پہلگام حملہ، ہندوستان اور پاکستان کی جنگ اختلافات۔ جھگڑے اور سندھ طاس معاہدہ ؟

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

پہلگام حملہ، ہندوستان اور پاکستان کی جنگ  اختلافات۔ جھگڑے اور سندھ طاس معاہدہ ؟

پہلگام حملہ، ہندوستان اور پاکستان کی جنگ  اختلافات۔ جھگڑے اور سندھ طاس معاہدہ ؟


پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات  ہمیشہ سےتنازعات اور اختلافات کی نذر ہوتے دیکھائی دیتےہیں۔دونوں پڑوسی ممالک کبھی سرد تو کبھی گرم رویوں کا شکار رہتے ہیں ۔ حکومتوں کے اختلافات تنازعات عوامی رشتوں پر کبھی بھی مکمل طور پر اثر انداز نہیں رہےہیں ۔ مصالحت مفاہمت کے بعد شدت ، بائیکاٹ اور انتہائی اقدام کی وجہ سے یہ دونوں ممالک خطے میں  کبھی خوشگوار تبدیلی اور کبھی دشوار گزار دو راہے پر نظر آتےہیں۔

پہلگام حملہ 

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کےسیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کیاگیا ۔ جس میں تقریبا 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

یہ حملہ جس مقام پرکیا گیا ہے وہ پہلگام کی پہاڑیوں میں واقع ہے۔ یہاں ہندوئوں کے مقدس مقام امرناتھ غار کی طرف جانے والے راستے پر ہے ۔خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ شاید آنے والے یاتریوں کی تعداد کم ہوجائے لوگ میں خوف اور بے یقینی کی کیفیت پھیل گئی ۔

پہلگام حملے کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے بڑے اخبار کے صفحات کو سیاہ رنگ میں شائع کیا گیا 

پہلگام حملے بعد پاکستان اورانڈیا  کی صورتحال 

ہندوستان نے کشمیر پر حملے کے بعد پاکستان سے سندھ طاس معاہد معطل کردیا اور اٹاری چیک پوسٹ بند کرنے اعلان کیاہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو سارک کے تحت ویزے بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ تمام پاکستانیوں کے بھارتی ویزے کینسل کیے جارہے ہیں۔ بھارت میں موجود پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان 19 ستمبر 1960ء میں دریائے سندھ اور دوسرے دریاوں کا پانی منصفانہ طور پر حصہ داری کا معاہدہ ہوا، جو سندھ طاس معاہدہ کہلاتا ہے۔

انڈیا اور پاکستان نے دریائے سندھ اور معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں نو برس کے مذاکرات کے بعد ستمبر 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا تھا۔

اس وقت انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے کاشتکاروں کے لیے خوشحالی لائے گا اور امن، خیر سگالی اور دوستی کا ضامن ہو گا۔

دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 65 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔

اس معاہدے کے تحت انڈیا کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر مکمل جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔