بوتراب اسکاؤٹس۔۔۔ کراچی کا ایک فعال اور رضاکارانہ ادارہ۔۔۔

عرفان علی عرفان علی

بوتراب اسکاؤٹس۔۔۔ کراچی کا ایک فعال اور رضاکارانہ ادارہ۔۔۔


محرم الحرام کے دوران کراچی میں جلوسوں اور مجالس کے دوران جہاں سیکیورٹی اور نظم و ضبط ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے،وہیں اسکاؤٹس کے نوجوان رضا کار ایک منظم نظام کے تحت اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ بوتراب اسکاؤٹس انہی گروپس میں شامل ہے جو ہر سال خدمت اور ایثار کی نئی مثال قائم کرتا ہے۔

بوتراب اسکاؤٹس۔۔۔ کراچی کا ایک فعال اور رضاکارانہ ادارہ۔۔۔

جو ہر سال محرم الحرام میں سیکیورٹی، طبی امداد اور ٹریفک کنٹرول میں انتظامیہ کا ہاتھ بٹاتا ہے۔

جلوس کی قیادت سے لے کر عوامی رہنمائی تک۔۔۔ یہ نوجوان ہر سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔


سجاد حیدر ، گروپ اسکاؤٹ لیڈر ۔۔۔ اسکاؤٹس کے ذہنی جسمانی اور روحانی نشوونما کو اہمیت دیتے ہیں ، اسکاؤٹس کو فرسٹ ایڈ کی تربیت فراہم کرتے ہیں کہ اگر حادثہ ہو جائے تو کیسے طبی امداد دی جاتی ہے انکو فائر فائٹنگ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ بھی کورسز کرواتے ہیں مختلف وقتوں میں 


1952 میں قائم ہونے والی بوتراب اسکاؤٹس، آج ایک متحرک ادارے میں بدل چکی ہے۔

جس کے ہزاروں رضا کار نہ صرف محرم بلکہ سال بھر سماجی اور مذہبی تقریبات میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔

کئی اسکاؤٹس نے خدمت کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے، جو اس مشن کی سنجیدگی کا ثبوت ہے۔

کورونا وبا کے دوران انہی اسکاؤٹس نے فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر خدمات انجام دیں۔


واجد حسین ، سینئیر اسکاؤٹ ۔۔۔ بارہ سال کہ عمر میں ادارہ جوائن کیا خدمت انسانیت سے سرشار ہوکر خدمت انجام دے رہے ہیں 


کاظم مہدی ، میڈیکل ٹیم ممبر ۔۔۔ کراچی کے مختلف علاقوں کے امام بارگاہ ہوگئے مذہبی مقامات ہوگئے کرونا وبا کے دوران اسپرے سمیت وہ تمام چیزیں کی ہیں جو اس سے بچاؤ کےلئے تھیں

یہ ادارہ نوجوانوں کو نہ صرف نظم و ضبط، بلکہ ریڈ کراس، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور کمیونٹی سروس کی عملی تربیت بھی دیتا ہے۔

بوتراب اسکاؤٹس کے پلیٹ فارم پر خواتین بھی سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔

 سیدہ حدیبیہ ، اسسٹنٹ انچارج ۔۔۔ یہاں پر ہمارا مقصد نظم و ضبط قائم کرنا ہے ہم یقینی بناتے ہیں کہ ہماری ذاتی سے یا کسی کی بھی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ ہو کیونکہ آپ کو نہیں پتہ کونسی مصبیت کب کس طریقے سے آسکتی ہے

اسکاؤٹنگ اب صرف نوجوانوں تک محدود نہیں۔۔۔

کم عمر بچے سے لے کر بزرگ تک، ہر فرد اس مشن کا حصہ بننے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔