اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ
پارلیمان کے نئے سال کے آغاز پر سب اراکین کو خوش
آمدید کہوں گا
8ویں بار پارلیمان سے خطاب کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں،
ہمیں ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے ہیں
ملک میں گڈ گورننس کو یقینی بنانا ہے،صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہناتھاکہ
ہمیں پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے عزم کیساتھ کام کرنا ہے،
عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کیلئے ایوان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
ہمیں ملک میں سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے
روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہیں،قانون کی حکمران کو یقینی بنانا ہے
ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے،
مثبت راستے پر چلنے کیلئے حکومتی اقدامات قابل تحسین ہیں،
اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،
معاشی ترقی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے،
حکومت کی کچھ یکطرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ
کا باعث بن رہی ہیں،
حکومت کا دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنا یکطرفہ فیصلہ ہے،
دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کی تجویز کی بطور صدر حمایت نہیں کر سکتا،
حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نہریں نکالنے کی تجویز کو ترک کرے،
وفاق تمام اسٹیک ہولڈرزاور اکائیوں کے اتفاق رائے سے پائیدار حل نکالے،
دوست ممالک کیساتھ تجارت ،معیشت ،ثقافت اور دیگرشعبوں میں تعاون بڑھا نا ہے
ہم ایک ذمہ داری اور امن پسند قوم کی حیثیت سے اپناکردار ادا کرتے رہیں،
اندورنی اور بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے استعداد کو مزید بہتربنانا ہوگا،
دہشتگردی کیخلاف قانون نافذ کرے والے ادارو ں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،
ملک میں ٹیکس نظام کو بہتر بنانا ہوگا ،
ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ میں اصلاحات اور توسیع کرنی چاہیے، صدر مملکت نے کہا کہ
پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے
قابل قدر اشیا اور خدمات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے،
ہمیں اپنی آئی ٹی انڈسٹری کو معاشی ترقی کا کلیدی محرک بنانا ہوگا،
ہمیں ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے،
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے،
ہمیں قرضوں تک رسائی، طریقہ کار اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا،
ایسی پالیسیاں بنانا ہوں گی جو نوجوانوں کے شروع کردہ کاروبار کو فروغ دیں،
ہمیں نوجوانوں کو سپورٹ کرتے ہوئے کاروبار کی طرح مبذول کرنا ہے
ایوان کاروبار میں آسانی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے،
پاکستان کواندورنی اور بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک پرکشش مقام بنانا چاہیے،
آج عام آدمی، مزدور اور تنخواہ دار طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے،
شہری مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں سے پریشان ہیں،
عوام توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں،
حکومت پر زور دیتا ہوں کہ اگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں، صدر مملکت کا کہنا تھاکہ
حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کیلئے اقدامات کرے،
حکومت تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کم کرے
حکومت کو توانائی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں،
ہمیں ملازمتوں میں کمی سے بچنا چاہیے،
ہمیں نوکریاں پیدا کرنی ہیں اورتربیت یافتہ افرادی قوت پر توجہ موکوز کرنی ہے،
خواتین کی زندگی کے ہر شعبے میں نمائندگی کم ہے،
مختلف شعبوں میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھا کر انہیں بااختیار بنانا ضروری ہے،
حکومت اور پارلیمنٹ بینظیر بھٹو کے ویژن کے مطابق خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنائے،
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لاکھوں خاندانوں کیلئے ایک اہم لائف لائن ہے،
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رسائی اور رقم کو مزید بڑھانا چاہیے،
نوجوان ہماری موجودہ آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں،
نوجوانوں کو امید اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے،
یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان میں بچے اسکولوں سے باہر نہ ہوں،
معیشت کی تعمیر کیلئے اعلیٰ تعلیم کا فروغ اور تحقیق بنیادی ترجیح ہونی چاہیے،
وفاق اور صوبائی حکومتیں تعلیمی شعبے کیلئے میکرو لیول پر مختص رقم میں اضافہ کریں،
اسکالرشپس اور مالی امداد کے پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کو مزید مواقع فراہم کریں،
شہریوں کیلئے معیاری صحت تک رسائی بڑھانے پر غورکرنا ہوگا،
بچوں میں غذائیت کی کمی اور پولیو کے تشویشناک واقعات کو کم کرنا ہوگا،
بنیادی صحت کی سہولیات پر توجہ دی جانی چاہیے،
ملکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کیلئےبنیادی حیثیت کے حامل ہیں،
ہمیں ایک مضبوط اور موثر ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچراور جدید ریلوے کی ضرورت ہے،
گلگت بلتستان ،بلوچستان روابط اور ترقی کے حوالے سے خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں،
بلوچستان اور گلگت بلتستان پاکستان کی ا سٹریٹجک سرحدیں ہیں،
بلوچستان اور گلگت بلتستان ہماری قومی معیشت کیلئے ناگزیر ہیں،
بلوچستان اور گلگت بلتستان پر توجہ سے غربت میں کمی آئے گی،
سی پیک اور گوادر پورٹ روابط اور مواصلات کے ویژن میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ زراعت کے شعبے کو مستحکم بنائیں،
پانی کے پائیدار انتظام، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات ضروری ہیں،
زراعت ہماری معیشت کا ایک اہم ستون ہے،
زرعی شعبے میں جدید طریقے، بہتر بیج کی تیاری کی ضرورت ہے ،
زرعی تحقیق ، ترقی میں سرمایہ کاری اور زمین کو زیادہ پیداواری بنا کر روزگار کے مواقع پیدا کریں،
خوراک کی پیداوار میں استحکام اور خود کفالت ہمارا نصب العین ہونا چاہیے،
ہمیں پانی کی زیادہ دستیابی اور اس کے موثر استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،
پانی کی دستیابی کیلئے تاجکستان سے بلوچستان تک پانی لانے جیسے نئے حل پر کام کرنا چاہیے،
صدر مملکت کا آبپاشی کے نظام کو اپ گریڈ کرنے اور نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور
ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے،
پاکستان کے دریاؤں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کیلئے مواقع موجود ہیں،
کمرشل سطح مویشی پالنے سے روزگار اور برآمدات کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں،
حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ نوجوانوں کو مراعات، تربیت اور مدد فراہم کرے،
ماہی گیری اور مویشی بانی کی صنعتوں کو ہمارے معاشی مستقبل کا ایک اہم حصہ بنانا چاہیے،
حکومت ماہی گیری اور مویشی بانی میں چین کیساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کی کوشش کرے،
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے،
ہمیں حیاتیاتی تنوع کی بحالی، تحفظ خوراک اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے،
قابل تجدید توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے،
سندھ کے مینگرووز ایک روشن مثال ہیں کہ تحفظ کی کوششوں سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے،
مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سندھ میں ہم نے 2 ارب مینگرووز لگائے ہیں،
مینگروز سے سندھ حکومت کو کاربن کریڈٹ کے ذریعے خاطر خواہ مالی فوائد بھی حاصل ہوئے،
ہمیں سندھ کے مینگروز ماڈل کو فعال طور پر نقل کرنا چاہیے ،
ہمیں بین الاقوامی کاربن کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہیے،
دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ا ستعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،
اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر صلاحیتوں کو مضبوط بنانےکی ضرورت ہے
سیاسی لوگوں کو دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہے
ن لیگ کے دور میں نواز شریف نے تمام لوگوں کو فورسز کے پیچھے کھڑا کیا
کوئٹہ ہو،کراچی ہو یا فاٹا ،ن لیگ کے دور میں دہشت گردی ختم ہوئی تھی،
ابھی بھی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سب کو ساتھ لے کرچلیں،
اگر کوئی دہشت گردی کیخلاف ساتھ نہیں چلتاتو وہ قوم کا مجرم ہے،
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز نے جانیں قربان کیں،
دہشتگردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے،