آج کے اس واقعہ میں مجھے اس عورت کے بے بسی نے ڈیپلی ہرٹ کیا ہے۔ آمنہ شفیع

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

آج کے اس واقعہ میں مجھے اس عورت کے بے بسی نے ڈیپلی ہرٹ کیا ہے۔  آمنہ شفیع

آج کے اس واقعہ میں مجھے اس عورت کے بے بسی نے ڈیپلی ہرٹ کیا ہے۔

آمنہ شفیع 

بلوچستان میں گھر چھوڑ کر پسند کی شادی کرنے والے خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔

واقعہ کچھ یوں تھا کہ بلوچستان کے سنگلاخ، خشک پہاڑوں کے درمیان چند گاڑیاں کھڑی تھیں۔ درجنوں مسلح مردوں کے بیچ ایک نہتی لڑکی پورے حواس کے ساتھ کھڑی تھی۔اس کا جرم تھا پسند کی شادی کرنا۔ ھجوم نے اُس کے قتل کا فیصلہ سنا دیا تھا ۔

موت کو سامنے دیکھ کر بھی اُس کی آنکھ نہ بھیگی، اُس کے ہونٹوں سے کوئی چیخ نہ نکلی، اُس نے نہ زندگی کی بھیک مانگی، نہ خوف دکھایا۔ وہ مضبوط قدموں سے آگے بڑھی، اُس کے پاؤں ذرا نہ لڑکھڑائے۔ اپنی ہی مرضی سے قتل گاہ کی طرف بڑھتے ہوئے اُس نے کہا:

"سم نا اجازت اے نمے بین ہچ اف"

یعنی تمہیں صرف گولی چلانے کی اجازت ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔

اُسے ذرا آگے لے جایا گیا۔ ایک باریش شخص نے مجمعے کو، جو موبائل فون نکال کر ویڈیو بنا رہا تھا، انگلی ہونٹوں پر رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر ایک دوسرا آدمی بلند آواز میں گولی چلانے کا حکم دیتا ہے۔ بندوقیں اٹھتی ہیں، فائر کھلتا ہے۔

گولیاں لگنے کے باوجود وہ چند لمحے اپنی جگہ کھڑی رہتی ہے۔ پھر جب اُس کی سانس ٹوٹتی ہے تو وہ بنجر زمین پر گرتی ہے اور وہ سنگلاخ زمین اُس کے خون سے تر ہو جاتی ہے۔

اُس قتل گاہ سے کسی نے کہا کہ اُس کے ہاتھ سے قرآن چھین لو۔ قرآن اُس کے ہاتھ سے چھین تو لیا گیا، مگر کاش اُسی قرآن کو چند لمحے پڑھ کر سمجھ لیتے، تو شاید وہ خدا کی زمین پر دو انسانوں کو صرف اپنی مرضی سے شادی کرنے کے جرم میں یوں موت کے گھاٹ نہ اتارتے۔