف رضا گیلانی کا نام نہیں لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ گیلانی صاحب آج سرخرو ہیں۔ اس وقت کی حکومت نے جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔ 2009 میں مقدمات دائر ہوئے تھے۔ 2013 سے کیس چل رہا ہے، آج 12 سال بعد فیصلہ آیا۔ جھوٹے کیسز کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ 26 کیسز ایک ساتھ بنا دیئے گئے تھے۔ یوسف رضا گیلانی پر اپنے اسسٹنٹ کے ذریعے 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام لگایا گیا تھا یہ کیس 2013 سے چل رہاہے 26 کیسسز رجسٹرڈ کئے گئے تھے
جس میں آج تین کا فیصلہ ہواہے23 کیس ابھی بھی باقی ہی یہ ایک جھوٹا کیس اس وقت کی حکومت نے بنایا تھا اس طرح کے جھوٹے کیسسز بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔