انسداد دہشتگردی عدالت نے
مصطفی عامر قتل کیس
کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا
ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں سات یوم کی توسیع کی استدعا کی گئی، تحریری حکم نامہ کے مطابق
تفتیشی افسر کے مطابق ملزم ارمغان نے قتل کے بعد والد کو آگاہ کیا تھا،
تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کے والد نے ملزم کو روپوش ہونے کا مشورہ دیا،
روپوشی کے بعد سافٹ ویئر ہاؤس کو بھی کراچی سے باہر منتقل کرنے کا ارادہ تھا،
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم سے برآمد اشیاء کی فارنسک کے لئے ایس ایس پی جنوبی کو خط تحریر کیا ہے،
پراسیکیوٹر نے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی،
پراسیکیوٹ نے کہا کہ مزید ریمانڈ کی صورت میں مزید شواہد کی دستیابی ممکن ہے،
وکلائے صفائی نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کی،
وکیل صفائی نے کہا کہ تیس روز گزرنے کے باوجود پولیس نے چالان پیش نہیں کیا ہے،
عدالت نے ملزم ارمغان سے پوچھا کہ کیا آپ پر تشدد کیا گیا ہے؟
ملزم نے عدالتی استفسار پر پر مثبت جواب نہیں دیا،
انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت نوے روز تک ریمانڈ دیا جاسکتا ہے،
پولیس کسٹڈی کے دوران مزید شواہد ملنے کا بھی امکان ہے،
ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں سات یوم کی توسیع کی جاتی ہے،
وکیل صفائی کی چالان پیش کرنے کی درخواست دائر کی گئی،
وکیل صفائی کی چالان پیش کرنے کی درخواست کی سماعت 18 مارچ کو ہوگی،
وکیل صفائی کی والدین سے ملزم کی ملاقات کی درخواست پر کمرہ عدالت میں پانچ منٹ کی ملاقات کی اجازت دی گئی،